وزیر اعظم صاحب! قوم بالکل بھی ناسمجھ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل وزیراعظم پاکستان جلوزئی (پشاور) میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”جزا و سزا کا تصور نہ ہو تو نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی کا مطلب بار بار سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو پاکستان میں لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ طاقتور لوگ قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتے، پی ڈی ایم جیسا اتحاد بنا لیتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ چوری کریں، ڈاکے ماریں اور منی لانڈرنگ کریں پھر بھی کوئی انہیں نہ پکڑے“ ۔

وزیراعظم صاحب! پاکستان کے عوام ناسمجھ نہیں بلکہ بہت زیادہ باشعور اور ہر اچھی بری بات کا خوب ادراک رکھتے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ آپ سے پہلے پاکستان میں حکومتیں کرنے والے سارے عسکری اور غیر عسکری حکمرانوں کی حکمرانی، ان کی لوٹ مار، ملک کو ہر سطح سے نقصان پہنچانے، ملک میں نفرتیں بڑھانے اور پاکستانی قوم کے دلوں میں ایک دوسرے کی جانب سے نفرتوں کے بیج بونے سے لے کر تناور جھاڑ جھنکار بننے تک کے سارے مراحل بھگتنے کے بعد ان کو رد کر کے اور ان سے باغی ہو کر آپ کو کرسی اقتدار پر اس لئے لے کر آئے تھے کہ ان کو آپ یعنی پی ٹی آئی کی صورت میں ایک ایسا نجات دہندہ دکھائی دے رہا تھا جو ان کو ناانصافی کے بھنور سے نکال کر انصاف کے ساحل تک لانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

جن جن ظالموں نے ملک کی دولت کو چاروں ہاتھوں پیروں سے لوٹا ہے، واپس لے کر آئے گا۔ قومی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔ معیشت کو استحکام دے گا۔ مہنگائی کے آگے نہ صرف بند باندھے گا بلکہ اس منہ زور گھوڑے کے منہ میں لگام ڈال کر ہی دم لے گا۔ آپ کی پالیسیاں ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گی۔ روزگار کے اتنے مواقع نکلیں گے کہ ہر فرد اور ہر خاندان خوشحال ہو جائے گا۔ وہ پاکستانی جو بیرونی ممالک میں غربت اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہ نہ صرف پاکستان کی جانب لوٹ کر آنا شروع ہو جائیں گے بلکہ غیر ملکی افراد بھی پاکستان کی جانب دوڑ دوڑ کر آئیں گے اور عالم یہ ہو گا کہ زمین سونا اگلنے لگے گی اور آسمان سے من و سلویٰ کی بارش برسا کرے گی۔ اگر بقول آپ کے، عوام ناسمجھ ہوتے تو وہ اپنے سے پہلے تمام وہ گروہ جو پاکستان کی کرسی اقتدار پر متمکن رہے، ان کو رد کر کے آپ کے پیچھے کیوں ہو لیتے۔

آپ نے اپنی 22 سالہ جد و جہد اور خاص طور سے 126 دنوں کے دھرنے کے دوران عوام کو جو جو کچھ بھی سمجھایا، عوام نے اسے خوب سمجھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ پایۂ تخت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ عام لوگ ہی نہیں، پاکستان کے مقتدر حلقے بھی اس بات کے قائل تھے کہ آپ اقتدار میں آنے سے قبل جو جو باتیں عوام کو سمجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں وہ سب آپ کےدعوؤں کے مطابق پوری ہو کر رہیں گی کیونکہ ان کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ آپ کے پاس ایسے قابل افراد اور ہر شعبہ زندگی سے متعلق ماہرین کی ٹیم موجود ہے جو ملک کی تقدیر بدل دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم صاحب! اگر یہ قوم سمجھ دار نہ ہوتی تو وہ کبھی باری باری کرسی اقتدار پر براجمان ہوتے رہنے والوں میں سے پھر کسی ایک کا انتخاب کر لیتی اور جس طرح پاکستان گھسٹ گھسٹ کر آگے کی جانب کھسک رہا تھا، کھسکتا رہتا۔ آپ کو منتخب کرنا، اپنے لئے نجات کی کوئی سبیل نکالنا اور دکھائے گئے خوابوں کے حقیقت کا روپ دھارنے کی تمنائیں آنکھوں میں سجا کر آپ اور پی ٹی آئی کو اقتدار کی منزل تک لانا عوامی شعور کی اتنی واضح دلیل کے باوجود جب آپ ہی کے منہ سے عوام یہ سن رہے ہوں گے کہ آپ لوگوں کو آئین و قانون کی بالا دستی کا مطلب سمجھانے کی کوشش پر کوشش کیے جا رہے ہیں لیکن عوام ہیں کہ آپ کی بات کو سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں تو ان کو کتنا دکھ ہو رہا ہو گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمرانوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عوام کو ہر ہر بات کی آگاہی دیں لیکن حکمران وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کسی بھی معاملے میں بے دست و پا محسوس نہ کرتا ہو۔ آپ ہر قسم کے مافیاؤں کا ذکر تو کیے جائیں لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کر سکیں۔ ملک کے چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور غداروں کے مضبوط ہونے کا رونا تو روئیں لیکن ان کے ہاتھ پاؤں توڑ کر رکھ دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہوں۔ آپ طاقت وروں کی منہ زوری کا تذکرہ تو کریں لیکن ان سے ٹکرانے کی ہمت کرتے نظر نہ آئیں اور دو کیا، قدم قدم پر ہر ایک کا الگ پاکستان تو دیکھتے جائیں لیکن ایسی سوچیں ختم کر کے ایک پاکستان، پورے پاکستان میں کہیں بھی قائم کرنے میں کامیاب نظر نہ آتے ہوں تو عوامی تائید کو اپنے حق میں کیسے ہموار کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم صاحب! نہ تو آپ مہنگائی کے جن کو قابو کر سکیں، نہ روزگار کے مواقع بڑھا سکیں، نہ لاء انفورسمنٹ ایجنسیز میں کوئی اصلاح لا سکیں، نہ لوگوں کی مشکلات میں کمی واقع کر سکیں اور نہ ہی قوم سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری آپ کے مسلک میں شامل ہو تو عوام کو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کتنا ہی سمجھانے کی کوشش کرتے رہیں، قول سے عمل خلاف ہو گا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ ”سمجھ دار“ عوام کو مزید سمجھ دار بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔

آپ کہتے ہیں کہ بینک غریبوں کو لون کیوں جاری نہیں کرتے تو کیا یہی سوال عوام آپ کی حکومت سے نہیں کر سکتے کہ حکومت خود مکان بنا کر غریبوں کو کیوں دینے کے لئے تیار نہیں؟ کوئی بھی قرض دینے والا قرض کی وصولی کا یقین ہوئے بغیر کیسے کسی کو قرض دے سکتا ہے لہٰذا یا تو بینکوں سے خود قرضہ لے کر عوام کو مکانات بنا کر دیں یا سستا گھر کے لولی پاپوں کی کہانی کا باب بند کریں۔

بہلائیں نہیں بلکہ اب اپنے اقتدار کی باقی ماندہ آئینی مدت کے اندر اندر کچھ کر کے دکھائیں کہ حکمران کی اصل زبان منہ سے نکلے ہوئے الفاظ نہیں، نظر آنے والے کام ہوا کرتے ہیں جو اب تک عوام کو پاکستان میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *