اسلام آباد کے فلائی اوورز: پیشہ ورانہ نا اہلی یا بد دیانتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے ترقی یافتہ دور میں بڑے شہروں میں سڑکوں پر ٹریفک کا حجم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ٹریفک انجینیئرنگ باقاعدہ ایک مضمون کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ تعمیرات اور سائنٹیفک ایجادات کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹریفک کو رواں رکھا جا رہا ہے۔ ٹریفک کے سدھار اور روانی کے لئے فلائی اوورز کا بنایا جانا ایک بنیادی ضرورت ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں بہت پہلے سے ٹریفک کا دباؤ اتنا بڑھ گیا تھا کہ فلائی اوورز بن جانے چاہیے تھے۔ بہرحال فیض آباد چوک پر ٹریفک کا دباؤ اس حد تک بڑھا کہ فلائی اوور بناتے ہی بنی۔ دارالحکومت کے پہلے فلائی اوور کی تعمیر 1998 میں مکمل ہوئی۔ اس فلائی اوور کی تعمیر سے فیض آباد کے چوراہے سے گزرنے والی ٹریفک میں روانی آ گئی اور عوام کو وقت کی بچت کے علاوہ ذہنی سکون اور اچھی سہولت میسر آئی۔

فیض آباد کے مقام پر پیر ودھائی، راولپنڈی، لاہور اور مری و مظفرآباد جانے اور آنے والی ٹریفک کا دباؤ تھا جو اس فلائی اوور کی تعمیر کے بعد بہتر ہوا مگر اس میں نقص یہ رہ گیا کہ مری و مظفرآباد سے آنے والی ٹریفک جو زیادہ تر پیر ودھائی کی طرف جاتی ہے، کے لئے کوئی راستہ نہ رکھا گیا اور ٹریفک کے اس قابل ذکر حجم سے جس میں مری و آدھے آزاد کشمیر کی ٹریفک شامل ہے، صرف نظر کرتے ہوئے اسے لاہور روڈ پر دھکیل دیا گیا جو کچھ فاصلے تک جا کر دائیں طرف یوٹرن لے کر پیر ودھائی کی طرف مڑ ہو جاتی۔

اب لاہور روڈ پر لاہور جانے والی اور لوکل ٹریفک کا اپنا حجم اتنا زیادہ ہے کہ پیر ودھائی جانے والی ٹریفک نہ صرف اس حجم کو بڑھاتی بلکہ بے ہنگم طریقے سے یوٹرن لینے کے لئے انتہائی بائیں جانب سے انتہائی دائیں جانب آتی جس سے سیدھا جانے والی ٹریفک میں رخنہ اندازی بھی ہوتی اور ٹریفک جام بھی ہو جاتا۔ بائیس برس عوام نے فلائی اوور کی تعمیر کے باوجود اس اذیت کو جھیلا اور پچھلے سال کثیر رقم خرچ کر کے ایک اور اوور ہیڈ پل بنایا گیا جس پر آزاد کشمیر والی ٹریفک کو گزار کر یو ٹرن لینے کی زخمت سے بچایا گیا۔ اب یہ ٹریفک بائیں جانب رہتے ہوئے ہی اوور ہیڈ پل تک جا پہنچتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بھول چوک سے یہ غلطی سرزد ہوئی یا اسے نا اہلی کہیں یا پیشہ ورانہ بدیانتی؟ اتنے بڑے منصوبے میں بھول چوک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ چیک اور کاؤنٹر چیک ہوتے ہیں۔ نااہلی ہو نہیں سکتی کیونکہ عام فہم بات ایک عام آدمی سمجھ سکتا ہے تو پراجیکٹ کو ڈیزائن کرنے والے ماہر فن ہوتے ہیں اور پاس کرنے والے بھی تکنیکی علم کے ماہر ہوتے ہیں۔ اب ایک ہی امکان رہ جاتا ہے کہ مری و مظفرآباد سے آنے والی ٹریفک کو فلائی اوور پر سے ایگزٹ نہ دینے پر سمجھوتا ہو گیا ہو گا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ قوم کا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود بائیس سال عوام نے جو اذیت سہی اور نئے اوور ہیڈ پل کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات کا ذمہ دار کون ہو گا؟

فیض آباد سے فیصل ایوینیو پر چھ کلومیٹر شمال کی سمت جائیں تو فیصل ایوینیو فلائی اوور آتا ہے۔ اس جگہ ایک چوراہا ہوا کرتا تھا۔ یہ جملہ یاد رکھنے کا ہے کہ یہاں ایک چوراہا ہوا کرتا تھا جس پر ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ تھا اور جہاں چاروں طرف سے آنے والی گاڑیوں میں سے اکثریت نے دائیں جانب مڑنا ہوتا تھا۔ سیدھا جانے والی گاڑیاں کم تعداد میں ہوتیں۔ 2009 میں یہاں ٹریفک کی روانی کے لئے ایک خطیر رقم خرچ کر کے فلائی اوور کی تعمیر کی گئی۔ ماہرین فن نے تو اس جگہ پر ٹریفک کا مسئلہ کیا حل کیا کہ لٹیا ہی ڈبو دی۔

ٹریفک انجینیئرنگ کے لئے اس جگہ کا محل وقوع متقاضی تھا کہ ہر سمت جانے والی ٹریفک کو سہل بنایا جاتا بالخصوص دائیں مڑنے والوں کے لئے کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ مگر ہوا یہ کہ فیصل ایوینیو کی سیدھا جانے والی ٹریفک کو نیچے سے گزار دیا گیا اور جناح ایوینیو کی سیدھا جانے والی ٹریفک کو اوپر سے گزار دیا گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا نہ ہنگ لگی نہ پھٹکری اور چاروں طرف کی ٹریفک کے دائیں مڑنے کے لئے جو چوراہا تھا ، وہ آج بھی موجود ہے اور اسی فیصد ٹریفک کا اژدھام آج بھی اذیت میں مبتلا ہے۔

بیس فیصد سیدھا جانے والی ٹریفک کو سہولت دی گئی جو اوپر اور نیچے سے گزر جاتی ہے۔ قریب ہی شہر کا سب سے بڑا ہسپتال پمز ہے۔ عموماً ہسپتال جانے والی ٹریفک کو سہل بنایا جاتا ہے لیکن اس فلائی اوور کی تعمیر سے ہر سمت سے ہسپتال جانے والی ٹریفک کو رکاوٹیں ملتی ہیں اور پیچ دار راستے سے گزر کر ہسپتال پہنچتی ہے۔ ایک اور اذیت اس تعمیر کے تحفے میں جو ملی وہ فیصل ایوینیو کے دائیں بائیں سیکٹرز سے آنے والی ٹریفک کی ایوینیو کی کراسنگ تھی۔

ایوینیو کے دونوں جانب کراس کرنے والی ٹریفک انتہائی بائیں سے داخل ہو کر سیدھا جانے والی ٹریفک کے درمیان سے گزرتے ہوئے انتہائی دائیں جانب ہو کر یو ٹرن لیتی تھی اور اس زگ زیگ میں ایسی بدتمیزی سے ٹریفک خلط ملط ہوتی کہ اللہ کی پناہ، یوں معلوم ہوتا تھا کہ حادثات کروانے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا ہے۔ یو ٹرن لینے کے بعد یہ ٹریفک شاہراہ کی دوسری طرف ایک مرتبہ پھر سیدھا جانے والی ٹریفک میں رکاوٹ بنتے ہوئے انتہائی دائیں سے بائیں جانب جا کر دوسرے سیکٹر میں داخل ہو جاتی۔

حال ہی میں ایک اوور ہیڈ پل بنا کر اس اذیت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بعد میں اضافی خرچ کا بوجھ کیونکر؟ زیرو پوائنٹ سے آنے والی ٹریفک جب بلیو ایریا جانے کے لئے اسی نام نہاد فلائی اوور کے چوراہے کے سگنل کے قریب پہنچتی ہے تو بائیں جانب سے پمز سے آنے والی ٹریفک اسے چیرتی ہوئی سڑک کراس کرتی ہے تاکہ دائیں جانب ہو کر یوٹرن لے سکے حالانکہ ٹریفک قوانین اس یوٹرن کی اجازت نہیں دیتے، اصولاً راؤنڈ اباوٹ کے اوپر سے آنا چاہیے۔ یہی ٹریفک جب دوسری طرف جا کر فضل حق روڈ پر جانے کے لئے سڑک کراس کرتی ہے تو ایک دفعہ پھر زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک سے گتھم گتھا ہوتی ہے۔

ایمانداری سے فیصلہ کیجیے کہ کیا خطیر رقم سے تعمیر ہونے والے فلائی اوور کا یہی مقصد تھا کہ بیس فیصد ٹریفک کو سہل کر دیا جائے اور چوراہا بعینہٖ مزید قباحتوں کے ساتھ موجود رہے، ٹریفک کا اژدھام موجود رہے اور ہسپتال کی گزرگاہ مشکل بنا دی جائے؟ ایسے منصوبے کی تعمیر کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے کہ چند روز کے لئے ٹریفک کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کس سمت میں ٹریفک کا بہاؤ زیادہ ہے اور کس طرف کم۔ پھر ان مشاہدات کی روشنی میں ڈیزائن ترتیب دیا جاتا ہے۔

پیشہ ورانہ عرق ریزی کے بعد ہی اس جگہ کے حساب سے ٹریفک دوست منصوبہ وضع ہوتا ہے۔ ایسے ہی نہیں کہ ایک سڑک نیچے گزار دو اور ایک اوپر اور بس۔ ہاں یہ ٹھیک ہوتا اگر سیدھا جانے والی ٹریفک کا حجم زیادہ ہوتا مگر پھر بھی ہسپتال کی گزرگاہ سہل ہونی چاہیے تھی اور ذیلی سڑکوں کی ٹریفک کو بھی توجہ دی جاتی اور اس منصوبے میں شامل کیا جاتا تاکہ قومی دولت کا صحیح نعم البدل مل سکتا اور عوام سہولت سے بہرہ مند ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *