EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پیسہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان اس معاشرے میں رہنے پہ مجبور ہے کیونکہ وہ اکیلا اپنی تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس کی میکینگ ہی ایسی یے کہ اسے اپنی بقاء کے لیے سماج کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اپنی مادی، جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں دوسرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہم کوئی بھی ذریعۂ معاش اپناتے ہیں اور اس اپنی زندگی کا قابل ذکر وقت دیتے ہیں۔ یہ ہماری مصروفیت گنا جاتا ہے۔

سماج میں سٹیٹس اسی بنیاد پہ حاصل ہوتا ہے کہ آپ کی جیب میں کتنا پیسہ ہے یا آپ کتنا کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کے لیے ہم رشتے اور دوست بناتے ہیں۔ ان سے اپنے اچھے برے وقت کے تجربات بانٹتے ہیں۔ کچھ توقعات رکھتے ہیں اور کچھ توقعات جو ہم سے رکھی گئی ہوتی ہیں انہیں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سننے میں لگتا ہے کہ انسانی احساسات، جذبات یا نفسیات اس کی معاشی حالت سے الگ چیز ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے، یہ سب بھی معیشت سے جڑی باتیں ہیں۔

ایک وہ معاشرے ہیں جہاں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہونا لازم ہے اور ریاست نے اس کا ذمہ لے لیا،  وہاں کی اخلاقیات کچھ اور طرح کی ہے۔ ان کی ترجیحات، زندگی گزارنے کا ڈھنگ، حس لطافت، زندگی کی سے لطف اندوز ہونے کے پیمانے مختلف ہیں جو ایک پسماندہ سماج کے فرد کو سمجھانا بھی قدرے مشکل ہیں، دوسری طرف ہمارے جیسے معاشرے ہیں جنہوں نے معاشی حیثیت کو جذباتی، نفسیاتی پہلوؤں سے الگ کرنے میں بھرپور کوشش کی ہے، ہماری لوک دانش اور ضرب الامثال، واقعات ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں سارا فوکس اس بات پہ ہوتا ہے کہ قناعت کرو، جو ملے اس پہ صبر کرو، دولت سے نفرت کا سبق، آسائش کو گالی کہا گیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ یہاں کے افراد ایک کنفیوز سائیکی کا شکار ہیں۔ وہ دل سے چاہتے ہیں کہ ان کے پاس دولت ہو، پیسہ ہو عیاشی ہو وہ کھل کے جئیں، اپنی مرضی سے پہنیں، کھائیں، گھومیں مزے کریں لیکن ان کے پاس مواقع ہیں نہ ہی وہ اس طرح کے بولڈ سٹیپ لے سکتے ہیں کہ وہ یہ سب حاصل کر سکیں۔ ایسی صورت میں وہ لے دے کے جو کر سکتے ہیں وہ قناعت ہے اور اسی کے سہارے زندگی کو گھسیٹ کے گزار دیتے ہیں۔

ان لوگوں کا تصور زندگی اس قدر مبہم اور بوسیدہ ہے کہ یہ تک نہیں جانتے کہ انسان کی زندگی میں اونچ نیچ ہے، اسے کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ آج وہ کما سکتے ہیں ہو سکتا ہے کل یہ اہلیت نہ رہے تو وہ کیا کریں گے۔ بیمہ پالیسی کیا ہوتی ہے، بچت کس چڑیا کا نام ہے، یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو زندگی کو اس کی حقیقت سمیت قبول کرے۔ جس نے یہ خواب پالا ہو کہ خیر ہے جسی تیسی گزر رہی ہے گزار لو، اسے شدید صدمہ تب پہنچتا ہے جب کوئی حادثہ ہو جس میں اس کا ذریعۂ روزگار ختم ہو جائے، کسی بیماری کا سامنا ہو جس کے علاج کے لیے پیسہ چاہیے ہو یا پھر کوئی آفت آن پڑے جہاں پیسہ کی ضرورت ہو۔ تب حالات دو طرح سے متاثر ہوتے ہیں، ایک تو اس اچانک آنے والی افتاد کی وجہ سے ذہنی اور جذباتی دھچکا اور دوسری طرف یہ حقیقت کے اس سے سنبھلنے کے لیے دولت نہیں ہے۔ تو بے بسی انتہا کو پہنچتی ہے۔

جہاں یہ سکھایا گیا ہو دولت خوشیاں نہیں خرید سکتی وہاں اس سچائی سے بھی آنکھیں بند ہوتی ہیں کہ دولت سے ہی خوشیاں خریدی جاتی ہیں۔ کوئی خوشی کا موقع ہو، عید، شادی، تہوار باہر گھومنا پھرنا کوئی ایک کام ایسا بتائیں جو بنا دولت ہو سکتا ہو۔ نہیں ہو سکتا۔ سماج میں معاشی اونچ نیچ ایک حقیقت ہے۔ آپ نے جینا ہے، ڈھنگ سے جینا ہے تو پیسے کے بل بوتے پہ جی سکتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پہ آپ اپنی بیماری، دکھ، حادثے یا خوشی، سکون اور تفریح کو اچھے طریقے سے منا سکتے ہیں۔

ہم کب ان باتوں سے نکلیں گے جو لوک دانش کی صورت میں ہیں کہ ”سب اپنے وقت پہ ہوتا ہے صبر کرو“۔ ”اپنا وقت بھی آئے گا“۔ ”میانہ روی میں سکون ہے“۔ اور نجانے کیا کیا۔ بھئی کہاں سے آئے گا وقت، کون سا صبر اور کون سی قناعت جو درختوں سے خوشیاں، مزے، آزادی، اور دولت لا کے قدموں میں رکھ دے گی۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ سب بودی باتیں ہیں۔ تصوراتی کہانیاں ہیں، ان کا گراؤنڈ رئیلٹیز سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ آپ کو جینا ہے تو سب سے پہلے زمینی حقیقتوں کو تسلیم کریں۔

پھر اس کے بعد ذرائع ڈھونڈیں، وجوہات تلاشیں اور پھر ان سب کو حل کرنے کا طریقہ اختیار کریں جو حالات کے مطابق بدلا جا سکتا ہو۔ وہ دانشوری آپ کی زندگی کو بہتر نہیں بناتی جو تصوارتی باتوں پہ قائم ہو،  اس کا اطلاق آپ کی مختصر اور محدود سی زندگی پہ نہیں ہوتا کہ آپ اسی کے خواب میں زندگی کو تباہ کر لیں۔ زندگی کے اپنے تقاضے ہیں جو گراؤنڈ رئیلٹیز سے جڑے ہیں، انہیں خواب خیال کی دنیا میں رہ کے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو پورا کرنے کے لیے ریسورسز چاہئیں، ان ریسورسز کو حاصل کرنے کے لیے کوشش چاہیے، تب ہی انسان ڈھنگ سے جی سکتا ہے، ورنہ خیالی پلاؤ پکا کے کھانے سے تو پیٹ نہیں بھرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے