انارکلی فکشن: کے آصف اور فلم میکنگ کا آرٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فلموں اور امتیاز علی تاج کے سٹیج ڈرامے میں یہی بتایا جاتا ہے کہ سلیم اکبر کی واحد اولاد تھی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے اکبر کی دس سے زائد اولادیں تھیں اور سلیم کی ماں جودھا بائی نہیں، مریم زمانی تھی۔ خود اکبر کے کئی بچے قانونی بیوی سے پیدا نہیں ہوئے تھے مطلب کچھ بچے کنیز یا لونڈی یا داشتہ لی اولاد تھے۔ اس لیے یہ کہنا کہ اکبر بیٹے کی کنیز یعنی انارکلی سے شادی کے خلاف تھا منطقی نہیں لگتا۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا انارکلی تاریخی کردار ہے یا فکشن؟ انار کلی کا تذکرہ سب سے پہلے ایک انگریز ولیم فنچ نے 1611 میں کیا تھا۔ یہ صاحب ہندوستان تجارت کے لیے آئے تھے۔

جی مجھے علم ہے کہ آپ مجھے بتانے کے لیے بیتاب ہیں کہ انارکلی کا مقبرہ لاہور سول سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ جی ہاں میں نے دیکھا ہوا ہے مگر یہ کنفرم نہیں ہے کہ یہ قبر انارکلی کی ہے کہ نہیں؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سلیم یا جہانگیر کی بیوی جس کا نام صاحب جمال تھا کی قبر ہے۔ اس قبر پہ فارسی میں ایک شعر لکھا ہوا ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے

”اگر میں صرف ایک بارپھر اپنی محبوبہ کا چہرہ دیکھ لوں تو میں تابہ روز محشر اللہ تعالیٰ کا شکرگزار رہوں گا۔“

اس شعر کے ساتھ لکھنے والے کا نام مجنوں سلیم اکبر بھی لکھا ہے۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں نور جہاں ہی اصل میں انارکلی ہے۔ اکبر نے اسے زندہ نکال دیا تھا۔ شادی ہو گئی۔ سلیم نے بادشاہ بننے کے بعد ڈھونڈ نکالا۔ اس کے شوہر کو کسی جنگی مہم پہ بھیجا جس میں وہ مارا گیا۔ پھر سلیم نے انارکلی سے شادی کر لی جسے بعد میں نورجہاں کا خطاب ملا۔

کہتے ہیں ایک مرتبہ امتیاز علی تاج صاحب سے براہ راست  پوچھا گیا تو ان کا کچھ ان الفاظ میں اعتراف تھا کہ ڈرامے تو زیادہ تر فکشن ہی ہوتے ہیں۔

باتیں تو رائل لوگوں کی ہوتی ہی ہیں سچی و جھوٹی دونوں جیسے برٹش رائل فیملی کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں ہوتی رہتی ہیں۔ امتیاز علی تاج نے یہ سٹیج ڈرامہ 1922 میں پلے کیا تھا۔ اس پہ پھر یونائیٹڈ انڈیا اور پارٹیشن کے بعد انڈیا و پاکستان میں کچھ فلمیں بنی ہیں۔ کچھ ٹی ویڈرامے بنے ہیں۔ سٹیج ڈرامہ ابھی بھی پلے ہوتا رہتا ہے۔ سب سے مشہور فلم مدھوبالا دلیپ کمار اور پرتھوی راج (راج کپور کے ابا جی) کی ہے۔ اسے بنانے والے کے آصف صاحب ہیں۔

یہ اس زمانے کی سب سے مہنگی فلم ہے اور اس فلم نے ریکارڈ بزنس بھی کیا تھا۔ یہ فلم 5 اگست 1960 میں ریلیزہوئی۔ اس وقت ایک فلم پانچ سے چھ لاکھ میں بن جاتی تھی لیکن اس کے ایک گانے پیار کیا تو ڈرنا کیا پہ دس لاکھ انڈین روپوں کی لاگت آئی تھی۔ کل ملا کے یہ فلم تقریباً ڈیڑھ کروڑ میں بنی تھی۔ اس نے انڈیا میں ساڑھے پانچ کروڑ روپیہ کمایا تھا اور پوری دنیا سے اس فلم نے گیارہ کروڑ روپوں کا کاروبار کیا تھا۔ آج کے حساب سے دیکھا جائے تو اس فلم نے صرف انڈیا میں تقریباً 1550 کروڑ انڈین روپے اور ورلڈ وائڈ اس فلم نے تقریباً 3100 کروڑ انڈین روپے کمائے تھے۔

آج آپ یہ فلم دیکھیں تو آپ کا پہلا سین دیکھ کر ہی موڈ خراب ہونا شروع ہو جائے گا کہ یہ کیا ضیعف الاعتقاد بادشاہ ہے کہ پیدل درگاہ پہ اولاد مانگنے جا رہا ہے اور موڈ کی خرابی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک گانا پیار کیا تو ڈرنا کیا نہیں آتا۔ یہ گانا فلم کا ٹیمپو کمال چینج کر دیتا ہے۔ آپ کا موڈ خوشگوار کردیتا ہے۔ فلم آپ کو اچھی لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ میرے حساب سے یہ گانا فلم میکنگ آرٹ کا epitome ہے۔ کہتے ہیں یہ گانا 102 مرتبہ لکھا گیا یعنی کہ 102 مرتبہ لکھنے کے بعد فائنل ہوا کہ اب شاعری گوائے جانے کے لیے تیار ہے۔

گانا سنتے ہوئے آپ کو لگتا ہے کہ ساؤنڈ کچھ عجیب سا ہے۔ نارمل سے ہٹ کر ہے۔ جی ہاں آپ درست سمجھے اس وقت ٹیکنالوجی سٹون ایج میں تھی تو لتا نے یہ گانا effects ڈالنے کے لیے باتھ روم میں کھڑے ہو کر ریکارڈ کروایا تھا۔ یہ گانا ختم ہو جانے کے بعد انار کلی کا اکبر کو جھک کر طنزیہ فرشی سلام کرنا محبت کے دشمنوں کے منہ پہ زناٹے دارتھپڑ ہے۔ تقریباً ہر بڑی لو سٹوری کی طرح اس لو سٹوری میں بھی عورت اپنے محبوب سے بازی لے جاتی ہے۔

میری ابزرویشن کے مطابق برصغیر پاک و ہند میں عورت بہت کم پیار محبت میں پڑتی ہے لیکن جب پڑتی ہے یا جب اسے محبت ہو جاتی ہے تب بڑے بڑے مرد، بادشاہ فرعون یا پیار کے دشمن اس سے ہار ہی جاتے ہیں۔ کہتے ہیں دلیپ صاحب ایک دفعہ ایکٹنگ institute کا دورہ کر رہے ہیں جہاں ایکٹنگ سیکھنے والے نئے سٹوڈنٹس تھے۔ دلیپ صاحب نے سٹوڈنٹس سے پوچھا آپ کو میری سب سے زیادہ کون سی فلم پسند ہے؟

سب سے زیادہ سٹوڈنٹس نے فلم ”مغل اعظم“ کا نام لیا تو دلیپ کمار نے کہا وہ تو مدھوبالا و کے آصف کی فلم ہے۔ میرا تو اس میں رول ہی کچھ خاص نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے آج تک یہ فلم نہیں دیکھی تو سٹوڈنٹس بضد ہو گئے نہیں نہیں آپ کا کام بھی بہت اچھا ہے۔ پھر وہ پہلا دن تھا جب دلیپ نے فلم نئے آنے والے ایکٹرز کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی۔

اس فلم بلکہ کسی بھی فلم میں بڑے غلام علی کی آواز آپ پہلی دفعہ سنیں گے۔ بڑے غلام علی خاں صاحب کلاسیکل سنگر تھے۔ راجاؤں درباروں و امیر لوگوں کے بڑے بڑے پروگرامز میں گاتے تھے۔ خود کو فلمی سنگرز سے بڑا سمجھتے تھے اور بے شک بڑے تھے بھی۔ فلم میں گانا اپنی توہین سمجھتے تھے اور بہانہ یہ لگاتے تھے ناں بھئی فلم والے بڑی بندشیں لگاتے ہیں تو میں فلموں میں نہیں گاؤں گا۔ فلم میں تان سین کی گائیکی بھی شامل کرنی تھی تو سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ تان سین والی گائیکی کون کرے گا؟

اس فلم کے موسیقار نوشاد نے بتایا کہ اس لیول کا انڈو پاک میں تو ایک ہی بندہ ہے اور نام ہے بڑے غلام علی خاں لیکن وہ انکار کر دیں گے۔ کے آصف نے کہا میری خاں صاحب سے بس ایک میٹنگ کروا دیں۔ میٹنگ میں کے آصف نے گانے کا کہا اور حسب توقع خاں صاحب نے انکار کر دیا۔ کے آصف بھی ضد پہ اڑ گئے گائیں گے تو آپ ہی اور گواؤں گا بھی میں آپ سے ہی۔ انکار اصرار بڑھتا چلا گیا۔ آخرکار خاں صاحب زچ ہو گئے۔ نوشاد کا ہاتھ پکڑا اور کہا ذراباہر نکل کر میری بات سنو۔

خاں صاحب:یہ کس سنکی آدمی کو لے آئے ہو؟ میں انکار کر رہا ہوں اور یہ اڑا بیٹھا ہے۔ کچھ کرو کہ اس سے میری جان چھوٹ جائے۔

نوشاد: ایسا کریں کہ آپ اس سے معاوضہ اتنا زیادہ مانگ لیں کہ یہ دے ناں سکے۔
تو دونوں واپس کمرے میں آئے۔ اس وقت محمد رفیع و لتا کے لیول کے سنگرز ایک گانے کا تین چار سو لیتے تھے۔
خاں صاحب:اچھا ٹھیک ہے پر میں گانے کا پچیس ہزار لوں گا۔
کے آصف: بس؟

ارے آپ تو انمول ہیں۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر اسی وقت دس ہزار ایڈوانس دے دیے اور اب آپ ایک نہیں میری فلم کے لیے دو دفعہ گائیں گے اور میں آپ کو پچاس ہزار دوں گا۔

اس فلم میں بڑے غلام علی صاحب کی آواز دو دفعہ ہے۔ سنیئے۔ لطف آئے گا چاہے آپ کو میری طرح کلاسیکل کی ککھ سمجھ ناں ہو۔

اس فلم پہ اتنا خرچہ ہوا کہ پروڈیوسر کی چیخیں اور پتہ نہیں کیا کیا نکل گیا تھا۔ ایک دفعہ خرچے سے تنگ آ کر دوسرے ڈائریکٹر سہراب مودی کو انگیج بھی کیا گیا لیکن پھر کپتانی جلد دوبارہ کے آصف کے حوالے کر دی گئی۔ کسی نے پروڈیوسر سے پوچھا آپ نے ہمت بھی کی تھی تو پھر کے آصف دوبارہ واپس کیوں؟

K. Asif

جواب ملا مجھے فلم میکنگ کا تو کچھ خاص نہیں پتہ لیکن جس دن سے یہ فلم شروع ہوئی تھی یہ شخص کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ آج بھی کرائے کے گھر میں ہے۔ پہلے دن یہ سیٹ پہ ٹیکسی میں آیا تھا آج بھی ٹیکسی پہ آتا ہے۔ پہلے بھی سگریٹ مانگ کر پیتا تھا اب بھی سگریٹ مانگ کر پیتا ہے۔ کوئی اور ہوتا تو کم از کم گاڑی بنگلہ ضرور بنا چکا ہوتا۔ یہ مجھ سے جتنا پیسہ بھی لیتا ہے سب فلم پہ ہی لگاتا ہے۔ ایک دفعہ جودھا بائی کے زیورات اصلی سونے کے نہیں تھے تو شوٹنگ روک دی گئی۔ موہے پنگھٹ پہ نند لال والے گانے میں کرشن کی مورتی اصل سونے کی بنی ہوئی ہے۔ جنگ کے لیے اصل فوجی استعمال ہوئے تھے۔

اس فلم پہ تو کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن تحریر یہاں ختم کر دینا ٹھیک رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *