پاکستانیو! چاچا چنڈ نہ بنو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ تھا کہ جب بھی ٹی وی کھولو، جنوبی کوریا کے طلبہ اور پولیس باہم نبرد آزما نظر آتے تھے۔ جنوبی کوریا کے لوگوں کے لئے بڑے بڑے مظاہرے کوئی نئی بات نہیں، 1987 میں طلبہ کے مظاہروں نے آمریت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور اس کے تیس سال بعد ہونے والے مظاہروں کی بدولت ایک بدعنوان صدر کا مواخذہ ہوا تھا۔ لیکن اب پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد مقابلہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ اس کی وجہ پولیس کے محکمے میں مسلسل اصلاحات کا ہونا ہے۔

2016 کے اواخر اور 2017 کے اوائل میں لاکھوں لوگوں نے صدر پارک گیون ہائی کے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر کے کاروباری طبقے سے مراعات لینے اور بدعنوانی کرنے پر سیؤل میں مظاہرے کیے اور اب وہ بتیس سال کے لئے جیل میں ڈال دی گئی ہیں۔ مظاہرین کی بڑی تعداد اور ہنگاموں سے نمٹنے والے ہزاروں پولیس والوں کی موجودگی کے باوجود اس ”موم بتی انقلاب“ میں فریقین کے درمیان کوئی خاص کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بقول مظاہرین وہ صدر سے ناراض تھے، پولیس کے نوجوانوں سے نہیں جو اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ مظاہرین کئی ماہ تک پرامن اور جمہوری انداز میں جمع ہو کر صدر کی برطرفی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اور بالآخر کامیاب ہوئے۔

ہمیں جنوبی کوریا کی پولیس اس لئے یاد آئی کہ پاکستان میں شروع سے پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کی کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ سنا تھا کہ پولیس کو سکھایا جاتا تھا کہ اگر مظاہرین پر گولی چلانی پڑ جائے تو گھٹنوں سے نیچے گولی مارو مگر ہماری پولیس ہمیشہ سینے پر گولی مارتی ہے۔ خواجہ ناظم الدین کے زمانے سے لے کر آج تک مظاہرین پولیس کے ہاتھوں گولیاں کھا کر جان دیتے رہے ہیں۔ 1952 میں پاکستان میں طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے تھے۔ پہلے ڈھاکہ میں بنگالی طلبہ نے بنگالی کو قومی زبان بنانے کے لئے مظاہرے کیے ۔ حکومت نے ریاستی طاقت سے ان کا مقابلہ کیا اور پانچ طلبہ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ 1953 میں کراچی میں طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں جلوس نکالے۔ یہاں بھی پولیس نے پر امن مظاہرین پر گولی چلائی اور آٹھ طلبہ مارے گئے۔

جب ایوب خان کی حکومت عشرہ ترقی منا رہی تھی تو طلبہ نے اس کے خلاف جلوس نکالنے شروع کیے ۔ 7 نومبر 1968 کو راولپنڈی میں پولیس نے طلبہ کی ایک ریلی پر گولی چلائی، تین طلبہ مارے گئے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں طلبہ کے مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد صنعتی مزدور بھی اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکل آئے اور کئی ریاستی قوت کے استعمال کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1972 میں بھٹو کے دور میں کراچی کے صنعتی علاقے میں بہت سے مزدور مارے گئے۔

ضیا ء الحق کے آمرانہ دور میں خاص طور پر ایم آر ڈی کی تحریک میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ شہباز شریف کے دور میں ماڈل ٹاؤن میں اور بزدار کے دور میں لاہور میں مظاہرین کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حال ہی کی بات ہے۔ یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر پاکستان کی پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہوتی تو اتنی جانیں ہر گز ضائع نہ ہوتیں۔ دوسرے ملکوں میں پولیس کو اس کی خاص تربیت دی جاتی ہے اور انہیں ”رائٹس پولیس“ یعنی ہنگاموں یا فسادات سے نمٹنے والی پولیس کہا جاتا ہے۔ ہماری پولیس کو یہ تربیت دینا بے حد ضروری ہے کیونکہ ہر انسانی جان قیمتی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتبہ خیال سے ہو۔

پاکستان میں کچھ عرصہ سے یہ رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ہم مسلمانوں کی سب سے پیاری ہستی کی شان میں کوئی گستاخی ہوتی ہے تو ہم اپنے رسول پاک کے اخلاق حسنہ پر عمل کرنے کی بجائے اپنے ہی لوگوں کی املاک نذر آتش کرنا اور اپنے ہی لوگوں کو مارناشروع کر دیتے ہیں بقول جاوید چودھری بحیثیت قوم ہم ”چاچا چنڈ“ بنے ہوئے ہیں یعنی خود اذیتی میں مبتلا ہیں۔ اسی لئے فیس بک پر عبید اللہ چودھری کو ”ایک سچے عاشق رسول” کی تلاش ہے۔

ایک سچے ایماندار، کسی کا حق نہ مارنے والے، رزق حلال کمانے والے، کمزوروں اور غریبوں سے صلۂ رحمی کرنے والے، یتیموں اور مسکینوں کا حق یقینی بنانے والے، دنیاوی لین دین اور فیصلوں میں انصاف کرنے والے، پورا تولنے، ملاوٹ نہ کرنے، نرم گفتار اور بزرگوں کا احترام کرنے والے، جن کے ہاتھوں دوسرے انسانوں کی جان و مال اور عزت محفوظ ہو کی تلاش ہے۔

آزادیٔ اظہار کے نام پر مذہبی شخصیات کی توہین کرنے والوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کسی بھی مذہب یا عقیدے کے ماننے والوں کے لئے سب سے قابل احترام ہستی ان کے پیغمبر یا نبی کی ہوتی ہے اور اگر کوئی اس عقیدے کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے تو وہ ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جاتا ہے تو مسلمانو ں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لینا اور ان کے جذبات کا احترام کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمارے علمائے کرام کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو تحمل اور رواداری کا سبق دیں، مظاہرین پاکستانی عوام کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، پولیس مظاہرین پر گولیاں نہ چلائے اور جنوبی کوریا کی پولیس سے مظاہروں سے نمٹنا سیکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *