مریم کی جدوجہد یا شہباز کی مفاہمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کہاوت سنی تھی جس کا معنی و مفہوم یہ تھا کہ ایک سرے سے دوسرے تک ہر کام بے ڈھنگا اور عیب ہی عیب۔ اور اس کہاوت کی عملی تفیسر موجودہ حکومت کی تحریک لبیک کے تنازعہ میں دیکھ لی۔ ابتدا سے لے کر انتہا تک یہ معاملہ سمجھ سے باہر ہے ۔ پہلے حکومت نے اس جماعت کے ساتھ جان چھڑانے کے لیے معاہدہ کر لیا ، حالانکہ حکومتیں جان چھڑانے کے لیے کبھی معاہدے نہیں کرتیں اور جو معاہدے کرتی ہیں ان کی پاسداری کرتی ہیں۔

خیر، جب معاہدہ پورا کرنے کا وقت قریب آنے لگا تو سعد رضوی کو بظاہر بنا کسی تیاری کے گرفتار کر لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک جام ہو گیا۔ تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان نے پہلے پولیس کو مارا پھر پولیس نے ورکرز کو چھتر مارنے کی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے اپنے مورال کو بلند کیا۔ دونوں کام غلط ہوئے ، نہیں ہونے چاہیے تھے۔

مگر یہ سلسلہ رکا نہیں حکومت نے ورکرز گرفتار کر کے مقدمے درج کرنے شروع کر دیے اور بہت سے ورکرز کو شیڈول چہارم میں ڈال دیا۔ حکومت نے سوچا کہ شاید یہ دب جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا اور انتشار بڑھتا گیا۔ ایسے میں لاہور چوک یتیم خانہ پر ہونے والے سانحہ میں حکومت نے اپنی رہی سہی ساکھ بھی گنوا دی۔ ایک طرف شیڈول چہارم قرار دیے جانے والے ورکرز کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے تو دوسری طرف طاقت کا استعمال شروع کر دیا گیا۔

اور نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ایسے میں دینی طبقے کی طرف سے سعد رضوی کی حمایت میں اضافہ ہونے لگا۔ حکومت پر دباؤ بڑھا تو فوری طور پر مذاکرات کی راہ لی اور جیسے تیسے کر کے تحریک لبیک سے معاہدہ طے پا گیا۔ اسی دوران وزیراعظم نے بھی اس مسئلے پر خطاب کیا اور قوم کو اپنی خود اعتمادی میں کمی کے باوجود اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔

اس سارے معاملے کا اگر بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے جس طرح اس سارے معاملے میں جو رویہ اپنایا ہے وہ سوائے نااہلی اور نالائقی کے کچھ بھی نہیں ہے ، اگر حکومت چاہتی تو اس کو بہتر انداز میں بھی ہینڈل کر سکتی تھی مگر بات وہی کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سانحۂ ساہیوال کے بعد سانحۂ چوک یتیم خانہ کے داغ بھی حکومت کے دامن پر ہیں ۔ اب خدا جانے یہ داغ کیسے دھلیں گے اور زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے داغ بھی نون لیگ پر سے نہیں دھل سکے تو مطلب یہ کہ موجودہ حکومت کا دامن بھی اب داغدار ہی رہے گا۔

ابھی دو سال کی مدت باقی ہے ، دعا ہے کہ حکومتی دامن مزید داغدار نہ ہو ویسے کارکردگی کا عالم یہی رہا تو دامن محض داغدار ہی نہیں تار تار بھی ہونے جا رہا ہے۔ کیونکہ اسمبلی میں بات جوتا مارنے کی دھمکی تک پہنچ چکی ہے ، لہٰذا صائب مشورہ تو یہی ہے کہ اپنی تردامنی پر توجہ دی جائے۔

اور ذرا سی توجہ اس پر بھی کہ شہباز شریف کی ضمانت بھی ہو گئی ہے۔ اور مریم نواز کی کچھ مدت سے خاموشی کا مطلب یہ کہ اب شہباز ہی پرواز کرے گا ، مطلب یہ کہ اب اگلا راؤنڈ شہباز شریف کھیلیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف کھیل کے طے شدہ اصول و ضوابط کے تحت کھیلیں گے یا کسی وقت جذبات میں آ کر ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا‘ گنگنانا شروع کر دیں گے۔ لگے ہاتھوں 26 اپریل کو پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سے نون لیگ کی مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں کا اندازہ ہو جائے گا۔ تاہم ایک سوال جس پر سب کی توجہ مرکوز ہے کہ کیا شہباز شریف مفاہمت کی راہ اپنائیں گے یا پھر تصادم کا راستہ اختیار کریں گے۔

اگر شہباز شریف نے مفاہمت کی راہ اپنائی تو پھر مریم نواز نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسی اپنا کر جن لیگی ورکرز کو چارج کیا تھا ان کا کیا بنے گا۔ کیا نون لیگی ورکر مفاہمت کے بیانیے پر خاموشی اختیار کر لے گا۔ کیا شہباز شریف کی ممکنہ مفاہمت نواز شریف اور مریم نواز کے لیے قابل قبول ہو گی۔ کیا حکومتی کارکردگی ایسی ہے کہ اس پر مفاہمت کی جا سکے، خاموش رہا جا سکے۔ اور اگر شہباز شریف تصادم کی راہ اپناتے ہیں تو ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا۔

کیونکہ فی الوقت تو نواز شریف اور مریم نواز دونوں قانونی طور پر نا اہل ہو چکے ہیں ، لہٰذا نون لیگ کی کشتی کو کنارے لگانے کے لیے بہرحال شہباز شریف کو ناخدا بنانا پڑے گا۔ ہر دوصورتوں میں شہباز شریف کے لیے ایک مشکل سیاسی وقت شروع ہو چکا ہے۔ تاہم حکومتی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف کبھی نرم کبھی سخت پالیسی اپناتے ہوئے نواز شریف کے لیے سہولتیں حاصل کر لیں گے۔

مشکل وقت تو حکومت کے لیے کورونا کی حالیہ لہر کی وجہ سے بھی چل رہا ہے۔ این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کی مثبت شرح 38 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو بڑے شہروں کو بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ بلاشبہ یہ شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس پر حکومت کو فوری اور سخت فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے۔

حرف آخر کہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے ممتاز عالم دین مولانا وحیدالدین خان 96 برس کی عمر میں دہلی کے ایک نجی ہسپتال میں کورونا کے سبب علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ پانچ زبانوں پر عبور رکھنے والے مولانا وحید الدین خان نے دو سو سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ ان کی علمی خدمات کے پیش نظر بھارتی حکومت نے انہیں دوسرے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پدما بھوشن سے نوازا۔ مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر سوانح عمری اوراق حیات بھی شائع ہو چکی ہے۔

12 مئی 1989 کو حکومت پاکستان نے ان کی کتاب پیغمبر انقلاب پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے اور دانشور طبقہ کے نزدیگ امن پسند مانے جانے والے مولانا وحیدالدین خان کی خدمات کو دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *