تحریک لبیک، حکومت کی بدحواسیاں اور غلط فیصلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک لبیک کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اولاً درست نہیں تھا کہ آپ ممالک کے ساتھ تعلقات ایسے داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ لیکن آپ نے اس وقت عاقبت نا اندیشی سے کام لیا اور ایک سادے کاغذ پر دستخط ثبت کر دیے اور اپنی دانست میں اسے کامیابی سے تعبیر کر لیا۔ چند ماہ کی کامیابی۔ جی ہاں حکومت وقت ٹیسٹ کرکٹ کا مزاج نہیں رکھتی بلکہ وہ ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ کی مثال کو سامنے رکھ کے ہی حکومت کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ شاید اسی لیے چند ماہ پہلے کیے گئے معاہدے کو کامیابی تصور کر لیا گیا اور اس کے بعد علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد حکومت شاید کچھ اور سکون میں آ گئی کہ شاید اب تحریک میں وہ پہلے سا دم خم باقی نہیں رہے گا اور یہ مزید تقسیم ہوتی جائے گی۔

ایسا سوچنا عبث اس لیے بھی نہیں تھا کہ اس سے پہلے جلالی فیکٹر اس لیے اپنی اہمیت ثابت نہیں کر پایا تھا کہ علامہ خادم رضوی کے طلسماتی شخصیت نے تنظیم کو سنبھالا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی کرشماتی ذات اور ان کی جذباتی تقریروں کی وجہ سے تمام ضمنی انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی تھی۔ ان کے جانے کے بعد حیران کن طور پر نہ تو ڈاکٹر اشرف جلالی ابھر کر سامنے آ سکے نہ ہی پیر افضل قادری جو اپنے آپ کو تنظیم کے بانیوں میں شمار کرتے ہیں اور ان کے علامہ خادم رضوی مرحوم کے صاحبزادے سے اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئیں، وہ کچھ خاص اپنا اثر تنظیم پر ثابت کر پائے۔

نتیجتاً پہلے صرف جلالی کی اہمیت کم ہوئی تھی، اب پیر افضل قادری بھی پس منظر میں چلے گئے۔ اور جس بات کی امید نہیں تھی وہی ہوا کہ علامہ خادم رضوی مرحوم کے صاحبزادے سعد رضوی کے پاس تحریک لبیک پاکستان کی باگ ڈور آ گئی۔ یہ فیصلہ درست اس لیے تھا تنظیم کے لیے کہ کوئی اور شخصیت ایسی نہیں تھی کہ تحریک کے پورے پاکستان میں ابھرتے ہوئے وجود کر برقرار رکھ سکے۔

حکومت کا علامہ خادم حسین رضوی مرحوم سے کیا گیا معاہدہ اس لیے غلط تھا کہ اس معاہدے پہ نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی اس پہ اپوزیشن سے کسی بھی قسم کی کوئی مشاورت کی گئی۔ صرف ڈنگ ٹپاؤ والا فارمولا استعمال کیا گیا اور کچھ وقت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکومت کو امید تھی کہ فیض آباد سے ایک مرتبہ تحریک والے چلے گئے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی وقت کی گرد میں دب جائے گا۔ لیکن معاملہ گرد میں دبنے کے بجائے چنگاری کی صورت میں سلگ اٹھا ہے۔

اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ قیادت کے جس فقدان کی امید لگائے ہوئے حکومت بیٹھی تھی وہ بھی نہیں ہو سکا۔ اور علامہ خادم رضوی کے بعد ان کے صاحبزادے علامہ سعد رضوی نے تحریک میں مزید جان ڈال دی۔ جو کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ اور حیران کن طور پر تحریک لبیک پاکستان کو حمایت بھی ملتی جا رہی ہے۔ یہ حمایت چاہے سراج الحق اور جماعت اسلامی کی طرف سے ہو یا پھر مولانا اور جے یو آئی ف کی جانب سے۔

پہلے کیے گئے معاہدے میں سفیر کو واپس فرانس بھیجنے کے حوالے سے جس لائحہ عمل کا ذکر سامنے آیا ، اتنے ماہ گزرنے کے باوجود وہ طے نہیں ہو سکا۔ اور حقیقت سے جائزہ لیں تو ایک فرانس کے سفیر کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس سے پوری پورپی یونین سے معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اوپر سے فیٹف کا بھوت ہمارے سر پر سوار ہونے کو بیتاب ہے۔

اس تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے جب تحریک لبیک پاکستان ایک نئی طاقت حاصل کر چکی تھی تو اس کے احتجاج کو روکنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنا نہ جانے حکومت کی کون سی حکمت عملی تھی کہ جو اپنے پاؤں پہ کلہاڑی ہی ثابت ہو رہی ہے۔ جناب سعد رضوی صاحب کی گرفتاری سے لے کر لاہور کے یتیم خانہ چوک میں مسجد رحمۃ للعالمین تک کی گئی پر تشدد کارروائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں سے عقل، دانش، اور ہوش مندی مکمل طور پر نہ صرف مفقود ہو چکی ہے بلکہ وہ بیوقوفی میں ایسے فیصلے کرنے پہ تل گئے ہیں جو بہت جلد ان کے اپنے گلے پڑتے نظر آ رہے ہیں۔

ایک اور بے وقوفانہ فیصلہ کہ ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی گئی اور بطور جماعت اسے کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ بذات خود حکومت کی بدحواسی کا غماز اس لیے ہے کہ ماضی قریب میں موجودہ وزیراعظم عمران خان اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب خود تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کا حصہ بن کر ان کی حمایت کر چکے ہیں۔ جو مطالبات تحریک لبیک پاکستان کے ماضی میں تھے وہی مطالبات اب بھی ہیں۔

تو اگر ماضی میں حمایت کی گئی تو اب ان کے خلاف پرتشدد کارروائی کیوں؟ اور حیران کن طور پر وزیراعظم پاکستان اپنی قوم سے کی گئی تقریر میں اہم حمایت ضائع کر گئے۔ اپوزیشن پہ کی گئی تنقید کے بعد وہ مشاورت کا پہلو مکمل نظر انداز کر چکے ہیں۔ اب ایوان میں بھی یہ مسئلہ زیر بحث آنے پہ اپوزیشن کی مدد تو درکنار ایک لفظ تک ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایوان میں جانے پہ اپوزیشن یقینی طور پر تحریک لبیک پاکستان کی ہم آواز نظر آئے گی۔

اور اب اتنی پرتشدد کاراوئیوں کا حال کیا ہوا؟ کہ آپ کو تحریک لبیک پاکستان سے ان کے مطالبات پہ ان کی ہی خواہش کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔ اور یہ بھی یقینی ہے کہ زیادہ عرصہ کالعدم کا لاحقہ بھی اس جماعت کے ساتھ لگانا اب ممکن نہیں رہا۔ بہت جلد یہ پابندی ہٹتی نظر آ رہی ہے۔ اور معاملات تحریک لبیک پاکستان کی مرضی و منشا سے حل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے تو کیا ہی کہنے۔ انہوں نے نہ کارروائی سے پہلے ایوان کو اعتماد میں لیا نہ ہی کارروائی کے بعد جماعت پہ پابندی لگانے پہ ایوان سے رائے لی۔ اور نہ ہی اس وقت مذاکرات کے حوالے سے ایوان میں کسی قسم کا کوئی پالیسی بیان دیا۔

تمام کا تمام نظام ہی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت چلایا جا رہا ہے اور شاید یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ پہلا اور آخری موقع ہے اور بس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *