عثمان بزدار ”چھوٹے چور“ قابو کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چور، چور، چور ۔۔۔ یہ الفاظ بلکہ گردان بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں، حکمرانوں سے لے کر گلی محلوں کے دکانداروں تک سب چور، ہر حکومت سیاسی مخالفین کو چور چور کہہ کر اقتدار حاصل کرتی ہے اور پھر ”کتی چوراں نال رل گئی“ والی مثال صادق آ جاتی ہے۔

تحریک انصاف نے 2018ء کے انتخابات سے قبل چور، چور کا اتنا ورد کیا کہ ہر دوسرا بندہ چور نظر آنے لگا، حد تو یہ ہے کہ زندگی میں کبھی یہ سوچا نہیں تھا کہ بیوی جیب سے چوری کر لے گی مگر خان صاحب کے ورد نے یہ شک بھی ڈال دیا، صبح اٹھتے ہیں جیب چیک کرنا پڑتی تھی کہ رات کے اندھیرے میں کمرے میں موجود اہلیہ محترمہ جیب پر واردات تو نہیں ڈال گئیں۔

عمران حکومت سے امید تھی کہ وہ چوروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دے گی اور پھر زندگی پرسکون ہو جائے گی مگر سب چور انہوں نے ساتھ ملا لئے، عمران خان کی اندھا دھند حمایت کا خمیازہ آج میں ہی نہیں پوری قوم بھگت رہی ہے اور اب تو یہ حالت ہے کہ نصیبو لال یاد آتی ہے جو کہتی ہیں، ”توبہ توبہ کرادتی توں ظالما“ ، عمران حکومت کی ناکام پالیسیاں اپنی جگہ، بیڈ گورننس نے سب ستیاناس ہی کر دیا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار ”سردار“ ہی ہیں، پنجاب میں اگر سردار صاحب ڈنڈا اٹھا لیتے تو آج عمران حکومت کو اتنی بدنامی نہ ملتی جتنی مل رہی ہے اور جس میں دن بدن اللہ کے فضل سے اضافہ ہی ہو رہا ہے، عمران حکومت بڑے چوروں پر ہاتھ ڈال تو رہی ہے مگر نکل کچھ نہیں رہا اس کی وجہ ہمارا کرپٹ نظام ہے جو 73 برسوں میں اپنی جڑیں اتنی گہری کر چکا ہے کہ ان کو ختم کرنا اب بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کی آبادی آدھے پاکستان کی آبادی کے برابر ہے، صوبائی حکومتوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جتنا وفاقی حکومت کو کرنا پڑتا ہے، ”سردار صاحب“ بلاشبہ پنجاب کے ہر شہر کو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دے رہے ہیں مگر گڈ گورننس پر رتی برابر بھی توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن ہر گلی محلے میں دندناتا پھر رہا ہے جو عمران حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

چھوٹی سی بات بتانا چاہتا ہوں، دو روز قبل پی آئی اے سوسائٹی کی مین روڈ پر ایک سبزی کی دکان سے کریلے لیے تو اس نے 140 روپے کلو دیے، بھنڈی 180 روپے کلو دی، شام کو دفتر میں کولیگ سلمان شاہ کو کھانا کھاتے ہوئے بتایا کہ کریلے اب بھی اتنے مہنگے ہیں تو اس نے کہا کہ میں 70 روپے کلو لایا ہوں، سن کر دکھ ہوا کہ ”چھوٹا چور“ کام دکھا گیا۔

کل والدہ نے کہا کہ کریلے لاؤ قیمہ بھر کر پکاتی ہوں، پھر اسی دکان پر گیا تو اس نے وہی 140 روپے کلو قیمت بتائی ، میں نے اسے کہا کہ 70 روپے مل رہے ہیں تم ڈبل قیمت کیوں بتا رہے ہو تو جواب دیا کوالٹی اچھی ہے، جناب، خیر میں نے چھوڑ دیا، شام دفتر میں روزہ کھولنے کے بعد گلبرگ میں ایک چھوٹے سے بازار گئے اور چائے پی، ہوٹل سے باہر نکلے تو ریڑھی والا آواز لگا رہا تھا کہ کریلے 60 روپے کلو، بھنڈی سو روپے کلو۔

ہم دونوں نے سبزی دیکھی اچھی لگی اور خرید لی، 60 روپے کلو کریلے خرید کر افسوس ہوا کہ پی آئی اے سوسائٹی کا ”چھوٹا چور“ ڈبل پیسے لے گیا، یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اگر ان ”چھوٹے چوروں“ کے خلاف گرینڈ آپریشن کریں تو مہنگائی کا جن منہ کے بل گر پڑے، پنجاب کے سردار صاحب کو اس سنگین مسئلے پر غور کرنا چاہیے، ہڈ حرام بیوروکریسی پر سختی کریں تو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مہنگائی کا پراپیگنڈا ختم ہو سکتا ہے اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے کافی حد تک نجات مل سکتی ہے مگر شاید چھوٹے چور پکڑنے میں حکومت سنجیدہ نہیں جس کی وجہ سے عوام مہنگائی کے بوجھ سے مر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *