زائر حرمین (9)مدینہ ، مدینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اور پھر، مکہ سے مدینہ روانگی کا دن آ گیا۔ جب ہم مکہ میں اپنے قیام کی نصف مدت پوری کر چکے تھے تو میں نے بھائی سے کہا تھا کہ دیکھیں، کیسے ہم یہاں آنے کی تمنا کر رہے تھے، پھر جب یہاں آنے کا حتمی پلان مرتب ہوا تو دن گن رہے تھے، اب یہاں قیام کے نصف دن پلک جھپکتے گزر گئے ہیں، سفر مکمل ہو جائے گا تو یہ دن خواب ہو جائیں گے۔ اور اب واقعی ان دنوں کو خواب ہوئے بھی جانے کتنے دن، کتنے مہینے، کتنا وقت گزر گیا ہے۔ مکہ سے رخصت ہوتے مجھے سب سے زیادہ یہ خیال رہا کہ خانہ خدا یہیں رہ جائے گا، اس کے سامنے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنے اور دعائیں کرنے کا لطف یہیں رہ جائے گا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے لیکن جو بات یہاں، اس کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے میں ہے، وہ ایک الگ ہی تجربہ ہے۔

بہرحال، ہر آمد سے ایک رخصت منسلک ہے اور اس رخصت سے فرار ممکن نہیں سو ہم نے بھی مکہ سے رخصت لی۔ چار ساڑھے چار گھنٹے بعد ہم مدینہ میں اپنے ہوٹل کے سامنے موجود تھے۔ مدینہ کا پہلا تأثر ہی بڑا خوشگوار اور زندگی سے بھرپور لگا۔ یہاں اسلام آباد اور لاہور کی طرح کی گہما گہمی تھی۔ روشنیاں اور نئی تعمیرات تھیں۔ مکہ، اس کے برعکس مجھے کراچی کے صدر کے علاقے جیسا لگا تھا۔ اونچی اور نسبتاً پرانی عمارتیں اور کراچی کے صدر کی طرح ہی ادھ کھلی، ادھ بند دکانیں اور کسی قدر خاموش سا بھی۔

مختصر سے آرام کے بعد ہوٹل سے نکلے تو مجھ یہ جان کر از حد خوشی ہوئی کہ یہ قیام گاہ مسجد نبوی ﷺ سے محض چند قدم پر واقع ہے۔ حاضری کی منظوری سے وہاں پہنچنے تک کچھ ایسی مصروفیت رہی کہ انٹرنیٹ کا روزانہ استعمال کرنے کے باوجود گوگل پر جا کر یا ہوٹل کی ویب سائٹ پر جا کر ہوٹل کی لوکیشن معلوم کرنے کا خیال تک نہ آیا تھا۔ اب جو یہ دیکھا تو پلیزینٹ سرپرائز والا معاملہ ہو گیا۔ اس قرب کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ ہم اکیلے بھی آنے جانے لگے۔ جسے ایک نماز اور دوسری نماز کے بیچ واپس جانا ہوتا وہ واپس چلا جاتا اور جسے رکنا ہوتا وہ رکا رہتا۔

اگلے دن جمعہ تھا۔ حسب سابق جلدی جلدی تیار ہو کر جمعہ کے لیے پہنچ گئے۔ اتنی جلدی کے باوجود مسجد کے اندر نمازیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ نماز کی ادائیگی سے فارغ ہو کر مسجد کے فن تعمیر پر غور کیا۔ وہی سفید پلروں پر استوار قطار اندر قطار محرابیں جن کا حسن انسان کو مبہوت کر دے۔ مکہ کی طرح کے دبیز قالین، جن میں بس رنگ کا فرق تھا۔ وہاں سبز رنگ کے قالین تھے اور یہاں لال رنگ کے۔ اور وہی ان گنت بک ریکس جن پر قرآن کریم کے لاتعداد نسخے موجود تھے۔ ایک نسخہ اٹھا کر کچھ تلاوت کی اور واپسی کی راہ لی۔

ایک بات جو مکہ اور مدینہ میں مشترک نظر آئی وہ ہے جوق در جوق خریداری کرتے لوگ۔ اپنے لیے، اپنے گھر والوں اور احباب کے لیے۔ کبھی کبھی مجھے عجیب سا لگتا، کیا ہم سب یہاں خریداری کرنے آئے ہیں؟! وہاں خریداری، کیونکہ یہاں آنا تھا سو تمام اشیاء ضروریہ ساتھ ہوں، نہ ہوئیں تو پتا نہیں کہاں سے ملیں، کتنی دور جانا پڑے۔ ٹھیک! یہاں خریداری، کیونکہ کتنا نامناسب لگتا ہے یہاں آئے اور کسی کے لیے کچھ بھی نہ لائے، کس قدر غیر مناسب لگتا ہے ناں۔

چلو، یہ بھی ٹھیک ہے۔ دونوں باتیں ٹھیک ہیں۔ چلو تھوڑی سی شاپنگ تم بھی کر لو۔ کچھ اپنے لیے، کچھ دوسروں کے لیے۔ پہلی حاضری کی یادگار رہے گی۔ بالکل، بالکل۔ خود کلامی جاری رہی۔ خریداری جاری رہی۔ ویسے ممتاز مفتی نے لکھا تھا سعودی عرب میں ملنے والی جائے نمازیں فلاں ملک کی ہیں، کھجوریں فلاں کی، تسبیح کسی اور نگر کی۔ اصل تبرک تو خاک پاک ہے جہاں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے قدم مبارک پڑے تھے۔ لیکن یہاں تو خاک پاک کا نام و نشاں تک نہیں۔

تا حد نگاہ گرد و غبار سے پاک کارپٹڈ سڑکیں اور عمارتیں۔ یہاں خاک پاک کیونکر دستیاب ہو سکے گی۔ کہیں دور، بہت دور مل سکے تو شاید۔ وہ بھی شاید مل جانے والی بات ہی ہے کیونکہ شہر سے دور واقع مساجد اور مقامات مقدسہ تک بھی کارپٹڈ سڑکیں ہی جاتی ہیں اور مینٹیننس کا یہی معیار ہے۔ بالفرض محال کہیں سے اس شہر کی خاک مل بھی جائے تو کیا اس خاک پر آپ ﷺ کے قدم مبارک پڑے بھی ہوں گے؟ چودہ سو سال کے فاصلے پر تو خاک بھی ہواؤں کے دوش پر جانے کون کون سے نقوش ساتھ لے اڑی ہو گی۔ لیکن کیا ہو سکتا ہے۔ سو لاحاصل سے صرف نظر کر کے حاصل پر خوش ہوتے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *