بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جیسا کہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پاکستان کی آبادی ساڑھے بائیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے لیکن ابھی تک پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ پاکستان کی آبادی دنیا کے چھٹے نمبر پر ہے، لیکن یہ زمین کی سطح کا صرف 0.59 فیصد ہے۔ پاکستان کا رقبہ دوسرے زیادہ آبادی والے ممالک کی نسبت کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان دیگر گنجان آباد اقوام کے مقابلے میں زیادہ سنگین نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی 2050 تک بڑھ کر 44 کروڑ ہو جائے گی۔ اب بھی پاکستان میں آبادی ایک بڑا مسئلہ ہے، لہٰذا آبادی میں متوقع اضافے کے ساتھ ہی بڑی آبادی کے منفی نتائج نمایاں ہو جائیں گے۔ شرح پیدائش اور کم اموات دونوں ہی پا کستان کی آبادی کے مسئلے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان میں پیدائش کی شرح سب سے اونچی ہے، اس کے برعکس پاکستان میں اموات کی شرح بہت کم ہے۔

لوگوں کی پیدائش اور ان کی اموات کے مابین اس وسیع فرق نے آبادی میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ جدیدٹیکنالوجی کی وجہ سے اب اموات کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے اور شرح پیدائش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی کنٹرول کرنے والے ممالک اب ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں جبکہ زیادہ آبادی والے نہ صرف پسماندگی کا شکار ہیں بلکہ دوسرے ممالک پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ غربت آبادی پر سبقت لے گئی۔ غربت کی سب سے بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔غربت میں اضافے کے خطرناک نتائج برآمد ہو رہے ہیں، کیونکہ زیادہ بچے پیدا کر نے کے بعد ہمیں مزید وسائل درکار ہوں گے ۔ اور ترقی پذیر ملک کے لیے اتنے بچوں کو ضروری وسائل فراہم کرنا بے حد مشکل ہے۔

پاکستان میں کچھ شہریوں کا خیال ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی میں حصہ لینا غلط ہے۔ شادی شدہ خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں، اور نسل خوب بڑھائی جائے۔ لیکن وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے اٹھائے جائیں گے۔ موجودہ حکومت نے عوام سے پہلے ایک کروڑ نوکریوں اور ان کے لیے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن اب غربت کے خاتمے کے لیے سرکاری پالیسیوں کے بجائے لنگر خانے کھول کر ’بھوک کے خاتمے‘ کو راہ نجات سمجھا جانے لگا ہے۔

غربت کا خاتمہ تب ہوتا ہے جب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، عوام کو زیادہ مالی وسائل دستیاب ہوتے ہیں اور افراط زر کی شرح بھی قابو میں رہتی ہے۔ اگر یہ تین عوامل قابو میں نہیں آتے، تو سماجی افراتفری بھی بڑھے گی اور غربت بھی۔

غربت کا تعلق آمدنی سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے آمدنی زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومتی پالیسیاں درست اور مؤثر ہوں۔ کسان جو کچھ اگاتا ہے، وہ خود اسے کھا نہیں سکتا کیونکہ اسے تو وہ بیچنا ہوتا ہے۔ غریب کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ اس کی خوراک پر لگ جاتا ہے۔ اور علاج معالجے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ اسی لیے ایسے شہری یا تو بھوک سے مر جاتے ہیں یا پھر بیماری سے۔

معاشی پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے ماہرین درکار ہوتے ہیں، جو اس حکومت کے پاس تو نظر نہیں آتے۔ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی سیاسی سوچ ہے، نہ پالیسی اور نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *