تصویر نہیں تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب کی دنیا میں خواتین کا ایک بہت بڑا حصہ نظر آتا ہے، چاہے وہ ماضی کی بات ہو یا جدید دور کی ، خواتین نثر نگاروں نے بہت شہرت حاصل کی اور اردو ادب کی ترویج و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ خواتین نے اپنی تحریروں میں زندگی سے وابستہ ہر مسئلے کی نشاندہی کی اور اپنے قلم سے زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا، خصوصاً خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے آگاہی پیدا کی گئی، مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ہر دور میں خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں سب سے بڑا مسئلہ میرے خیال میں یہ ہے کہ تحریر سے پہلے ان کی تصویر زیر بحث آ جائے حالانکہ خوبصورتی تو خالق کائنات کی عطا ہے، قارئین کا ردعمل اگر اس طرح آئے:

”واؤ! آپ تو بہت خوب صورت ہیں“
”کیا خوبصورت رائٹر ہیں“
”ارے واہ جی! تحریر تو لکھنے والی کی طرح خوبصورت ہے؟“

تو لکھنے والے کو پڑھنے والا اپنے انتہائی سطحی ذہن کا حامل ہونے کا تأثر دیتا ہے اور یوں تحریر کی بجائے تصویر پر تبصرہ کرنے والا اپنی اہمیت بالکل کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا یا واٹس ایپ پر غیر ضروری پیغامات لکھاری کی پرائیویسی کو درہم برہم کر دینے کے مترادف ہے۔

ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جو سراسر آسانی ہی آسانی ہے، تحفظ ہے، آگاہی ہے، نجات ہے اور موت کے بعد شروع ہونے والی زندگی کے لیے نوید بھی۔ جو ہمیں حکم دیتا ہے کہ کسی کے گھر جاؤ تو تین بار کی دستک پر دروازہ نہ کھلے تو واپس لوٹ جاؤ اور ناراض بھی مت ہو کہ ہو سکتا ہے کوئی مجبوری ہو، کوئی آرام کر رہا ہو یا پھر ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ کسی سے نہ ملنا چاہ رہا ہو۔ میرے خیال میں یہی اصول فون اور سماجی رابطوں کے دیگر ذرائع کے لئے بھی ہے کہ اگر کوئی آپ کو جواب نہیں دے رہا تو صبر کر لیں اور مزید پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔

نورالہدیٰ شاہ ہماری اردو ڈرامہ انڈسٹری کا منفرد اور معروف نام ہیں، ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ ایک سخت روایتی علاقے سے تعلق کی وجہ سے ان کی والدہ نے ایک طویل عرصے تک ان کو ٹی وی انٹرویو دینے کی اجازت نہ دی، میرے ذہن میں آنے والے ”کیوں“ کے سوال کا جواب میری کالم نگاری کے آغاز ہی میں مجھے مل گیا کہ ہمارے معاشرے میں ان کے لکھے ہوئے ڈرامے تو عوام تک پہنچ سکتے ہیں مگر ہمارے معاشرے کی حریص نظریں ماؤں کو اپنی بیٹیوں کو ایسے پوشیدہ رکھنے پر مجبور کرتی ہیں جیسے سعودیہ کے شاپنگ مالز پر رکھی ملبوسات کی مورتیوں کے سر۔ جن کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ صاحب اپنی کتاب ’منہ ول کعبہ شریف‘ میں لکھا کہ یہ مورتیاں عرب معاشرے میں خاتون کی موجودگی کا اصل نمائندہ ہیں کہ وہ سر یعنی دماغ کو استعمال ہی نہیں کرتیں۔ حالانکہ خاتون ذہنی صلاحیتوں میں کسی بھی طرح سے مرد سے کم نہیں بلکہ پاکستان میں تو جسمانی صلاحیتوں میں بھی مرد سے آگے ہے کیونکہ پاکستان کی دیواروں پر میں نے ہر جگہ مردانہ کمزوری کے علاج کے اعلان لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔

لہٰذا یہ مان لینے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم، حس لطیف، فکر وسیع اور نطق فصیح جیسی بے بہا دولت سے بلا امتیاز مرد و زن نوازا ہے۔

خواتین اور خاص طور پر لڑکیوں کی پروفائل پکچرز پر ذاتی نوعیت کے کمنٹس سے کسی کو اگر فرق پڑتا ہے تو وہ کمنٹ کرنے والا خود ہے۔ ہمیں اپنی خوبصورت ثقافت اور روایات کی پاسداری سوشل میڈیا پر بھی کرنے کی عادت ہونی چاہیے کہ ہم تو اس کلچر کا حصہ ہیں جہاں کسی کی بھی بہن بیٹی اپنی بہن بیٹی کی طرح ہوتی ہے، اگر تحفظ کی اس فضاء کو یقینی نہ بنایا گیا تو لکھنے پڑھنے والے ذہین اور خوبصورت اذہان کے لئے ادب کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار آسان نہیں ہو گا۔

جب کوئی طالب علم میری طرح اپنے سکول یا کالج کے زمانے ہی سے لکھنے کا آغاز کر دے تو یہ بات قارئین کے لئے غیر معمولی نہ بھی ہو اتنی معمولی بھی نہیں ہوتی، ان کے اندر لکھاری کو جاننے اور اس سے بات کرنے کا تجسس ہوتا ہے اور لکھنے والی اگر لڑکی ہو تو یہ تجسس ضرورت سے کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔ ایسا ہی تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب اخبار والوں نے میری طرف سے بھیجے گئے کوائف میں موجود فون نمبر کو میری تحریر کے ساتھ شائع کر دیا تو بس پھر میرے واٹس ایپ میں میرا انٹرویو کرنے والے ہر رنگ، نسل اور عمر کے لوگوں کی گویا برسات شروع ہو گئی۔

میرے لیے یہ نیا اور حیران کن تجربہ تھا۔ جس کو ہینڈل کرنے میں ماما نے میرا ساتھ کچھ یوں دیا کہ جب آپ اتنی کم عمری میں پبلک سائٹس، بلاگز بلکہ اخبار میں لکھنا شروع کرتے ہیں تو آپ پبلک فگر یعنی سماجی شخصیت بن جاتے ہیں جو کہ ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی، جس کو آپ نے احتیاط سے یوں نبھانا ہوتا ہے کہ کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اور ذات کا وہ احساس جو رب تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا، وہ پہچان جو آپ کو اپنے والدین سے ملی اور جس پہچان کے ساتھ آپ نے معاشرے میں مزید آگے بڑھنا ہے ،وہ نہ صرف برقرار رہے بلکہ اللہ کی ذات اس میں مزید برکت دے تو وہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ اپنی ذاتی، خاندانی، اور دینی اساس کے پندار پر مضبوطی اور شعوری کوشش سے قائم رہیں۔

آپ کو معلوم ہو کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اور کوئی دوسرا آپ سے کیا کہہ رہا ہے، کس سے کتنی بات کرنی ہے۔ ماما مزید کہنے لگیں آپ کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ آپ کو جو جملہ سب سے زیادہ سننے کو ملے گا وہ ہو گا کہ ’آپ بہت خوب صورت ہیں‘ ، اور اسی پر آپ کو سب سے کم دھیان دینا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ واقعی ہی بہت خوب صورت ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قاری کو آپ کی تحریر میں کوئی دلچسپی نہیں۔

اور اس تجربے سے میں کئی بار گزری بلکہ مجھے اپنے کالمز کے نیچے ایسے کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا پڑا، بہت سارے لوگوں کو میں نے فیس بک اور واٹس ایپ پر بلاک بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں کچھ ایسے قارئین ہیں جو روزانہ آپ کی تحریر کو پڑھتے ہیں، اخبار سے تصویر بناتے ہیں اور آپ کو بھیج کر تحریر کی تعریف کرتے ہیں، جس سے ہماری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مزید اچھا لکھنے کو دل چاہتا ہے۔ لکھنے والا اسی لیے لکھتا ہے کہ اس کی تحریر کو پڑھا جائے، لوگ اس تحریر پر اپنے خیالات کا اظہار کریں تاکہ سوچ کے نئے در وا ہو سکیں کیونکہ سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی صلاحیتوں سے عاری معاشرے کھوکھلے ہوتے ہیں۔

ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور کس نے کیا پہنا ہے، کون کیسا نظر آ رہا ہے، کہاں رہتا ہے کے مخمصے سے باہر آنا ہو گا۔ غیر ضروری سوالات اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ ہر روز صبح صبح پھولوں والی تصویر کسی لکھاری کے واٹس ایپ میں اس کی فون میمری پر بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جبکہ آپ کو اس کا جواب بھی کبھی موصول نہیں ہوا۔ میں یہ جان کر حیران ہوں کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگوں کے پاس کتنا فارغ وقت ہے کہ وہ سینڈ ٹو آل کا آپشن استعمال کر کے ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگوں کی فون میمری کو فل کرنے کی عادت سے مجبور ہیں۔

میں نے اپنے اخبار کے ایڈیٹر کو اپنے کالمز کے ساتھ فون نمبر کو ہٹانے کی درخواست بذریعہ ای میل کر دی ہے۔ بہرحال انہی دلچسپ لوگوں سے ہوتا ہوا میرے قلم کا وہ سفر جاری ہے جس میں مجھے میری تحریر کی جانب پڑھنے والوں کی توجہ درکار ہے جو حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اصلاح کا باعث ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *