آئی ایم ایف شرائط پر عمل: معیشت کے لیے کیا مضمرات ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قانون میں ترمیم کر کے بینک کو وفاقی سرکار سے مکمل خودمختار کرنے جا رہی ہے اور حکومت نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی منشا کے مطابق چھوٹی صنعتوں اور دوسرے شعبوں کے لیے ٹیکس چھوٹ اور کمزور شعبوں کے لیے سبسڈی بھی ختم کرنے جا رہی ہے۔ یہ عمل ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا۔

خیال رہے پاکستان نے آئی ایم ایف سے اس وقت معاہدہ کیا تھا جب پاکستان کا معاشی عدم استحکام بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ تجارتی خسارہ دن بہ دن بڑھ رہا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے تھے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ڈالر کے مقابل روپے کی گراوٹ بھی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔ ایسے حالات میں تحریک انصاف کی حکومت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دوست ممالک سے قرضہ لیا لیکن پھر بھی ملک کے معاشی حالات بہتر نہیں ہو رہے تھے۔

ان حالات میں آئی ایم ایف ہی واحد امید کی کرن نظر آ رہی تھی۔ بالآخر پاکستان نے مذاکرات کر کے آئی ایم ایف سے جولائی 2019 میں ایک بیل آؤٹ پیکیج لیا، جس کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضوں کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو بھی مدد فراہم کی جا سکے۔ اس بیل آؤٹ پیکیج کے بدلے میں آئی ایم ایف نے بہت سخت شرائط عائد کی تھیں۔ میرے نزدیک بیل آؤٹ پیکیج تو پاکستان کے لئے ناگزیر تھا لیکن آئی ایم ایف کی شرائط ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہیں۔ اور ستم یہ ہے کہ اب آئی ایم ایف بضد ہے کہ پاکستان کو ان شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان شرائط کے پاکستان کی معیشت پر کیا سے اثرات و مضمرات ہوں گے؟

آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق حکومت مرکزی بینک کے ایکٹ میں ترمیم کر کے بینک کو نئی ذمہ داریاں سونپے جا رہی ہے۔ جس کے تحت بینک کے کام ہوں گے مہنگائی کو کنٹرول کرنا، کرنسی کے معاملات کو ریگولیٹ کرنا۔ معیشت کی بہتری بینک کی آخری فہرست میں شامل ہو گی۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق اسٹیٹ بینک کی بے ضابطگیوں کا وفاقی حکومت کے کسی بھی ادارے نیب ایف آئی اے وغیرہ کو جانچ پڑتال کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا۔ گورنر کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کے پانچ سال کی جا رہی ہے اور حکومت گورنر کو صرف سنگین نوعیت کے الزامات پر، جس کا فیصلہ بھی کورٹ ہی کرے گا، ہٹا سکے گی۔

بینک حکومت کو کٹھن معاشی حالات میں بھی ادھار نہیں دے گا۔ اگر حکومت کو پیسوں کی ضرورت پڑے گی تو وہ بھاری شرح سود پہ کمرشل بینکوں سے ہی قرضہ لے سکے گی۔ یاد رہے کہ اس وقت حکومت اسٹیٹ بینک سے کمزور شعبوں، صنعتوں اور علاقوں کی ترقی کے لیے قرضہ لیتی ہے۔ اس سے نہ صرف ڈویلپمنٹ ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔ لیکن مجوزہ ترمیم کے بعد حکومت اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارے گی۔ ترمیم کے بعد اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کا ذیلی ادارہ بن جائے گا۔ آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک سے ڈائریکٹ رابطے میں ہو گا اور اس کو ڈکٹیشن دی جائے گی کہ کون سے اقدامات اٹھانے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی آئی ایم ایف کی منشا والی خودمختاری پاکستان کی معیشت کے لیے تباہی کا سامان ہو گی۔ دیکھیے، اس وقت حکومت مرکزی بینک سے ادھار لے کر غیر ترقی یافتہ علاقوں، شعبوں، صنعتوں پر سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس سے ملکی معیشت کا پہیہ بھی چلتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن مجوزہ ترمیم کے بعد حکومت اسٹیٹ بینک سے ادھار نہیں لے پائے گی۔ وہ صرف کمرشل بینکوں سے زیادہ سود پہ قرضہ لے سکے گی۔ ایک تو اس وقت ملک کی معاشی حالت تشویش ناک ہے اور دوسرا ملک پہ پہاڑ جتنے ملکی اور بین الاقوامی قرضے ہیں۔ تیسرا حکومت قرضوں کا سود واپس کرنے کے لیے قرضے لے کر ٹائم گزار رہی ہے۔ ایسے میں حکومت جب مرکزی بینک سے ادھار بھی نہیں لیے پائے گی تو اور زیادہ سود پہ قرضے لے گی۔ ان حالات میں ملک کی معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا؟ یعنی مجوزہ ترمیم کے بعد نہ تو ملک میں کوئی ڈویلپمنٹ ہو گی نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں گے۔

دوسری جانب جب اسٹیٹ بنک نے آئی ایم ایف کی شرائط پر کام کرنا شروع کر دیا تو بینک مانیٹری پالیسی کا ٹول استعمال کر کے شرح سود بڑھائے گا۔ اس سے پہلے بینک شرح سود فسکل پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑھاتا تھا۔ اب جب شرح سود بڑھے گی تو چھوٹی صنعتیں کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے سے قاصر ہوں گی۔ نتیجتاً صنعتوں کی پیداوار کم ہو جائے گی اور ملکی جی ڈی پی کی گروتھ پہ بھی منفی اثر ہو گا۔ روزگار کے مواقع بھی کم ہو جائیں گے۔ اور بیروزگاری اور بدحالی کا طوفان آ جائے گا۔

آئی ایم ایف کے یہ اصول اور ضوابط ترقی یافتہ ممالک کے لیے تو ٹھیک ہوں گے، لیکن تیسری دنیا بشمول پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی فی کس آمدنی یا قوت خریداری زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں کی ڈیمانڈ بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسے ممالک میں مرکزی بینک کا اہم کام مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ معاشی ٹرم میں ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ فی کس آمدنی ہونے کی وجہ سے پراڈکٹس کی ڈیمانڈ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے جب لوگوں کی قوت خرید زیادہ ہو اور پراڈکٹس کی مانگ بھی زیادہ ہو، ایسے حالات میں مہنگائی کا ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں مرکزی بینک مانیٹری پالیسی کا ٹول استعمال کرتے ہوئے افراط زر کو کنٹرول کرتا ہے۔

یاد رہے کہ مرکزی بینک مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود بڑھاتا یا کم کرتا ہے۔ اور جب شرح سود زیادہ ہوتا ہے تو لوگ بینکوں میں سیونگ کر کے منافع حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل سے مارکیٹ میں کیش کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور جب لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے پیسہ کم ہو جاتا ہے، تو مارکیٹ میں خریدار بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے مہنگائی بھی ازخود کم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے ایسا صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی کہانی ذرا مختلف ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کے اسباب اور اقسام ہی مختلف ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں افراط زر کا سبب اشیاء کی رسد کی کمی ہوتی ہے۔ مثلاً جب پاکستان میں گزشتہ مہینوں میں چینی اور گندم کی رسد مارکیٹ میں کم تھی، ان اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ تو جب پاکستان میں افراط زر کے اسباب اور اقسام ہی ترقی یافتہ ممالک سے مختلف ہیں تو مرکزی بینک اس قسم کی مہنگائی کو کیسے کم کر پائے گی؟

اس قسم کی مہنگائی کو تو صرف حکومت گڈ گورننس کے ذریعے کنٹرول کر سکتی ہے۔ یعنی اشیاء کی رسد حکومت ہی یقینی بنا سکتی ہے اور ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات بھی حکومت ہی اٹھا سکتی ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر پاکستان کے مرکزی بینک کو خودمختار کرنے سے کون سا فائدہ ہو گا؟ میرے خیال میں اس قدم سے پاکستان کی معیشت کو صرف نقصانات ہی ہوں گے۔ اصل میں آئی ایم ایف ترقی یافتہ ممالک اور تیسری دنیا کے ممالک کو ایک ہی پالیسی کے تحت چلا رہا ہے اور اس کی پالیسیوں سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ آپ ان سارے ممالک کی معیشت کو تباہ پائیں گے جن ممالک میں آئی ایم ایف کی مداخلت ہوتی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی کی فی یونٹ میں پانچ روپے بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ اور حکومت گیس ٹیرف میں بھی اضافہ کرنے جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت ٹیکس کی چھوٹ بھی ختم کرنے کا سوچ رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عام لوگوں کی جیب پر بوجھ بڑھے گا بلکہ افراط زر میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ ان پالیسیوں سے زراعت اور صنعتوں کی مجموعی پیداوار پر بھی منفی اثرات ہوں گے۔ ملک کی جی ڈی پی گروتھ بھی کم ہو جائے گی۔ ایسے میں ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے ایسی شرائط کیوں رکھی ہیں؟ میرے خیال میں آئی ایم ایف کا مقصد ہے کہ کسی بھی طرح پاکستان سے قرضہ واپس لیا جائے۔ بھلے ملکی معیشت اور عوام پہ اس کے جیسے بھی اثرات پڑیں۔ دوئم، جیسا کہ آئی ایم ایف ترقی یافتہ ممالک کے زیر انتظام ہے، اس ادارے کو تیسری دنیا بشمول پاکستان کی معیشت کا صحیح اندازہ ہی نہیں ہے۔ مثلاً آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اسٹیٹ بینکس کا کام قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور مہنگائی کو ضابطے میں رکھنا، کرنسیوں کی مٹا سٹا کو ریگولیٹ کرنا، اور معاشی دیوالیہ میں حکومت کی مالی مدد کرنا ہوتا ہے۔

مرکزی بینک کا فسکل پالیسی اور ملکی جی ڈی پی کی گروتھ میں بہت کم رول ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کا مرکزی بینک مکمل طور پر خودمختار نہیں ہے۔ حکومت بینک کو آزادانہ طور پہ کام کرنے ہی نہیں دیتی۔ پاکستان میں اسٹیٹ بینک حکومت کے زیر اثر ہے۔ جس کی مدد سے حکومت مالی معاملات چلا رہی ہے۔ اس لیے بینک اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہا اور مجموعی قومی پیداوار بھی بڑھ نہیں رہی۔ لہٰذا اسٹیٹ بینک کو خودمختار کیا جائے تاکہ وہ اپنا کام اچھی طرح کر سکے۔

اس بحث سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت سے اچھی طرح واقف ہی نہیں ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کی معیشت کو ترقی یافتہ ممالک کی طرح ڈیل کر کے، ترقی یافتہ ممالک جیسی پالیسیاں تجویز کر کے ملکی معیشت کو مزید برباد کر رہا ہے۔ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کے قرضوں کے بار کی وجہ سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت اپنی ناکام معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف سے مراعات حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے پہ تلی ہوئی ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف کے شرائط پر اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر اقدامات اٹھا رہی ہے۔

ان اقدامات کی ملکی معیشت کو بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کر کہ شرائط میں نرمی کروائے۔ اگر آئی ایم ایف شرائط میں نرمی نہ کرے تو حکومت اس آئی ایم ایف پیکیج سے ہی نکل جائے۔ نہیں تو ملک کی معیشت مزید تباہ ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *