کورونا وبا اور دو پڑوسی
آج آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔ جو میں نے بچپن میں سنا تھا۔ ”قصہ کچھ یوں ہے کہ کسی گاؤں میں مرد خاتون کے ساتھ جا رہا تھا۔ آگے مرد اور پیچھے خاتون چل رہی تھی۔ مرد نے نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سر پر خوبصورت پگڑی، چہری پر داڑھی اور مونچھ بھی سنوری ہوئی تھی۔ پیروں میں جوتے پالش کیے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت چھڑی بھی تھی۔ جبکہ مرد کے پیچھے قدم بہ قدم چلنے والی خاتون کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ سر پر دوپٹہ ادھڑا ہوا اور پیر ننگے تھے۔ راستے میں چلتے کسی راہ گیر نے مرد سے کہا کہ ”آپ ننگے جا رہے ہیں۔“ جس پر مرد نے راہ گیر پر ہنستے ہوئے کہا کہ ”آپ اندھے تو نہیں ہیں۔ میں نے صاف اور نئے کپڑے پہنے ہیں۔ سر پر پگڑی ہے۔ دکھ نہیں رہا کیا؟“ جس پر راہ گیر نے جواب دیا۔ ”تمہارے ساتھ جو خاتون جا رہی ہے اسے دیکھو۔ اس کے پھٹے کپڑے دیکھو۔ اس کی حالت دیکھو۔“
راہ گیر کی بات وہ مرد سمجھا یا نہیں۔ یہ نہیں معلوم لیکن جو قصہ ہے، ایسی ہی حالت دو پڑوسیوں بھارت اور پاکستان کی ہے۔ جن کے پاس دکھانے کو بہت کچھ ہے لیکن ان کا پچھواڑا ننگا ہے۔ حالات کے پھٹی چولی پر کئی چیپیاں لگی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی بھوک، غربت، تعلیم و صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور بے روزگاری سمیت کئی مسائل کا ننگا پن صاف صاف نظر آ رہا ہے۔ پچھواڑا نظر نہیں آتا اس لئے دونوں بظاہر مطمئن نظر آتے ہیں یا پھر دونوں نے ان سب مسائل کو نظرانداز کر رکھا ہے۔
یہ دونوں پڑوسی روزانہ اپنی اپنی سرحد پر اپنی اپنی ٹانگیں اٹھاتے ہیں، گھورتے اور چیختے ہیں اور پھر چپ ہو جاتے ہیں۔ یہ تماشا برسوں سے چل رہا ہے۔ یوں ٹانگیں اٹھانے، گھورنے اور چیخنے پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ اب تو دونوں نے ایسے ایسے مہلک ہتھیار بنا لیے ہیں جن سے انسانی فلاح و بہبود تو ناممکن، البتہ نقصان بہت ہیں۔ دونوں پڑوسی چاقو، تلوار، خنجر، بندوق، توپ، ٹینک اور میزائل پر کھربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے اپنے دکھی، بنیادی سہولیات سے محروم اور حالیہ دنوں کورونا وبا سے تڑپتے عوام کو بچانے پر خرچ کریں تو اس میں کیا برا ہے۔
ان دنوں بھارت کورونا کے نرغے میں آ چکا ہے۔ گزشتہ برس بھارت میں اسلامی اجتماعات کو کورونا بم کہنے والے کمبھ میلے پر خاموش ہیں۔ کبھی گھنٹیاں اور برتن بجانے کے ساتھ توہم پرستانہ جتن کیے گئے، مگر رتی برابر بھی افاقہ نہ ہوا۔ اگر سچ مچ کورونا کو بھگانا ہے تو اسے صرف اور صرف سائنس کی بدولت۔ علاج / ویکسین سے ہی بچایا جاسکتا ہے۔
بھارت میں کورونا انسانی المیہ بن چکا ہے۔ وہاں کے حالات دیکھ کر میں بھی بہت دکھی ہوں۔ جہاں اسپتال، سڑکیں، قبرستان اور شمشان یا بیماروں سے بھر گئے ہیں یا پھر لاشوں سے۔ ایسا لگتا ہے کورونا کا جن آدم بو آدم بو کہتا ہوا ہر طرف بڑھ رہا ہو۔ پاکستان کے حالات بھارت جیسے نہیں لیکن خطرے کی گھنٹی یہاں بھی بج گئی ہے۔ اسلام آباد اور لاہور کے اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی کہہ دیا کہ ”ملک میں آکسیجن کی سپلائی دباؤ میں ہے اس لیے کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے۔“
ہمارا حال تو بہت برا ہے۔ آبادی کے حساب سے نہ وینٹی لیٹرز ہیں اور نہ ہی مریض بڑھنے پر آکسیجن دستیاب ہو گی۔ صرف کراچی کی آبادی کو اگر سامنے رکھ سوچا جائے تو یہاں کتنے اسپتال اور ایمرجنسی سینٹرز یا فیلڈ اسپتال ہیں اور ان میں کتنے افراد رکھنے کی گنجائش ہے۔ اس کا جواب یقیناً تکلیف دہ ہو گا۔
ایک طرف حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ شہروں، گاؤں اور دیہات میں تو اکثریت ماسک پہننے والے کو حیرانی سے دیکھتی ہے۔ گویا وہ بے وقوف ہے۔ ایک رشتہ دار خاتون نے میرا فیس ماسک دیکھ کر طنزیہ کہا ”آپ کو ہم سے کورونا لگنے کا ڈر ہے؟“
” نہیں مجھے یہ ڈر نہیں کہ آپ سے مجھ کو کورونا ہو گا۔ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں مجھ سے آپ کو نہ لگ جائے۔“ میں نے کہا۔
میری بات پر وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں : ”چھوڑیں کورونا وورنا کچھ نہیں ہے۔ یہ شہروں میں ہو گا۔ یہاں گاؤں میں نہیں۔ یہاں آلودگی نہیں ہے۔ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی ہے۔ دیکھیں ہر طرف ہریالی ہے۔ ہمیں کچھ نہیں ہو گا۔“
ایک خاتون نے پورے معاشرے کی سوچ کی عکاسی کر دی۔
اس ساری صورتحال میں بڑا کردار حکومت کا بنتا ہے۔ اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں۔ مرحلہ وار ویکسی نیشن میں جوانوں، نوجوانوں اور بچوں کا نمبر آنا ابھی بہت، بہت دور ہے۔ حکومت کے بعد ایک ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ ہم خود اس وبا کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنے پیاروں، رشتہ داروں اور دوستوں کو سمجھائیں کہ اس مرض سے بچنا ہے تو احتیاط برتنا ہو گی۔ اگر آج فیس ماسک نہیں پہنا تو کل آکسیجن ماسک لگانا پڑ سکتا ہے۔ اور یہ لاپروائی جان لیوا ہو گی۔


