دونوں ایٹمی طاقتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی ہے۔ ایک جانب انڈیا کا ترنگا ہے اور دوسری طرف ہمارا سبز ہلالی جھنڈا ہے۔ لوگوں نے اس پوسٹ پر اپنی سمجھ کے حساب سے محبت اور جذبات بھرے کمنٹس کیے ہیں۔ لیکن ایک صاحب نے ایک تین چار سطور کی پوسٹ کی ہے، جو جذباتی ضرور ہے لیکن عقل کی بھٹی میں پکنے کے بعد ۔ جذبات بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک نرے جذبات جن کا تعلق خالصتاً دل اور منہ سے ہوتا ہے اور دوسری قسم کے جذبات کا تعلق بھی منہ اور دل سے ہوتا ہے لیکن بیچ میں عقل کارفرما ہوتی ہے۔

تو یہ پوسٹ جذبات کی اس دوسرے قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ ان صاحب نے لکھا ہے کہ یہ دونوں ممالک ماشاءاللہ ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن ایک کے پاس ویکسین نہیں ہے اور دوسری کے پاس آکسیجن دستیاب نہیں اور دونوں اربوں روپے کی لاگت سے میزائل کے تجربات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ کورونا کے ویکسین اور آکسیجن کا ایٹمی طاقت اور میزائل تجربات سے بھلا کیا تعلق؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں ایٹم بم، میزائل اور فوج کو گھسیٹا جائے۔

سیلف رسپیکٹ، خود مختاری، خودداری، دفاع اور سیاسی اقتدار اعلیٰ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہر ادارے کا اپنا اپنا کام ہوتا ہے اور پاک فوج اپنا کام اور ذمہ داری ان محدود وسائل میں بڑے احسن طریقے سے نباہ رہی ہے۔ یہ دیگر ادارے ایسا کیوں نہیں کرتے، یہ ادارے ان کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟ یہ تو صحت کا معاملہ ہے صحت کا ادارہ کیوں ویکسی نیشن کا بندوبست نہیں کرتا؟

دوسری جانب تعلیمی ادارے بند ہیں، مارکیٹس اور بازاروں کو اپنے درست اوقات میں لانے کے جتن ہو رہے ہیں۔ شادی ہال اور ریستوران پہلے سے اپنے اپنے اوقات میں محدود کر لیے گئے ہیں۔ مقامی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کو بھی پابند کرنے کی سعی کی جا رہی ہے تاکہ درست سمت پر آئے اور یہ کورونائی جرثومے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی مسافت طے نہ کر سکیں۔ فیس ماسک سے پہلے عوام کے منہ کو ڈھانپا گیا ہے اور اب تو یوں لگتا ہے کہ حکومت وقت کو صحیح طور پر قومی مفادات یا عوامی بھلائی کی خاطر عوام کے منہ کو سلیقے سے بند رکھنے کے لئے فوج کی خدمات درکار ہیں۔

دہشت گردی بھی تو ہم نے ایسے ہی ختم کی ہے کہ جہاں ضرورت ہوئی وہاں پیرا ملٹری فورسز کو بھیجا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر ان دہشت گرد جرثوموں کا کورونا جرثومے کی طرح گولی ( بلٹ ) اور سپرے کے ذریعے قلع قمع کیا۔ اور جہاں زیادہ ضرورت محسوس ہوئی وہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کے طرز پر محاصرے اور ناکہ بندیاں کیں اور جس پر شک ہوا کہ یہ شخص دہشت گردی یا کورونائی جرثومے کا شکار ہے، اس کو بڑے طریقے، سلیقے سے اٹھا کر وینٹی لیٹر کے آلات میں ایسا محفوظ کیا کہ بیماری کا نام و نشان ہی باقی نہیں رہا۔ اور حکومت کیا کرے؟

پھر بھی ہر بار ہر بات پر فوج اور ایٹم بم یا ایٹمی طاقت پر طعنہ زنی سے ہم باز نہیں آتے۔ یہی بات میں اپنے ایک دانشور دوست کو بھی سمجھانے کے لیے گیا اور بڑے دلیرانہ اور مدبرانہ انداز میں ان سے شیئر کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے دن صحت کا مسئلہ ہو، تعلیم کا مسئلہ ہو، انصاف کا مسئلہ ہو، رہائش کا مسئلہ ہو بیچ میں ایٹمی طاقت اور میزائل کے تجربات پر اربوں روپوں کی لاگت کی بات کو لے آتے ہیں، وہ تو اپنا کام کر رہے ہیں ان محدود وسائل میں، یہ دوسرے ادارے ان کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟

میرے دانشور دوست نے پہلے میرے چہرے پر فکر بھری جذباتی کیفیت کو دیکھا پھر میرے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور میرے ساتھ ہمدردی کرنے کے لئے میرے دائیں شانے پر اپنا بایاں ہاتھ رکھا، پھر دھیمے لہجے میں اور مسکراہٹ بھرے انداز میں ایک لطیفہ سنایا کہ گاؤں کے مسافر بس میں شہر سے گاؤں کی جانب محو سفر تھے۔ اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا شخص بڑے مزے سے اپنی خریدی ہوئی گنڈیریوں میں سے ایک ایک کو اٹھا کر چوستا تھا اور چوسنے کے بعد گاڑی میں ہی پھینک دیتا تھا جیسا کہ گاؤں کی گاڑیوں میں ہوتا ہے۔

اس شخص کے پیچھے والی سیٹ پر جو شخص بیٹھا ہوا تھا، وہ اس کی پھنکی ہوئی گنڈیریاں اٹھا اٹھا کر مزید چوستا تھا۔ کچھ لمحے کے بعد آگے والے شخص کی اس پر نظر پڑی تو کہنے لگے تم کتنے بھوکے آدمی ہو، میری چوسی ہوئی گنڈیریوں کو اٹھا اٹھا کر بڑے مزے سے چوس رہے ہو؟

تو پیچھے بیٹھے شخص نے جواب دیا بھائی صاحب! ذرا اپنی حرکت پر بھی غور کرو تم کتنے بھوکے ہو کہ تھوڑا جوس بھی ان گنڈیریوں میں نہیں چھوڑتے۔
اور میرا دوست اس لطیفے ہر ہنسا بھی خود کیونکہ میرے لئے اس میں ہنسنے کے لیے کچھ نہیں تھا بلکہ سمجھنے کے لئے بہت کچھ تھا، جو پہلے ہی میری ہنسی اڑا کے لے گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *