وبا کا قہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس ایک برس سے زائد عرصے سے دنیا پہ منڈلاتا پھر رہا ہے۔ پہلی، دوسری، تیسری اور کچھ ملکوں میں چوتھی لہر آچکی ہے۔ موت، وبا کا روپ دھارے اب ہمارے سامنے کھڑی ہے۔

انڈیا میں، ہم جیسے، ہماری ہی زبان بولتے، ہماری ہی طرح روتے، سسکتے، ہم جیسے ہی غریب اور پسماندہ انسان اس کے قہر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک ماں کے ہاتھ سے اتاری چوڑیاں، چتا میں جلتی ماں، سٹریچر پہ دم توڑتا بھائی، بے بسی سے ڈاکٹروں کو پکارتے رشتے دار اور موت کے آگے سرنگوں مسیحا۔ یہ مناظر اپنے فون کی سکرین پہ دیکھ دیکھ کے دل درد سے بھر جاتا ہے۔

بے بسی سی بے بسی ہے۔ پچھلے ایک برس سے زائد عرصے میں کورونا دنیا کے ہر خطے میں تباہی مچاتا پھرا ہے لیکن جو تکلیف انڈیا کے المیے سے پہنچ رہی ہے اس کی شدت زیادہ ہے۔ شاید یہ درد مشترک ہے۔

ہماری طرح وہ بھی ایک بےحس نظام میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پس رہے ہیں۔ ہماری طرح وہاں کے نظام صحت کی قلعی بھی چند روز میں کھل گئی۔ ہماری طرح انہوں نے بھی اپنی آبادی کے تناسب سے صحت کی سہولیات فراہم نہ کی تھیں اور ہماری ہی طرح ان کو میلے ٹھیلے اور سیاسی ریلیاں انسانوں کی زندگیوں سے زیادہ عزیز تھیں اور شاید ہماری ہی طرح انہیں ایک بھروسہ تھا کہ ہمیں کچھ نہیں ہو گا۔

تحفظ کا یہ جھوٹا احساس ہر وبا کے ساتھ انسانوں کی اجتماعی نفسیات میں پیدا ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ کو لگتا ہے کہ یہ سب جھوٹ بکواس ہے۔ لوگ بے وجہ ڈرتے ہیں اور وہی مرتے ہیں جو ڈرتے ہیں۔

مگر ایسا نہیں ہے۔ وبا زیادہ تر وائرس سے پھیلتی ہے اور وائرس میں جینیاتی تبدیلی ہماری نسبت بہت تیزی سے آتی ہے۔ انسان کا مدافعتی نظام اسے سمجھے، اور اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنائے، اس سے پہلے ہی وہ اپنا وار کر جاتے ہیں۔

کووڈ 19 کی ویکسین بن چکی ہے، لگ رہی ہے، لگ چکی ہے۔ لوگوں کو اس پہ بھی یقین نہیں اور اس بے یقینی کی وجوہات ہیں۔ کئی لوگ ویکسین کی ایک خوراک لگنے کے بعد اس بیماری کا شکار ہوئے۔

وائرس میں جینیاتی تبدیلی آ رہی ہے۔ پہلے برطانیہ میں اور اب انڈیا اور سری لنکا میں اس کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ جو ویکسین موجود ہے، کیا وہ ان نئی اقسام کے خلاف بھی مدافعت پیدا کر سکتی ہے؟ بہت سے سوال ایسے ہیں کہ ابھی نہ تو کوئی پوچھ پا رہا ہے اور نہ ہی کسی کے پاس ان کے جواب ہیں۔

پاکستان میں بھی صورت حال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور وبا بڑی خاموشی سے پھیل رہی ہے۔ کئی شہروں کے ہسپتال بیماروں سے بھر چکے ہیں۔ شام پڑنے سے پہلے بازار بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر بھی وبا ان ویران گلیوں میں گھومتی، گھروں کے دروازوں سے اندر رینگ رہی ہے۔

آنے والے چند ہفتے ،جانے کیسے ہوں گے؟ انسان کس قدر احتیاط کر سکتا ہے؟ پچھلے برس احتیاط کی گئی تھی تو معاملات نہیں بگڑے تھے لیکن اس برس نہ تو عوام ہی میں وہ سنجیدگی ہے اور حکومت کے اقدامات بھی اس حد تک سخت نہیں ہیں۔

بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حکومت نے اس بار وبا کو خود گھر کا راستہ دکھایا ہے۔ برطانیہ سے آنے والی پروازوں سے یہ بیماری آتی رہی، مسافر قرنطینہ کی بجائے عام لوگوں میں ملتے رہے اور پچھلے برس کی ساری محنت پہ پانی پھر گیا۔

ویکسین شاید اب تک ایک فیصد لوگوں کو بھی نہیں لگ پائی۔ صحت کا نظام بھی وہیں کھڑا ہے جہاں پچھلے برس تھا۔ برطانیہ سے آنے والی وائرس کی یہ قسم، جسم میں آکسیجن کی شدید کمی پیدا کر دیتی ہے۔

حکومت نے آکسیجن کی فراہمی کے لیے، وقت سے پہلے اب بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ علاج کے لیے درکار سٹیرائیڈز اور دیگر دواؤں کے بارے میں بھی حکومت کو کچھ خاص فکر ہے نہ علم ہے۔

صرف ایک نعرہ رٹا دیا گیا ہے کہ لاک ڈاون نہیں کریں گے کیونکہ اس سے غریب مر جائے گا۔ حضور والا! لاک ڈاؤن نہ کرنے سے بھی غریب ہی مرے گا۔ لاک ڈاؤن کوئی مستقل حل نہیں صرف مرض کے پھیلاؤ کو روکنے اور حکومت کو صحت کی عارضی اور مستقل سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کچھ وقت مہیا کرنے کی حکمت عملی ہے۔

لیکن جب چام کے دام چلائے جائیں اور شہر میں تڑکے داخل ہونے والے کو بادشاہ بنا دیا جائے تو پھر یہ ہی حالات ہوتے ہیں۔ لاک ڈاؤن نہ ہو گیا این آر او ہو گیا، اس پہ بھی سیاست کر رہے ہیں۔

سوائے احتیاط کے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر وبا بپھر گئی تو ہمارا نظام صحت شاید انڈیا سے بھی جلدی بیٹھ جائے گا۔ ایک انسانی المیہ، جو شاید ایٹمی جنگ سے بھی بڑا ہے ہمارے سروں پہ منڈلا رہا ہے۔

جو حقائق سے آگاہ ہیں وہ خائف ہیں ، جو لاعلم ہیں وہ وسوسوں کا شکار ہیں۔ بہت ممکن ہے یہ تیسری لہر، اسی مہینے دم توڑ جائے اور ایک بار پھر ہم بے چارے پاکستانی اس بلا سے بچ جائیں۔

امید، احتیاط اور دعا کے علاوہ شاید ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ امید عناصر سے ہے کہ ہم پہ مہربان رہیں۔ احتیاط کیجئے، ملنا ملانا، افطار ڈنر، شادیاں، سالگرہ اور کمیٹی پارٹی، انسانی زندگی سے زیادہ اہم نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ اب غشی سے باہر نکلے، لاک ڈاؤن لگائے، عوامی تقریبات، امتحانات، انتخابات ملتوی کرے، عارضی ہسپتال قائم کرے، آکسیجن اور دواؤں کی فراہمی کا بلا تعطل انتظام کرے اور ویکسین لگانے کے عمل کو تیز کرے۔

اگر عوام اور حکومت اسی نیم دلی اور بےحسی سے وبا کے پھیلاؤ کو دیکھتے رہے تو خدانخواستہ ہفتے دس دن میں ہم بھی انڈیا کی طرح بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لاک ڈاؤن آخری آپشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •