بچوں کے ادب کا عالمی دن اور اردو میں بچوں کے لیے کچھ عمدہ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچوں کے ادب کا عالمی دن ہر سال اپریل کے پہلے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ یہ ہنس کرسچن اینڈرسن کی سالگرہ کے ساتھ منسوب ہے۔ اینڈرسن بچوں کے ادب کے بڑے ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ دن انٹر نیشنل بورڈ بکس آن ینگ پیپل یعنی آئی بی بی وائی کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے اس کا مقصد بچوں کی کتابوں سے قربت پیدا کرنا ہے۔ اس دن کے انعقاد کے پس منظر میں یہ خیال کارفرما ہے کہ بچوں کی کتابوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے۔ اور بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا جائے۔

اردو میں بچوں کے ادب کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ اردو میں ابتدا میں بچوں کا جو ادب تخلیق ہوا وہ کہانیاں نہیں تھیں بلکہ دو لسانی متنوع لغات تھیں جنھیں ”نصاب نامہ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کام اٹھارہویں صدی کے وسط سے شروع ہوا، جس کام کا مقصد بچوں کو اردو اور فارسی مترادفات کی ایک فہرست دینا تھا۔ انیسویں صدی میں، غالب نے بھی ”قادر نامہ“ کے نام سے اس طرح کی ایک مختصر سی لغت تیار کی تھی۔

اٹھارہ سو ستاون کے انقلاب نے ہر ادبی صنف کی طرح بچوں کے ادب کو بھی متاثر کیا۔ محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، راشد الخیری اور نذیر احمد نے بچوں کے ادب کے لیے نظمیں، مضامین اور کہانیاں لکھیں۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے وسیع پیمانے پر ادب تخلیق کیا۔ بہت خوبصورت اور آسان نظمیں تحریر کیں۔ یہ اسماعیل میرٹھی ہی تھے جنھوں نے لفظوں کی درجہ بندی کے ساتھ ابتدائی نصابی کتابیں تحریر کیں۔ ان کی ابتدائی نصابی کتابوں کو قیام پاکستان کے بعد تک پڑھایا جاتا رہا ہے اور آج بھی یہ درسی کتب نصابی کتابیں لکھنے والے نوواردان کو کئی چیزیں سکھا دیتی ہیں۔

خاص طور پر ان ابتدائی نصابی کتابوں میں شامل کچھ نظمیں اور کہانیاں اردو کی ابتدائی نصابی کتابوں میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ علامہ اقبال جنھوں نے بچوں کے لیے کچھ نظموں کا ترجمہ مغربی ادب سے کیا انھوں نے بھی بچوں کے ادب کے حوالے سے اپنی صلاحیت کو ثابت کیا۔ بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ جس میں محمدی بیگم، احسن مارہروی، تاجور نجیب آبادی، اختر شیرانی، پریم چند، عبد المجید سالک، چراغ حسن حسرت، حامد اللہ افسر، شفیع الدین نیر، امتیاز علی تاج، عصمت چغتائی، الیاس احمد مجیبی اور حفیظ جالندھری شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اردو میں ایک ناقابل فراموش کردار ”ٹوٹ بٹوٹ“ صوفی غلام مصطفی تبسم نے تخلیق کیا۔ آزادی سے قبل اردو میں بچوں کے بہت سارے رسالے جاری ہوئے اور انھوں نے اردو میں بچوں کے ادب کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا۔ ان رسائل میں بچوں کی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کہانیاں، مضامین، نظمیں، ڈرامے، لطیفے، چٹکلے، خاکے اور تصاویر شائع کی گئیں۔ ان میں پھول (لاہور) ، تعلیم و تربیت (لاہور) ، پیام تعلم (دہلی) ، غنچہ (بجنور) اور بچوں کی دنیا (الہ آباد) شامل تھے۔

آزادی کے بعد جن رسالوں نے اپنی شناخت بنائی، ان میں نونہال (کراچی) ، بھائی جان (کراچی) ، کھلونا (لاہور) ، بچوں کی دنیا (لاہور) ، ہونہار (کراچی) ، جگنو (لاہور) ، ٹوٹ بٹوٹ (کراچی) ، ساتھی (کراچی) اور کچھ دوسرے رسالے شامل ہیں۔ ایک اور رجحان جس نے بچوں کے ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا یہ تھا کہ تقریباً تمام اخبارات میں بچوں کا صفحہ شائع کرنے کی روایت موجود رہی ہے۔ آزادی کے بعد بچوں کے لیے کئی بڑے شاعروں اور ادیبوں نے نظمیں لکھیں۔ ان میں کئی بڑے اور نامور شعرا شامل ہیں۔

مثال کے طور پر، احمد ندیم قاسمی، ابن انشا، قتیل شفائی، محشر بدایونی، قیوم نظر، خاطر غزنوی، اور سلیم فاروقی وغیرہ۔ بچوں کے لئے کہانیاں اور ناول تخلیق کرنے والے دیگر معروف ادیبوں میں ہاجرہ مسرور، اشرف صبوحی، میرزا ادیب، الطاف فاطمہ، مقبول جہانگیر، کمال احمد رضوی، سعید لخت، ذوالفقار تابش، جبار توقیر، اے آر خاتون، مسلم ضیاء، اشتیاق احمد، جمیل جالبی، ثاقبہ رحیم الدین شامل ہیں۔

بچوں کے ادب کو قیمتی بنانے میں مندرجہ ذیل دو ذرائع نے اہم کردار ادا کیا۔ 1۔ مغربی اور مشرقی ادب کے ترجمے، 2۔ اردو کے کلاسیکی کاموں کے آسان اور مختصر ورژن۔ بچوں کی ذہنی اور اخلاقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اردو میں خوبصورتی سے پیش کیے گئے۔ مثلاً سلیمانی خزانہ ”، رائڈر ہیگرڈ کے شاہ سلیمان کی کہانیوں کا مختصر ورژن ہے۔“ پنکو کی مہم جوئی ”ایک مزاحیہ کہانی ہے جو ایک اطالوی مصنف کارلو کو لڈی کے ناول پر مبنی ہے۔ کئی کہانیاں بچوں کے لیے عرب راتوں سے ترجمہ ہوئیں۔ شیخ سعدی اور مولانا رومی کے نصیحت آموز قصے بھی بچوں کے لیے اردو میں ترجمہ کیے گئے۔

کچھ مصنفین نے اردو کے کلاسیکی ادب کے خلاصے تخلیق کرنے میں مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر، داستان امیر حمزہ، مشہور داستان، فیروز سنز کے ذریعہ کئی جلدوں میں آسان ورژن میں شائع ہوا تھا۔ باغ و بہار، فسانہ آزاد، حاجی بغلول اور کچھ دیگر کلاسیکی کام بھی، آسان ورژن میں شائع ہوچکے ہیں۔ بچوں کے لئے اردو میں لکھے گئے کچھ قابل ذکر اور مشہور کام یہ ہیں : میرا نام منگو ہے (جبار توقیر) ، پاکستان کی سیر (رضیہ فصیح احمد) ، درخت کے بچے (مسلم ضیائی) ، ایک تھا چور (انور عنایت اللہ) اور لال بندر (عبدالوحید سندھی) ۔

کچھ اشاعتی اداروں نے بھی بچوں کے ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جن کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان میں یہ ادارے شامل ہیں۔ دار الاشاعت پنجاب (لاہور) ، فیروز سنز (لاہور) ، شیخ غلام علی (لاہور) ، ہمدرد فاؤنڈیشن (کراچی) ، اردو اکیڈمی سندھ (کراچی) ، نیشنل بک فاؤنڈیشن (اسلام آباد) اور دعوت اکیڈمی (اسلام آباد) ۔

ڈاکٹر روف پاریکھ کے آرٹیکل سے ماخوذ، تاریخ اشاعت، 29 مارچ، ڈان
INTERNATIONAL Children ’s Book Day

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *