کرونا کی بگڑتی صورتِ حال: دہلی میں مزید ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن، پاکستان کی مدد کی پیش کش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت کے باعث بگڑتی صورتِ حال پر پڑوسی ملک پاکستان کی جانب سے ضروری طبی سامان کی فراہمی کی پیش کش کی گئی ہے جب کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں امریکہ بھارت کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

بھارت میں اتوار کو ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کے ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور تین لاکھ 49 ہزار 691 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

بھارت کے اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں جب کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی ریاستوں میں حالات انتہائی خراب ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو کرونا وائرس سے دو ہزار 767 ہلاکتیں بھی ہوئی جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار 311 ہو گئی ہے۔

پاکستان کی جانب سے امداد کی پیش کش

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام سے اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستان نے وینٹی لیٹرز، آکسیجن سپلائی کٹس، ڈیجیٹل ایکس رے مشینز، پی پی ایز اور دیگر متعلقہ سامان پر مشتمل امداد کی پیش کش کی ہے۔ جو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت بھجوائی جا سکتی ہیں۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ پاکستان انسانیت پہلے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور اسی تناظر میں بھارت کو پیش کش کی ہے۔ اب ان کے جواب کا انتظار ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کو طبی سامان کی فراہمی کی پیش کش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے بھی ایک ٹوئٹ میں بھارتی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔

ْامریکہ بھارت کی مزید مدد کرے گا’

امریکہ نے بھی بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ بھارت کی حکومت اور طبی عملے کو اضافی مدد فراہم کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں امریکہ بھارتی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ امریکہ بھارت کو اضافی امداد فراہم کر سکے۔

بھارت میں کرونا کیسز بڑھنے کے بعد امریکہ پر بھارت کی مزید مدد کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جمعہ کو امریکی چیمبر آف کامرس نے بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ آسٹرازینیکا ویکسین کی لاکھوں خوراکیں بھارت، برازیل اور دیگر زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے ریلیز کر دے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے ملک اور بیرون ممالک بالخصوص سنگاپور سے دہلی میں آکسیجن کی فوری فراہمی کے لیے فوجی طیارے اور ٹرینیں مختص کر دی ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں بھارت کے سفارت خانے کے ترجمان نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام مختلف سطحوں پر رابطے میں ہیں تاکہ بھارت میں کرونا ویکسین کی تیاری کے لیے امریکی کمپنیوں سے سامان کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

جمعہ کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا تھا کہ امریکہ بھارت کو طبی امداد، ایمرجنسی ریلیف سپلائیز، بھارت کے ریاستی اور مقامی صحت کے حکام کی وبا سے نمٹنے کی تربیت اور وینٹی لیٹرز کے لیے پہلے ہی ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز فراہم کر چکا ہے۔

کرونا نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے: نریندر مودی

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کرونا وبا کی دوسری لہر نے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اتوار کو ریڈیو پر اپنے ماہانہ خطاب میں بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ کرونا ہمارے صبر اور دکھ برداشت کرنے کی ہمت کا امتحان لے رہا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کرونا کی پہلی لہر کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد ہمارے حوصلے بلند تھے۔ لیکن اس حالیہ طوفان (دوسری لہر) نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرونا کے خلاف جنگ میں ریاستوں کے ساتھ تعاون کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

دہلی میں لاک ڈاؤن میں توسیع

دوسری جانب بھارتی دارالحکومت دہلی میں کرونا کی ابتر ہوتی صورتِ حال کے باعث لاک ڈاؤن میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔

دہلی کے وزیرِ اعلی اروند کیجری وال نے اتوار کو لاک ڈاؤن کے دورانیے میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں کیسز مثبت آنے کی شرح بدستور زیادہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دہلی میں کیسز مثبت آنے کی شرح 36 سے 37 فی صد ہے اور ایسا وبا کے دوران کبھی نہیں ہوا۔

کیجری وال کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر ہم آکسیجن کی سپلائی دینے میں ناکام رہے لیکن بہت سی جگہوں پر ہم بروقت آکسیجن پہنچانے میں کامیاب رہے۔

خیال رہے کہ نئی دہلی میں پیر 26 اپریل کو لاک ڈاؤن کی مدت ختم ہو رہی تھی تاہم اب اس میں تین مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1944 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *