ہر لمحہ تغیر سے عبارت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے۔ اس دنیا میں اگر زوال کا وجود ہے تو عروج بھی ہے، پھول ہیں تو کانٹے بھی پھولوں کے ساتھ ہی ہیں، سیاہ ہے تو سفید بھی ہے، بہار ہے تو خزاں بھی ہے، دن ہے تو رات بھی ہے، سردی ہے تو گرمی بھی ہے، اس دنیا میں اگر مومن ہیں تو کافر بھی اس دنیا کا حصہ ہیں، غرض عالم، جاہل، صالح، فاسق، خوشی، غم، ظلمت، نور، سب ایک دوسرے کی ضد میں اس دنیا میں موجود ہیں۔ اگر قنوطیت (نا امیدی، محرومی امید) کے حامل لوگ اس دنیا کو شر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غم و حزن اور ملال کے علاوہ اس دنیا کی کوئی حقیقت نہیں تو رجائیت (خوش گمانی، پر امید ہونا ) کا پرچار کرنے والے اس دنیا کو بہترین جگہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غم و الم تو محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہیں ، ورنہ جتنی راحت اس دنیا میں ہے کہیں نہیں۔

تغیر یا تبدل کائنات کی لازوال خوبی ہے، تغیر وہ قدر ہے جو مخلوق کو باندھے رکھتی ہے۔ ہر ساعت ہر لمحہ تبدیلی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ تغیر اور تبدیلی کے پیچھے کوئی ایسی طاقت ہے جس میں خود تغیر اور تبدل نہیں ہے۔ اگر ہم انسان کی بناوٹ اور ساخت پر غور کریں تو بچپن سے لے کر جوانی، جوانی سے بڑھاپے اور پھر بڑھاپے سے موت تک انسان کی زندگی کا ہر لمحہ تغیر و تبدل کا بہترین نمونہ ہے۔

ابتداء میں انسان قدرتی غذا سے گزر بسر کرتا تھا، پھر انسان نے تیل، گیس، لکڑیاں اور آگ دریافت کر لی اور آج کا انسان جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور سے گزر رہا ہے۔ پہلے انسان اپنے دفاع کے لیے پتھروں اور ڈنڈوں کا استعمال کرتا تھا۔ آج انسان نے اپنے دفاع کے لیے طرح طرح کے ہتھیار اور ایٹم بم کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ زمانے میں انسان غار، صحرا، جھونپڑی اور ٹاٹ کے بنے ہوئے مکانوں میں زندگی گزارتا تھا، اب انسان نے اپنے رہنے کے لیے عالیشان محل بنا لیے ہیں اور وہ خوبصورتی سے سجائے گئے گھروں میں رہنے کا عادی ہو گیا۔ یعنی زندگی کا ایسا کوئی بھی شعبہ نہیں جس میں تغیر یا تبدل نہ ہوا ہو ۔ یہ تبدیلی عین فطری تقاضوں پر مبنی ہے۔

قوموں کی زندگیاں تغیر و تبدل سے ہی سنورتی ہیں۔ تغیر کے بنا قومیں جمود کا شکار ہو جاتی ہیں اور جمود موت کی علامت ہوتا ہے۔ جس طرح بہتے پانی کو روکنے سے وہ زہریلا ہو جاتا ہے ، اسی طرح تغیر کے بغیر زندگی مفقود ہو جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنی اجتماعی زندگی میں انقلاب کی آرزو نہیں رکھی ، وہ جمود و تعطل کا شکار ہو کر شجر زمانہ سے ٹوٹ کر اس طرح آغوش فنا میں گر جاتی ہیں کہ جیسے خزاں کے موسم میں درختوں کے سوکھے پتے ہوا کے ایک جھونکے سے جھڑ کر ختم ہو جاتے ہیں۔

جو باغباں اشجار ثمر بار (پرمیوہ درخت) کا تزکیہ نہیں کرتا ، ان میں برگ و بار لانے کی قابلیت نہیں رہتی ، اسی طرح جو قوم اپنا تزکیہ نہیں کرتی وہ شجر بے برگ و بار کی طرح ناکارہ ہو جاتی ہے۔ تغیر ہر چیز کی تقدیر ہے۔ انسان اگر مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ سنگین چٹانوں سے جاندار کیڑا ظاہر ہوتا ہے ، ہرے بھرے درختوں سے چنگاریاں جھڑتی ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر تغیر نہ آئے تو ہماری زندگی ہٹلر کی ایک پارٹی والی پارلیمینٹ بن کر رہ جاتی ہے۔

آپ دیکھیے کہ ایک ہی آسمان کے نیچے ایک ہی وقت میں مختلف و متضاد تماشے ہوتے ہیں۔ ایک خطے میں نشاط و شادمانی کا ہنگامہ برپا ہوتا ہے تو دوسرے کسی خطے میں تیز کانٹوں پر خوں چکاں لاشیں تڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہو رہی ہوتی ہیں۔ کشمیر اور فلسطین اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر غریبی کا کوئی وجود نہ ہوتا تو امارات کی قدر کس کو ہوتی؟ یہاں تو ضد سے ضد کا وجود ہوتا ہے ۔ صحت کے ساتھ بیماری اور بیماری کے ساتھ صحت منسوب ہیں ، یہاں تک کہ وقت انسان کے چہرے تک کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔

ولنگٹن واٹر کا فاتح اعظم نپولین کو شکست دیتا ہے ، عوام اس کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں،  کچھ دن بعد لندن کی گلیوں میں یہی عوام پتھروں سے اس کے مجسمے کو توڑ دیتے ہیں۔ جولیس سیزر کبھی دنیا پر حکومت کرتا ہے مگر اپنے ہی احسان فراموش دوستوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ سکندر اعظم پوری دنیا کا فاتح مگر اس کا لاشہ بے گور و کفن پڑا رہتا ہے۔

ہر لمحہ تغیر، حالات کا بدلنا ہی قانون فطرت ہے۔ جس طرح پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے ہمیشہ جمے نہیں رہتے ، سورج کی روشنی ان کو پگھلا ہی دیتی ہے، جس طرح درخت ہمیشہ بے ثمر نہیں رہتے ، گزرتا وقت ان کو پھل دار بنا ہی دیتا ہے، جس طرح عروج ہمیشہ برقرار نہیں رہتا ،زوال کی شکل میں اس کو فنا ہونا ہوتا ہے، اسی طرح نہ ہم ہمیشہ کورونا وائرس کی لپیٹ میں رہیں گے اور نہ ہی عمران خان ہمیشہ ہم پر حکومت کرے گا ۔

اس لیے پر امید رہیں کیوں کہ دنیا کی نمود رنگ تغیر سے ہی ہوئی ہے اور ثبات صرف خدائے واحد کی ہستی کو حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *