بوڑھے برگد کی نغمہ سرائی
سردیوں کی خوشگوار دھوپ اپنی نرم گرم کرنیں ماں کی محبت کی طرح بلا معاوضہ ہر ایک کو دان کر رہی تھی۔ ہر وہ چیز جس پر یہ مہربان کرنیں پڑتیں کسی شہزادی کے تاج میں جڑے نگینوں کی طرح چمکنے لگتی۔ اشجار پر طیور اپنی خوش الحان آوازوں میں محفل موسیقی جمائے بیٹھے تھے۔ پودوں کے ارد گرد قوس قزح سے ست رنگ چرائے تتلیاں محو رقص تھیں۔ فضا میں ایک طرف تو کیتکی کی پھبن، موتیا کی دلفریب
Read more












