بوڑھے برگد کی نغمہ سرائی

سردیوں کی خوشگوار دھوپ اپنی نرم گرم کرنیں ماں کی محبت کی طرح بلا معاوضہ ہر ایک کو دان کر رہی تھی۔ ہر وہ چیز جس پر یہ مہربان کرنیں پڑتیں کسی شہزادی کے تاج میں جڑے نگینوں کی طرح چمکنے لگتی۔ اشجار پر طیور اپنی خوش الحان آوازوں میں محفل موسیقی جمائے بیٹھے تھے۔ پودوں کے ارد گرد قوس قزح سے ست رنگ چرائے تتلیاں محو رقص تھیں۔ فضا میں ایک طرف تو کیتکی کی پھبن، موتیا کی دلفریب

Read more

ٹپڑی واس

شمیم تم یہ غبارے بھرو، میں ذرا رفیق کے سٹور سے اور غبارے لاتا ہوں۔ ” مجھے لگ رہا جیسے آج غبارے کم ہیں۔ ” یہ کہہ کر محمود غبارے لینے چلا گیا، سٹور سڑک کے دوسرے پار تھا، اس نے سڑک پار کی تو ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ سڑک کے کنارے علی الصبح ہی آ بیٹھی تھی، اس کے سامنے ایک بوسیدہ سے ٹاٹ پر ناڑے جو عموماً وہ ہاتھ سے بناتی

Read more

ازدحام

اس نے جب بولنا شروع کیا تو ہکلانے لگی، ماں باپ نے بہت علاج کرائے مگر وہ پھر مکمل طور پر صحت یاب نا ہو سکی، پہلے جو وہ ایک جملے کے ہر لفظ پر ہکلاتی تھی اب ہر تیسرے لفظ پر ہکلاتی، اس کے باوجود بھی اسے بچپن سے ہی مقررہ بننے کا شوق تھا، وہ گھر میں اونچی اونچی آواز میں تقریریں کرتی، مگر ہر تیسرا لفظ اس کے منہ میں اٹک جاتا۔ اس دن بھی کلاس میں

Read more

آزادی کا کتبہ

آج وادی میں لگے کرفیو کا پچیسواں روز تھا، چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اپنی ٹھنڈی میٹھی روشنی کی مہربان کرنیں ہر اندھیر کوٹھڑی کے قیدی کو دان کر رہا تھا۔ کرفیو نے روشنی سے جگمگاتے گھروں کو اندھیر کوٹھڑیاں بنا دیا تھا، اور گھروں کے مکین قیدی بن کر رہ گئے تھے۔ قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں اندھیرا راج کرتا تھا اور رات تو گویا کوئی قبر کا سماں پیش کرتی ایسا جان

Read more

روٹی کا تصادم

” پاپڑ کرارے“ ” لے لو پاپڑ کرارے“ رگوں میں خون منجمد کرنے والی سردی اور دھند میں وہ پاپڑوں والا ٹوکرا کندھے پر رکھ کر ہر گلی ہر چوک چوراہے پر آوازیں لگا رہا تھا۔ تن پر ایک باریک سی قمیض پر ایک بوسیدہ سویٹر پہنے ایک خستہ حال سے جوتے میں برف کی سل کی مانند نیلے پڑے ٹھنڈے پاؤں وہ اٹھاتا نہیں، بلکہ گھسیٹ رہا تھا۔ پاپڑوں کے خریدار زیادہ بچے ہوتے تھے مگر آج کل اسے

Read more

بوڑھا فنکار

وہ پاؤں گھسیٹتا ہوا ہسپتال کے اندر داخل ہوا تو پرچی لینے والوں کی لمبی لائن دیکھ کر گھبرا گیا، اس کی کانپتی ہوئی نحیف و ناتواں ٹانگیں مزید کانپنے لگیں۔ مگر وہ ہمت کر کے لائن میں لگ گیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ اس دوران اس کو دمے کا اٹیک ہوا تو اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے انہیلر نکالا اور اپنا سانس بحال کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر لائن میں لگے ایک نوجوان

Read more

فلسفہ اور فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں

فلسفہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یا یوں کہیں کہ اس گتھی کو بہت سارے محققین، ناقدین اور خود فلسفیوں نے بھی سلجھانے کی کوشش کی ہے مگر یہ گتھی جتنی سلجھتی ہے انسان کو اس سے زیادہ الجھنوں اور نت نئی سوچوں میں مبتلا کر جاتی ہے، کیوں کہ فلسفے کی بنیاد عقل اور منطق پر ہے اس لیے یہ کبھی بھی انسان کو مطمئن نہیں کر پاتا اور انسان تجسس کی مثال بن کر جستجو کے سفر

Read more

مخنث

زوبیہ بڑی کم گو، خاموش طبع سی بچی تھی۔ وہ ہر وقت ڈری سہمی رہتی اس کا کوئی دوست نہیں تھا سوائے حسن کے، حسن کی بھی زوبیہ کے علاوہ کسی سے دوستی نہیں تھی، وہ اکٹھے سکول جاتے اور ایک ہی اکیڈمی میں پڑھتے تھے۔ زوبیہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اور حسن تین بہنوں کا اکلوتا بھائی دونوں کی پرورش بڑے پیار اور خاص توجہ اور دھیان سے کی جا رہی تھی۔ زوبیہ کے والد فاروق

Read more

ہم اپنے عہد کے ڈیجیٹل نشئی

صدیوں سے حضرت انسان اس تگ و تاز میں مگن رہا ہے کہ وہ اس خاک کے بستر اور اس سے متعلق زمردیں بحر (نیلگوں دریا سمندر) اور ان کے متعلقات فضائے بسیط (پھیلے ہوئے خلا) اور عظیم الشان آسمانوں میں پنہاں اسرار و رموز کے بھید کھولے۔ انسان نے ہر طلوع ہوتے ہوئے سورج اور ڈھلتی شام میں تسخیر کائنات کے حسیں خواب دیکھے۔ پھر یوں ہوا کہ انسان کے خواب تعبیر پانے لگے وہ ترقی کی منازل طے

Read more

خاموش نعرے

جولائی کے مہینے میں گرمی اپنا الہڑ، مٹیالہ جوبن ہر خاص و عام کو دکھا رہی تھی، گرمیوں کے طویل اور تھکا دینے والے دن تھے، وہ آج صبح سویرے ہی گھر سے نکل پڑا کیونکہ آج اس کو اپنے کام نپٹا کر دوستوں کی طرف سے دی گئی دعوت پر جانا تھا۔ اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ فضا میں ہر طرف گاڑیوں کا بے ہنگم شور گونج رہا

Read more

مائیکروفکشن

رات کے پچھلے پہر میں یک لخت آسمان پر روشنی کے گولوں کو آنکھ جھپکے بغیر، دیکھتی ہی جا رہی تھی۔ میرے چاروں اطراف ہو کا عالم تھا بلکہ یوں کہوں کہ ایک عالم لاہوت تھا تو بے جا نہ ہو گا، مگر میرے اندر تو ایک شور بپا تھا ایسے جیسے کسی سمندر میں سونامی آیا ہو، ایسے جیسے ٹھاٹھیں مارتی لہریں ساحل سمندر سے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں آ کر ٹکراتی ہوں، جیسے ہر طرف بس

Read more

مٹا دو فاصلے ایثار کر کے

جولائی کی شدید حبس زدہ گرمی میں دوپہر تین بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ بیل بھی بجا سکتا تھا مگر اس کے لیے اسے تھوڑی محنت کرنی پڑتی کیوں کہ وہ ابھی قد میں بہت چھوٹا تھا بیل تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچ رہا تھا۔

ٹھک ٹھک ٹھک!
۔ کون ہے؟ بند دروازے کے پیچھے سے آواز آئی۔
میں ہوں آنٹی۔ حسن!
کیا چاہیے تمہیں حسن! اس وقت کیا لینے آئے ہو؟

Read more

ملکہ کوہسار میں ننھے مزدور

میدان ہوں یا پہاڑ ریگستان ہو یا صحرا، دریا ہو یا سمندر، ہر جگہ ہماری جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے ذرائع موجود ہیں جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو طراوت و تسکین اور روح کو مسرت و شادمانی بخشتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کسی یونانی دیومالائی داستانوں کے ہیرو کا سا حسن اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ملکہ کوہسا ر مری پاکستان کے شمال میں واقع ایک خوبصورت سیاحتی تفریحی اور صحت افزا مقام ہے۔ پاکستان کے

Read more

ہم ہیں مزدور! ہمیں کون سہارا دے گا

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں ”بھوک کی اذیت دنیا کی تمام مصیبتوں سے بڑھ کر ہے ، بھوک سے مرنے والے کی روح ایک ہی دم قفس عنصری سے پرواز نہیں کرتی بلکہ مرنے والے والے کے پور پور کو آہستہ آہستہ داغ مفارقت دیتی ہے“ ۔ انسان کے پیٹ میں بھوک کا جلتا ہوا آتش فشاں انسان سے وہ کام بھی کرواتا ہے کہ جو ایک گوشت پوست سے بنے انسان کو چٹانوں جیسا مضبوط اور سخت بنا دیتا

Read more

ہر لمحہ تغیر سے عبارت ہے

یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے۔ اس دنیا میں اگر زوال کا وجود ہے تو عروج بھی ہے، پھول ہیں تو کانٹے بھی پھولوں کے ساتھ ہی ہیں، سیاہ ہے تو سفید بھی ہے، بہار ہے تو خزاں بھی ہے، دن ہے تو رات بھی ہے، سردی ہے تو گرمی بھی ہے، اس دنیا میں اگر مومن ہیں تو کافر بھی اس دنیا کا حصہ ہیں، غرض عالم، جاہل، صالح، فاسق، خوشی، غم، ظلمت، نور، سب ایک دوسرے کی ضد

Read more

حُسن کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

ہم انسان حس لطافت سے بالکل محروم ہوتے جا رہے ہیں ، زندگی کی چیرہ دستیوں نے ہمیں بہت تلخ اور کڑوا بنا دیا ہے۔ ہماری بصارت حسن کے نظاروں کو دیکھنے سے بالکل قاصر ہو چکی ہے ، یوں لگتا ہے جیسے ہم لوگ روبوٹ بن چکے ہیں۔ ہم زندگی کی بناوٹی اور خودساختہ آتسائشوں میں اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا کہ ہم لوگ قدرتی راحتوں پر غور کر سکیں۔

ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ دنیا تو قائم دائم ہے مگر یہ حسن و زیبائی کے تمام تر جلوؤں سے خالی ہے، آسمان ہے مگر فضاء کی یہ نگاہ پرور نیلگونی نہیں ہے۔ ستارے ہیں مگر ان کے اندر روشنی چمک دمک نہیں ہے۔

Read more

انسان فطرت کو کیسے پامال کر رہے ہیں؟

اللہ تعالی نے جب کائنات تخلیق کی تو کائنات میں ہر طرف خوبصورتی ہی خوبصورتی دکھائی دیتی تھی۔ زمین پر سبزہ تھا، لہلہاتے ہوئے کھیت کھلیان تھے، دریا اپنی ہی موج میں بہتے تھے، سمندروں کی شفاف ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہریں ساحل سمندر سے ٹکراتی تھیں، سر سبز اور شاداب وادیاں اور سفید چادر اوڑھے برفیلے پہاڑ تھے، گلستاں کو مہکاتے رنگ برنگے پھول، جن پر ہر رات کو اوس کے قطرے گرا کرتے تھے، ہواؤں میں پھولوں کی مسحور

Read more

کب تک اس شاخ گلستاں کی رگیں ٹوٹیں گی

پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردوں کے حملوں اور ان کے ظلم و جبر کا سامنا کر رہا ہے۔ ان دہشت گردوں کی دہشت گردی کی وجہ سے راکھ میں دبی چنگاریاں ایک دفعہ پھر سے سلگنے لگیں اور پھر کیا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا پیارا وطن شعلوں کی زد میں آ گیا، دہشت گردوں نے ہنستے بستے آنگنوں کو ماتم کدوں میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔ دہشت گردی کی وجہ سے وزیرستان جلنے لگا، کے پی کے لہو لہو نظر آنے لگا، بلوچستان تارتار ہو گیا، پاکستان کے ہر شہر میں سانحے ہونے لگے کراچی، کوئٹہ، لاہور، ڈی آئی خان، اسلام آباد، پشاور، بم دھماکوں کی آماجگاہیں بن گئے۔

Read more

صد شکر! غموں کا سال گیا

ہم کسی بھی حال میں ہوں اور کوئی بھی نیا سال شروع ہو تو امید کا دامن ہمیں ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ، ہو سکتا ہے ہم جسے گہری اندھیری رات سمجھ رہے ہوں وہی صبح صادق کا آغاز ہو۔ اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت راہ پر ڈالیں گے تو ہی ہمارے اندر سکون اور اطمینان پیدا ہو گا کیوں کہ مثبت سوچ کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

نیا سال نئی تبدیلیاں لے کر آیا ہے اور ہمارے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا ہے۔ اب ہمیں اس دعا اس امید کے ساتھ دروازہ کھولنا ہے کہ یہ سب کے لیے خوشیاں ہی خوشیاں لائے۔ آمین

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے

Read more

قائد اعظم جناح: وہ کوہکن کی بات گئی کوہکن کے ساتھ

قیادت ان لوگوں کی منتظر رہتی ہے جو اٹھ کر یہ کہنا جانتے ہوں کہ! وہ کیا سوچتے ہیں۔ بہترین قائد وہ ہے جو مشن کے حصول کے لیے نہ صرف خود پر عزم ہو بلکہ دوسروں کو بھی عمل پر آمادہ کرتا رہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے وہ قائد ہیں جنہوں نے غلامی کی شب تاریک کو صبح آزادی کے نور سے ہمکنا رکیا۔ بکھری ہوئی قوم کو بنیان مر صوص بنایا۔ قائد اعظم نے درہ خیبر

Read more

نفرت! اردو پڑھنے والوں سے یا اپنی قومی زبان سے

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں علامہ اقبال لائبریری میں بیٹھی ممتاز مفتی کاناول ”علی پور کا ایلی“ پڑھ رہی تھی۔ میرے سامنے ایک خاتون بیٹھ کر نوٹس بنا رہی تھیں۔ وہ نوٹس بناتے بناتے کن اکھیوں سے مجھے دیکھتیں اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ تین سے چار مرتبہ یہ عمل دہرانے کے بعد آخر ان کی بے چین طبیعت نے ان کو مجھ سے سوالات کرنے پر اکسایا۔ اور وہ پوچھنے لگیں! بیٹا آپ کا

Read more

کرونا تیرے جانثار، بے شمار بے شمار

کرونا وائرس کی دوسری لہر آئی تو حکومت نے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا یہ خبر سنتے ہی بچوں کی خوشیاں قابل دید تھیں بچوں کی تو جیسے عید ہو گئی خیر بچے تو بچے ہوتے ہیں! مگر یہ کیا! یہاں تو یونیورسٹی کے طلبا خوشی سے پاگل ہی ہو گئے اپنے حواس کھو بیٹھے اور کرونا کے حق میں با قاعدہ نعرے بازی کرنے لگے کسی نے کہا ”کرونا کل بھی زندہ تھا، کرونا آج بھی زندہ ہے“ تو کسی نے کہا ”کرونا تیرے جانثار، بے شمار بے شمار“

Read more

جدید سائنس اور اردو شاعری

سائنس ایک منطق طریقہ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے سائنس میں تجربے یا مشاہدے سے حاصل شدہ معلومات کو عقلی اور منطقی دلائل سے پرکھا اور جمع کیا جاتا ہے۔ سائنسی علم کی تردید یا تصدیق کے لیے تجربہ ہی واحد کسوٹی ہے۔ سائنس کا علم دنیا کے ٹھوس حقائق کے انکشافات کے علم کے ساتھ کائنات اور انسانی بقا ء کی اصلیت کوجاننے کا علم ہے۔ شاعری

Read more

ملت کو نئی زندگی اقبال نے بخشی

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر علامہ محمد اقبال کی ملی شاعری میں مرثیہ خوانی کا رنگ موجود ہے وہ مسلمانوں کی حالت رازکو دیکھ کر کڑھتے ہیں مسلمانوں کو اپنے آباء کی عظیم الشان فتوحات کے بارے میں بتاتے ہیں اور ان کو حرکت و عمل پر آمادہ کرتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ شارحین نے انھیں فلسفہ اسلام کا عظیم محقق اور دانائی کا سر چشمہ بتایا

Read more

پنک اکتوبر

عورت اس دنیا کی سب سے زیادہ خوب صورت تخلیق ہے۔ عورت جس کی وجہ سے ہی اس کائنات کی مصوری میں رنگ بھرے گئے۔ عورت جو ہنسے تو کائنات میں اس کی ہنسی سے جلترنگ بجیں۔ اس ایک عورت کی شکل میں خالق حقیقی نے ہمیں بے شمار رشتوں سے نوازا ہے۔ ہماری دادی، نانی، ماں، خالہ، پھپھو، چچی، ممانی، بھابھی، یہ سب ہمارے بہت خوبصورت اور قیمتی رشتے ہیں۔ ان سب رشتوں کی حفاظت کرنا اور ان سب کو بریسٹ کینسر جیسی مہلک بیماری کے لگنے سے پہلے آگاہ کرتے رہنا ہمارا سب سے پہلا فرض ہے۔

Read more

ہماراتعلیمی نظام ناکارہ ہے

سیرت انسانی کو جانچنے کا کوئی معتبر پیمانہ اگر ہو سکتا ہے تو وہ علم کے سوا کچھ اور نہیں، علم ہی وہ ابدی روشنی ہے جو انسانی فکر و شعور کو نئے آفاق سے روشناس کروانے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ کسی معاشرے کو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ رواں دواں رکھنے کا فریضہ انجام دینا مقصود ہو تو وہ حد درجہ ترتیب شدہ نظام تعلیم ہی ہو سکتا ہے۔ کسی بھی معاشرے یا تہذیب کی زندگی یا موت کا اگر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے تو وہ تعلیمی نظام ہے۔

Read more

صاحب سیف و قلم۔ حضرت علی المرتضی

ہزاروں سال کے مسلسل تجربوں کے بعد یہ کلیہ قائم کیا گیا ہے کہ علم اور شجاعت کبھی ایک ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جس ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے وہ قلم کو اپنی انگلیوں کی گرفت میں نہیں لا سکتا اور جس ہاتھ میں قلم ہوتا ہے وہ تلوار نہیں اٹھا سکتا لیکن انسانی تاریخ میں حضرت علی مرتضیٰ کا ہاتھ وہ تنہا اور جامع اضداد ہاتھ ہے جو تلوار اور قلم دونوں کو مساوی روانی سے چلا

Read more

آزاد ہو ا تھا دیس مگر۔۔۔

برسوں پہلے دور سر زمین ہمالہ کے دامن میں شہید ٹیپو سلطان کے مقدس لہو سے سرخ سرخ پھول کھلے تھے۔ ٹھیک وہیں سے گلستان پاکستان کی مہک محسوس ہو نے لگی تھی، اس زمانے میں پاکستان کے کئی نام تھے، ٹیپو سلطان کا سرنگا پٹم پاکستان، سراج الدولہ کا میدان پلاسی پاکستان، بہارد شاہ ظفر کا زندان پاکستان، سر سید کی درسگاہ علی گڑھ پاکستان، حالی کی مسدس پاکستان، محمد علی کا جوہر کا ہمدرد پاکستان، اقبال کا خواب

Read more