آپ کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی حالیہ لہر میں صورتحال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس کے آغاز میں جب پاکستان میں کورونا وائرس نامی موذی وبا نے سراسیمگی پھیلائی تو لاک ڈاؤن کو ہی بہتر حل جانا گیا۔ وبا کے آغاز میں احتیاط برتنے کی وجہ سے متاثرین کی تعداد کم رہی۔ لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کے لئے گھروں میں ہی مصروفیات ڈھونڈی گئیں۔ انہی ایام میں کالم نگاری میں میرے استاد محترم عمار مسعود بھائی نے ’بیگم کا ناشتہ‘ بنانے میں عافیت ڈھونڈی۔ کسی نے ”بار بی کیو“ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائے اور کسی نے برگر، پیزا اور کیک میں خوشنودی کے پہلو ڈھونڈے۔

پہلی لہر میں حالات کنٹرول میں رہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اپنے علاقائی، طبی اور جینیاتی اسباب کی وجہ سے اس وبا سے محفوظ رہا تھا لیکن اس بار صورتحال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ کورونا وائرس کی مختلف اقسام بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اب ویکسین بھی دستیاب ہے مگر مختلف شہروں میں مریضوں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ اس ابتلا کے آغاز سے ہی حکومتی رویہ یہی غمازی کر رہا ہے کہ ’ساڈے تے نا رہنا، بس احتیاط کرنا‘

ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ مریضوں کی تعداد کے ساتھ ہلاکتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ جو اذیت ناک مناظر سامنے آ رہے ہیں وہ آنکھیں نم کرنے کے ساتھ روح بھی گھائل کر رہے ہیں۔ دعا ہے اللہ پاک اس آفت سے سب کو محفوظ رکھے۔

بھارت ہم سے چھ گنا بڑا ملک ہے مگر وہاں کی حکومت نے یکم مئی سے اٹھارہ سال سے بڑی عمر کے تمام شہریوں کو ویکسین فراہمی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ہماری حکومت صرف پچاس سال سے بڑی عمر کے افراد کو ہی ویکسین لگا رہی ہے۔ صحت اور تعلیم کو بنیادی نعرہ بنانے والے وزیراعظم عمران خان کی توجہ ہسپتالوں میں سہولیات دینے کی بجائے فقط ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر ہی رہی ہے۔

بحران حکمرانوں کی انتظامی صلاحیتوں کا امتحان ہوتے ہیں۔ اس وبا سے نمٹنے کے اقدامات سے حکومت نے خود ہی اپنی انتظامی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے ماسک پہنانے کی ذمہ داری فوج کے حوالے کر دی ہے اور ویکسین منگوانے کا ٹھیکہ پرائیویٹ اداروں کے سپرد کر کے خود اپوزیشن پر تبرہ بازی میں مصروف ہو گئے ہیں۔ حکومت کا انحصار چین سمیت دنیا سے عطیہ کی گئی ویکسین پر ہی ہے۔ حکومت نے بہت تھوڑی تعداد میں ویکسین خریدی ہے جبکہ پرائیویٹ ادارے بہت مہنگی ویکسین مہیا کر رہے ہیں۔ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا اسی طرح جب پاکستان ایک عالمی وبا کی زد میں ہے تو دریوزہ گری کے شوقین ہمارے منقسم مزاج وزیراعظم ”این آر او نہیں دوں گا“ کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔

اس موذی وائرس کا آغاز چین سے ہوا ہے۔ چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ہے۔ چین نے نہ صرف اس وبا پر قابو پا لیا بلکہ اپنی معیشت کو بھی مزید مستحکم کیا ہے۔ اب چین کا مرکزی بینک ’ڈیجیٹل یوآن‘ کے نام سے اپنی ڈیجیٹل کرنسی بنا رہا ہے جبکہ ہماری پنجاب حکومت نے دوبارہ سے پرانا پٹواری نظام بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے دس سال کی محنت سے صوبے میں اراضی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا تھا جس سے بدعنوانی کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی ملی مگر تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والی حکومت کوئی بھی کام ڈھنگ سے کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت کا تیسرا سال مکمل ہوا چاہتا ہے۔ ان تین سالوں میں ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ اب تو اس حکومت سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’حکومت ری حکومت تیری کون سی کل سیدھی‘ ۔ کورونا کے لئے فوج کو بلانے سے وزیراعظم نے تسلیم کر لیا ہے کہ انتظامی معاملات میں ان کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔

گزشتہ کالم ”آپ اپنی سوچ کیوں نہیں بدلتے؟“ میں خفیہ قوتوں کے کردار پر بات کی تھی۔ کچھ ذرائع کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ ”بڑے صاحب“ نے درجنوں میڈیا اینکرز سے ایک طویل ملاقات میں یہ بھی کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف سمیت سب کی حمایت کی۔ اب اگر کوئی ڈیلیور نہیں کرتا اور اپنے وزن سے گرتا ہے تو اسے ہم پر نہ ڈالیں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

بصد احترام عرض ہے کہ آغاز بد کا انجام بد ہوتا ہے۔ مان لیں کہ اس نظام کو ہوس اقتدار کی آپ کی خواہش نہیں چلنے دے رہی۔ ’مداخلت کا شوق‘ آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ ہر مقبول حکومت کے راستے میں روڑے اٹکائیں۔ جب آپ ’کسی‘ کو اپنی جھونجھل میں بٹھا کر ’تبدیلی کا اوتار‘ بنا کر پیش کریں گے تو الزام آپ پر بھی آئے گا۔ جب آپ جاگتی آنکھوں کے سامنے آر ٹی ایس بند کر کے ’کسی‘ کو مسند اقتدار پر بٹھائیں گے تو سوال آپ سے بھی ہوں گے، جب آپ بڑھتی ہوئی معیشت پر تشویش کا اظہار کریں اور اپنے لاڈلے کی نا اہلی پر خاموش رہیں گے تو نام آپ کا بھی خراب ہو گا۔ جب آپ کی پراڈکٹ ’بٹ کوائن‘ کی جگہ ’ون کوائن‘ نکلے گی تو انگلیاں آپ پر بھی اٹھیں گی اور جب آپ جبر و فسطائیت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے ’مثبت رپورٹنگ‘ کروائیں گے تو آپ کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *