سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا اپنا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

چار کے مقابلے میں چھ ججز کے اکثریتی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے خلاف جوڈیشل کونسل سمیت کسی فورم پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال اختلاف کرنے والے چار ججز میں شامل ہیں۔

جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم، جسٹس منظور ملک، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین خان نے نظرثانی درخواستیں منظور کر کے سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت معاملہ ایف بی آر اور بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا گیا تھا۔
بشکریہ پاکستان 24۔

ایکسپریس نیوز نے اس سماعت کی مندرجہ ذیل تفصیل دی ہے۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور ان کی اہلیہ کی نظر ثانی درخواستیں منظور کر لیں جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی، تحقیقات اور رپورٹ کالعدم قرار دے دی گئی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کیس ایف بی آر کو نہ بھجواتی تو وفاقی حکومت نظر ثانی اپیل دائر کرتی، حکومت کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے، عملدرآمد کے بعد فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کومواد کا جائزہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا اور آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ صرف غیر معمولی حالات میں جوڈیشل کونسل میں مداخلت کر سکتی ہے، عدالت نے مجھ سے تین سوالات کے جواب مانگے تھے۔

جسٹس بندیال اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراض اٹھایا کہ عامر رحمان میرے ٹیکس یا فنانشل ایڈوائزر نہیں ہیں، حکومتی وکیل سے ایسا سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا، جان بوجھ کر نیا مواد عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، کیا جسٹس عمر عطا بندیال آپ شکایت کنندہ ہیں؟ ایسے سوالات سے آپ کوڈ آف کنڈکٹ اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جسٹس عمر عطابندیال حکومتی وکیل کے منہ میں الفاظ ڈال رہے ہیں، شاید پھر سے کوشش ہو رہی ہے کہ وقت ضائع کیا جائے، ایف بی آر کی رپورٹ نظر ثانی درخواستوں کے بعد آئی ہے۔

عامر رحمان نے کہا کہ جسٹس فائز عیسی ایف بی آر کارروائی کو بدنیتی قرار دے کر نظر ثانی کی بنیاد بنارہے ہیں، جو دستاویزات نظر ثانی کی بنیاد ہے اس پر دلائل دینا میرا حق ہے، عدالتی سوالات کے جوابات دے رہا ہوں اور کہا جا رہا ہے کہ وقت ضائع کر رہا ہوں۔

جسٹس فائز کی نظر میں ان کی اہلیہ کی دستاویزات کا جائزہ لینا غلط ہے

جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی نظر میں ان کی اہلیہ کی دستاویزات کا جائزہ لینا غلط ہے، عدالت کو شاید ایک فریق کو سن کر اٹھ جانا چاہیے۔

عامر رحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین سوالات ہی سارے کیس کی بنیاد ہیں، جسٹس فائز عیسی جواب دیں تو تنازع حل ہو سکتا ہے۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ کیا مجھے ٹیکس کمشنر نے طلب کر رکھا ہے جس پر گفتگو ہو رہی ہے، کیا عدالت انکم ٹیکس افسر ہے؟

لگتا ہے پنجابی میں سمجھانا پڑے گا

دوران دلائل جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک بار پھر مداخلت کی تو جسٹس منظور ملک نے ان سے کہا کہ قاضی صاحب آپ کو اردو اور انگلش میں کئی بار سمجھا چکا ہوں، اب لگتا ہے پنجابی میں سمجھانا پڑے گا، قاضی صاحب مہربانی کریں اور بیٹھ جائیں۔

عامر رحمان نے دلائل دیے کہ عدلیہ کی آزادی ججز کے احتساب سے منسلک ہے، ایک جج کے اہلخانہ کی اف شور جائیدادوں کا کیس سامنے آیا، ریفرنس کالعدم ہو گیا لیکن تنازع اب بھی برقرار ہے، عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع ختم ہو، سپریم جوڈیشل کونسل اس تنازع کے حل کے لیے متعلقہ فورم ہے۔

دوران سماعت جسٹس فائز عیسٰی نے پھر مداخلت کی جس پر جسٹس منظور ملک نے ٹوکا کہ قاضی صاحب آپ کے بولنے سے عامر رحمان ڈر جاتے ہیں، کیا حکومتی وکیل آپ سے لکھوایا کریں کہ کیا دلائل دینے ہیں کیا نہیں۔

لطیفہ

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ عدالت کو ایک لطیفہ سنانا چاہتا ہوں۔ جسٹس منظور ملک نے انہیں روکا کہ فی الحال بیٹھ جائیں لطیفہ بعد میں سنیں گے،

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ معزز جج اور عدالتی ساکھ کا سوال ہے، ادارے کی ساکھ کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے، جسٹس فائز عیسٰی کہتے ہیں وہ اہلیہ کے اثاثوں کے جوابدہ نہیں۔

جسٹس بندیال اور جسٹس منیب اپنے اور بیگمات کے اثاثے پبلک کریں

اس پر سرینا عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر احتساب کے لیے بہت کوشاں ہیں، دونوں ججز اپنے اور اپنی بیگمات کے اثاثے پبلک کریں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 3 سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ان سے کہا کہ میں نے انکار نہیں کیا سوالات پر اعتراض اٹھایا ہے، میرے منہ میں بات ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔

تو ونج تے میں آیا

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ مجھے پنجابی میں روکا نہیں گیا اس بات کا گلہ ہے، پنجابی میں کہوں گا تو ونج تے میں آیا۔ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ آپ نے پنجابی نہیں سرائیکی بولی ہے۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل کل سے دوبارہ شروع ہو گیا ہے، ہمارے بیوی اور بچے حاضر ہیں، ریٹائرڈ جرنیل کو چھیڑیں گے تو شمالی علاقہ جات کی سیر کرائی جائے گی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ فارن اکاؤنٹس کیس میں اہم آبزرویشن دے چکی ہے، سات ججز نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی قابل احتساب ہیں، ہم میں سے کوئی اثاثوں کی وضاحت نہیں کرسکے گا تواس کا بھی احتساب ہو گا۔

وفاق کے وکیل عامر رحمان اور جسٹس فائز عیسی نے جواب الجواب مکمل کر لیا اور سرینا عیسی نے بھی جواب الجواب تحریری طور پر جمع کروا دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت مکمل ہو گئی اور سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس فائز عیسی کی نظر ثانی درخواست منظور کرلی۔

عدالت نے جسٹس فائز کیس میں نظر ثانی درخواستیں 6۔ 4 کی اکثریت سے منظور کر لیں جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی، تحقیقات اور رپورٹ کالعدم ہو گئی۔

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ میں سے 6 ججز نے سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواست قبول کر لی اور 4 نے مسترد کی جبکہ جسٹس فائز کی نظر ثانی درخواست پانچ ججز نے منظور اور 5 نے مسترد کی۔

6 ججز نے سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا جبکہ 4 ججز جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے جسٹس فائز کی درخواست منظور نہیں کی البتہ سرینا عیسی کی درخواست منظور کرلی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *