جسٹس فائز عیسیٰ: صدارتی ریفرنس کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی اپیل منظور، ایف بی آر سے تحقیقات کا حکم غیر موثر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ نے اپنے ایک جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل منظور کر لی ہے۔

گذشتہ سال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں عدالت نے ایف بی آر کو ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی جائیداد اور ٹیکس کے معاملات دیکھنے کے بارے میں حکم دیا تھا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ بار کونسل اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے بھی نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔

10 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ان اپیلوں کی منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سمیت تمام فورمز پر قانونی کارروائی کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’صدر آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ

جسٹس فائز عیسیٰ کیس: جب سپریم کورٹ کے سینیئر جج صاحبان آپس میں ہی الجھ پڑے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

جن ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اپیلیں منطور کیں ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں جبکہ اختلاف کرنے والے ججز میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی امین شامل ہیں۔

جسٹس یحی آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظرثانی کی اپیل کو منطور نہیں کیا اس کے علاوہ باقی تمام اپیلیں منظور کرلیں۔ اس سے قبل بھی جسٹس یحی آفریدی جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے دائر کی گئی نظر ثانی کی اس اپیل میں کہا گیا تھا کہ عدالت ان کا اور ان کے خاندان کا بیرون ممالک میں جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بھیجنے کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں یہ استدعا کی گئی تھی کہ عدالت جون سنہ 2020 میں دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

سپریم کورٹ

Getty Images

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی اکثریت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا تھا جبکہ اس میں سے سات ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور ان کے بچوں کا معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

ایف بی آر کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تین ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونلس کو بھجوائے اور اگر سپریم جوڈیشل کونسل یہ سمجھے کہ لندن میں جائیداد کی خریدنے کے لیے پیسے بھجوانے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کردار ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف آئین کے ارٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لاسکتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف جب صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا تھا تو اس کے خلاف جو اپیل دائر کی گئی تھی تو منیر اے ملک نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی نمائندگی کی تھی جبکہ نظرثانی کی اپیل کی پیروی درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے کی تھی۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اس درخواست میں وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ نظرثانی کی اپیل میں وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ایڈنشل اٹارنی جنرل عامررحمان نے وفاق کی نمائندگی کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید پہلے ہی ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذرت کر چکے تھے۔

عدالتی تاریخ میں ایسے مقدمات کی تعداد بہت کم ہے جس میں اکثریت نے نظرثانی کی اپیلوں میں اپنا اوریجنل فیصلہ تبدیل کیا۔

نظرثانی کی ان اپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی جب اپنے دلائل دیتے تھے تو بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کے ساتھ بعض اوقات سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوجاتا تھا تاہم بعدازاں درحواست گزار بینچ سے معذرت بھی کرلیتے تھے۔ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے ججز میں بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

پیر کے روز بھی جب ان اپیلوں کی سماعت ختم ہونے والی تھی تو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی نے اس دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کو محاطب کرتے ہوتے کہا کہ دونوں جج صاحبان احتساب پر بڑا یقین رکھتے ہیں تو وہ زرا حوصلہ کریں اور ان کے شوہر کی طرح اپنی اور اپنے خاندان کی جائیداد کی تفصیلات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیں تاہم ان دونوں جج صاحبان نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp