کیا سوچنا اور سوال کرنا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ جملہ اکثر سننے میں آتا ہے ”نالج از پاور“ اس کا سادہ سا مفہوم ”علم ایک طاقت ہے“ بنتا ہے۔ بعض جملے سننے اور بولنے میں بہت اچھے لگتے ہیں مگر ان کی گہرائی تک پہنچنے کا انداز اور معیار ہر معاشرے کو منفرد بناتا ہے۔ علم طاقت اس وقت بنتا ہے جب شخصیت مضبوط اور توانا ہو۔ کھوکھلی شخصیت اس علمی معراج کو نہیں پا سکتی، اپنی نوجوان نسل کو اس معراج تک پہنچانے کے لیے ہر سوسائٹی یا سماج کا معیار الگ الگ ہوتا ہے اور یہی معیار ان کے روشن مستقبل کی نیو رکھتا ہے۔

غیر روایتی یعنی مہذب سماج میں تعلیمی نظام بچے کے گرد گھومتا ہے اور بچے کو اپنی استطاعت، رجحان اور سمجھ بوجھ کے ساتھ سوالوں کا جواب اپنے طور پر خود ڈھونڈنے کے لیے انسپائر کرتا ہے، بچہ اپنی ذہنی آزادی کو انجوائے کرتے ہوئے مختلف جوابات ڈھونڈنے کی سعی کرتا ہے اور یہی آزادی اسے ”مقدس کلچر“ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ یہی جذبہ بچے کے اندر خود پر بھروسا کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔

اسی ایجوکیشنل فریڈم کے حوالے سے میری گفتگو ڈاکٹر بلند اقبال سے ہوئی جو کہ کینیڈا میں کافی عرصہ سے مقیم ہیں ، انہوں نے کینیڈا کی تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب سے میرے بچوں کی اسکولنگ شروع ہوئی ہے ، آج تک بچوں نے مجھ سے تعلیمی معاملات پر کوئی مشورہ نہیں کیا کہ پاپا ہمیں کون سا مضمون اور کون سی فیلڈ اختیار کرنی چاہیے؟

حقیقت یہ ہے کہ وہ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ انہیں کون سی فیلڈ میں آگے آنا چاہیے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ میرے بچوں کو اپنے ”ایریا آف انٹرسٹ“ کا بھی اچھے سے پتا ہے اور میں بالکل مطمئن ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

یہ غیر روایتی معاشروں کی ”بلیسنگ“ ہے جو اپنے مستقبل کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا سکھاتے ہیں، وہ بچوں کو اسائنمنٹ دیتے ہیں اور ان کے مختلف جوابات کو اسپیس دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف روایتی معاشرے ہیں جہاں پر نصاب استاد کے گرد گھومتا ہے اور استاد کے دیے گئے لیکچر کو بچے مقدس بھاشن سمجھ کر نوٹ کرتے رہتے ہیں اور انہی نوٹس کی بنیاد پر امتحان پاس کر لیتے ہیں۔

بچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ ”استاد گرو ہوتا ہے اور اس کی ہمیشہ عزت کرو“ یہ عزت اور گرو والی مقدس پٹی بچوں کو یک سمتی حصار میں ہمیشہ کے لیے قید کر دیتی ہے اور وہ اس حصار سے اپنی کالج اور یونیورسٹی لیول تک بھی آزاد نہیں ہو پاتے، ذہنوں اور جسموں کو قید کر کے کوئی اعلیٰ پروڈکٹ تیار نہیں کی جا سکتی بلکہ ذہنی طور پر ایک اپاہج نسل تیار ہوتی ہے جو بغیر سوچے سمجھے کٹنے، مرنے اور مارنے پر تیار رہتی ہے۔

یہ سسٹم ہماری مینٹیلٹی کو اس طرح سے تشکیل دیتا ہے کہ ہم سب کچھ بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور ہمارا شعور علم ساری زندگی ”ہاں یا نہیں“ ٹائپ ذہنیت کے گرد گھومتا رہتا ہے، ہمیں گرے ایریاز کے متعلق سوچنے اور between the lines حقائق کو سمجھنے کی تربیت ہی نہیں دی جاتی۔ اسی صورتحال کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور طلبا کوئی دوسرا موقف سن کر سیخ پا ہو جاتے ہیں اور بہت بار تو کئی پروفیسرز پر جان لیوا حملے بھی ہوئے۔

ہمارا نظام تعلیم شخصیات اور آئیڈیاز کو مقدس بنانے کے گرد گھومتا ہے اور ان پر کوئی دوسری رائے رکھنے کو گستاخی خیال کیا جاتا ہے، سوال پوچھنے کو بے ادبی تصور کیا جاتا ہے۔ ہم ابھی تک بہت سی شخصیات کو ”تقدسی مچان“ سے نیچے اتارنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ آزاد معاشروں نے اس رجحان کو سرے سے ہی ختم کر دیا ہے۔ جن معاشروں میں طلبا کے پاس چوائسز نہیں ہوتیں وہاں کریٹیکل تھنکر پیدا نہیں ہوتے بلکہ اندھے پیروکار اور رٹو توتے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ کانی جنریشن تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے سے معذور ہو جاتی ہے اور جب ان پر کوئی دوسرا رخ آشکار ہوتا ہے تو وہ اس انکشاف کو ”گلوبل کانسپائریسی تھیوری“ سمجھنے لگ پڑتے ہیں۔ ذہنی طور پر بونی جنریشن جس شخص کے سامنے بھیڑ دیکھتی ہے، کسی کے ہاتھ میں مائیک اور کیمرہ دیکھتی ہے یا کسی کو ٹی وی پر بھاشن دیتے ہوئے دیکھتی ہے تو اسے معیار اور معتبر سمجھنے لگ پڑتی ہے، یہ سب کچھ ان کی نظر میں سچ کا ایک اسٹینڈرڈ معیار بن جاتا ہے اور اسی قسم کے لوگ اس بونی جنریشن کے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔

یہ اپنے بھاشن کے ذریعے سے کریٹیکل تھنکنگ پیدا کرنے کی بجائے انہیں سپرچول ممبو جمبو کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ یہ couch potato قسم کے سینئر تجزیہ نگار جن میں اوریا مقبول جان جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ہر شام ٹی وی پر چند رٹی رٹائی اور ایموشنل ٹائپ باتیں کر کے پبلک کی گمراہی میں مزید حصہ ڈالتے ہیں اور یہی ایموشنل ڈائیلاگ ہماری جنریشن کے لیے زہر قاتل ہے۔ آپ اندازہ لگائیں ایسے سماج کا کہ جہاں بچپن سے ایموشنل ٹریننگ کا آغاز ہو جاتا ہے اور یہی تسلسل کالج اور یونیورسٹی لیول تک چلتا رہتا ہے تو وہاں پر لوجیکل تھنکنگ کیا خاک پروان چڑھے گی؟

کیا ایسے معاشروں میں ریشنل تھنکنگ پروان چڑھ سکتی ہے؟ کیا ایسے معاشروں میں فکری توازن برقرار رہ سکتا ہے؟ کیا ایسے معاشروں میں تحمل اور برداشت کلچر فروغ پا سکتا ہے؟ یک سمتی سوچ اور اندھا اعتقاد جذباتی گدھے پیدا کرتا ہے نہ کہ تعمیری سوچ رکھنے والے کریٹیکل تھنکرز۔

ہمیں اپنے سماج کو آگے لے کر جانے کے لیے اس وقت تنقیدی سوچ رکھنے والوں کی ضرورت ہے جذباتی گدھے پیدا کرنے میں تو ہم پہلے ہی خود کفیل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *