ہمارے اسلام کے پیچھے چھپی ہماری ابو لہبیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابولہب نبی کریم ﷺ کا چچا تھا۔ جس کا اصل نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ ابو لہب یعنی آگ کا باپ کی کنیت سے شہرت پائی۔ اس شخص کی مذمت میں قرآن پاک کی پوری سورۃ نازل کی گئی۔ جس میں اس کے درد ناک انجام کی پیش گوئی بھی کی گئی۔ ابو لہب نبی کریم ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکی ولادت سے قبل اس دنیا سے تشریف لے جا چکے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ کے سبھی چچا آپ ﷺ کی ولادت پہ بہت زیادہ خوش تھے کہ ان کے مرحوم بھائی کا دروازہ بند نہیں ہوا۔

ابو لہب کی خوشی تاریخ کی کتابوں میں اس طرح محفوظ ہوئی کہ اس نے اپنی لونڈی ثویبہ نبی کریم ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں چھوڑ رکھی تھی تاکہ اپنے بھائی کے ہاں آنے والی خوشی کی بروقت خبر پا سکے۔ نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو وہ لونڈی اپنے مالک کو اطلاع دینے لیے بھاگ کر گئی۔ ابولہب نے اپنے ہاں بھتیجے کی آمد کی خبر سنی تو خوشی میں اسی وقت اپنی اس لونڈی کو آزاد کر دیا۔

نبی کریم ﷺ نے ولادت کے بعد اسی خاتون کا دودھ بھی پیا۔ یہ ابولہب کی نبی کریم ﷺ کی ذات کریمہ سے محبت کا اظہار تھا۔ سیرت النبیﷺ کی کتب میں بعد کے واقعات ابولہب کے حوالے سے زیادہ میسر نہیں ہیں لیکن ایک اور بات ایسی ضرور ملتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابولہب کی نبی کریم ﷺ کی ذات کریمہ سے محبت میں ایک تسلسل تھا کیونکہ اسلام کی دعوت سے قبل نبی کریم ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کے نکا ح ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کر رکھے تھے۔ جو کہ یقیناً اچھے اور خوشگوار تعلقات کی نشانی ہے۔

اس رشتہ کی نوعیت اس وقت بالکل تبدیل ہو گئی جب نبی کریم ﷺ نے نزول وحی کے بعد اپنے خاندان کے لوگوں کو اپنے ہاں دعوت پہ بلایا اور انہیں اللہ کے پیغام کی طرف بلایا۔ یہ پیغام اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پہ ایمان لانے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی مساوات سے بھی لبریز تھا۔ جس کو قبول کرنے لینے کا مطلب جہاں ایک طرف اپنی حیثیت اور رتبے میں نہ صرف کمی لانا بلکہ دوسروں کو اپنے برابر کا سمجھنا بھی شامل تھا۔

کیونکہ اسلام عظمت کے معیار کو تبدیل کر کے مال و زر کی جگہ تقویٰ کو وہ کسوٹی قرار دیا جس پہ خالق اپنی مخلوق کو پرکھے گا۔ وہیں پہ دوسری جانب معاشی استحصالی نظام سے ہاتھ کھینچ لینا بھی شامل تھا۔ ان کے معاشی نظام کی بنیاد سود پہ قائم تھی جسے اسلام زمین بوس کرنے جا رہا تھا۔ اس لیے ابولہب کو اپنی سماجی حیثیت میں کمی اور اپنے معاشی مفادات کو ٹھیس پہنچتی نظر آئی تو اس نے اس مجلس کا بائیکاٹ کر دیا۔

بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات سے محبت کرنے والا ابولہب اپنے سماجی اور معاشی مفادات سے ٹکراؤ کی صورت میں اسی بھتیجے کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اس نے اپنی بیوی ام جمیل کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اپنے بیٹوں سے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں کو طلاق دلوا کر آپ ﷺ کو تکلیف دی۔ قرآن میں اس کی مذمت میں پوری سورۃ نازل ہوئی۔ یعنی اسے ذات النبی ﷺ سے محبت تھی لیکن پیغام النبی ﷺ کسی صورت قابل قبول نہیں تھا۔

اس سارے تناظر میں ایک لمحے کے لیے پاکستانی معاشرے کو دیکھیں۔ ہمارے ہاں پچھلے دس دنوں کو ہی کسوٹی بنا لیں تو ایک ایسا معاشرہ نظر آئے گا جو نبی کریمﷺ کی ذات میں گستاخی کی صورت میں پوری دنیا سے لڑنے کے لیے تیار نظر آیا۔ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے مسئلہ پہ ہم نے پورے پاکستان کو جام کر کے رکھ دیا۔ جس میں ہر گلی، چوک اور سڑک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کئی لوگ جان سے گئے سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ کروڑوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا۔

علما ء کی ایک کال پہ تاجر برادری نے لبیک کہا اور شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کر دی۔ یہ صورتحال ہر اس لمحے پیدا ہو جاتی ہے جب بھی کسی مسلمان یا غیر مسلم کی جانب سے مبینہ طور پہ نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے ہیں۔ یہ ایک طرف بہت ہی مثالی حالت ہے کہ امت نبی کریم ﷺ کی ذات سے محبت میں کوئی نازیبا جملہ سننے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ عقیدت ذات النبی ﷺ کے دائرے سے نکل کر پیغام نبی ﷺ کو سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔

یہ صورتحال تب بہت ہی نازک ہو جاتی ہے جب امت کا سماجی اور معاشی مفاد ذات النبی ﷺ کی عقیدت سے ٹکرانا شروع کرتا ہے۔ اس وقت پاکستان ستانوے فیصد آبادی مسلمان کلمہ گو ہے۔ تمام وسائل پہ بلاشرکت غیرے مسلمان ہی براجمان ہیں۔ مسند اقتدار بھی وہ کسی سے ساتھ بانٹنے کے روادار نہیں ہیں۔ لیکن کبھی بھی اسلام کو معاشی مفادات سے ٹکرانے کے بعد ہم نے اپنے مفادات کو قربان نہیں کیا۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”من غشا فلیس منا“ ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود کسی بھی چیز کے بارے میں کوئی حتمی اور یقینی طور پہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں چیز خالص ہے۔ ملاوٹ کے ناسور نے ہماری نسلیں تباہ کر دی ہیں لیکن کوئی کلمہ گو نبی کریم ﷺ کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے۔ جھوٹ بولنے اور وعدہ پورا کرنے کی تاکید بھی اسلام نے اتنی ہی سختی سے کی ہے لیکن ہم نے انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پہ جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنے کی روش بھی لمبے عرصے سے اپنا رکھی ہے۔

عدل و انصاف اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ اس کی تاکید نبی کریم ﷺ نے یہ کہہ کر کی کہ ”میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ لیکن ہمارے ہاں ہر طبقے کے لیے الگ عدالتی پروٹوکول ہے۔ ہماری عدالتیں جھوٹے مقدمات اور مقدمات جھوٹی گواہیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہم نے اس ضمن میں کبھی بھی اپنے گریبان کو اسلام کے سامنے کھول نہیں سکے۔ کیونکہ پیغام النبی ﷺ یہاں ہمارے مالی اور سماجی مفادات سے ٹکرا جاتا ہے۔

ہم رمضان المبارک کی فیوض و برکات کے لیے دسترخوان بھی سجاتے ہیں۔ نماز روزے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ لاکھوں افراد سالانہ حج و عمرے کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ محرم الحرام میں لاکھوں افراد مجالس بھی برپا کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نام پہ اجتماع بھی غیر معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے کردار اور ہمارے بازار اسلام کی تعلیمات سے یکسر خالی نطر آتے ہیں۔

ہم دوسروں کا حق ہڑپ کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے خور و نوش نایاب ہو کر سونے کے بھاؤ بکنے لگتی ہیں۔ کورونا جیسی مہلک بیماری میں مددگار ادویات کو کئی سو گنا مہنگے داموں فروخت کیا۔ ہمسایہ ملک بھارت میں کورونا سے بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ابھی سے آکسیجن کے سلنڈر ذخیرہ کرنا شروع کر دیے گئے ہیں جو کہ مجبور لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پہ بیچے جائیں گے۔ لیکن ذات نبی ﷺ سے محبت کے مدعی پھر بھی ہم ہیں۔

امت ذات النبی ﷺ پہ حملہ کی صورت میں مجاہد کی صورت میں نظر آتی ہے لیکن پیغام النبی ﷺ پہ عمل کے وقت ہم اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ پیغام نبی کی افادیت نبی کریم ﷺ کی سیرت سے یوں معلوم ہوتی ہے کہ آپ اس پیغام کی خاطر خود پہ کوڑا پھنکوا لیتے، لوگوں سے پتھر کھا لیتے جنگوں میں زخموں سے چور ہوئے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا لیکن اس پیغام پہ حرف نہیں آنے دیا۔ ذات نبی ﷺ سے عقیدت اور پیغام نبی ﷺ بغاوت ابولہبی رویہ ہے۔

من حیث القوم ہم ابولہبیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسی لیے بے سکونی، بے چینی، بھوک افلاس اور لاقانونیت کی آگ گھر گھر لگی ہوئی ہے۔ اب ہماری مذمت میں کوئی قرآن کی سورۃ تو نازل نہیں ہو سکتی لیکن نازل شدہ سورتوں میں ہم اپنا مقام بہتر تلاش کر سکتے۔ اور اپنے انجام کو بھی بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ نبی کریم ﷺ سے عقیدت کو اپنے کردار اور پھر اپنے بازار میں بھی لے کر آئیں تاکہ مخلوق خدا ہمارے شر سے محفوظ رہ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *