بھارت میں کووڈ کی قیامت: اب ہمیں گھبرانا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال ستمبر کے دوران بھارت میں کووڈ کی وبا عروج پر تھی۔ روزانہ ایک لاکھ سے کچھ کم لوگ کووڈ کی بیماری میں مبتلا ہو رہے تھے۔ پھر اس میں کمی آئی اور اس سال فروری تک بھارت میں پہلے کی نسبت کافی کم نئے مریض سامنے آ رہے تھے۔ مارچ میں بھارت کے وزیر صحت ہرش وردھن نے یہ بیان دیا کہ اب کووڈ کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ جب وزیر صحت کا یہ بیان سامنے آیا اس وقت روزانہ کووڈ میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد کچھ بڑھنا شروع ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود معزز وزیر صاحب ان اعداد و شمار کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔

اس کے بعد یہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہونی شروع ہوئی۔ اور گراف تیزی سے اوپر سے اوپر جاتا گیا۔ یہ سب کچھ اس تیزی سے ہوا کہ کسی کہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہ تباہ کاری اتنی شدید ہو گی۔

اب بھارت میں روزانہ بدنصیبیوں کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ اور آج 26 اپریل کو بھارت میں کووڈ کے تین لاکھ باون ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ ایک دن میں تین ہزار سے زائد مریض موت کے منہ میں پہنچ گئے۔ اور کچھ روز سے روزانہ تین لاکھ سے زائد نئے مریضوں میں اس بیماری کی تشخیص ہو رہی ہے۔ ہسپتالوں میں جگہ نہیں۔ ہسپتالوں سے باہر مریض آکسیجن کے انتظار میں دم توڑ رہے ہیں۔ اور وہ مریض خوش نصیب ہیں جنہیں کسی ہسپتال سے باہر گاڑی کے اندر بھی آکسیجن مہیا ہو جاتی ہے تاکہ وہ جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ مردوں کے جلانے کے لئے شمشان گھاٹ میسر نہیں ہو رہے۔ اور مرنے والوں کی لاشوں کو پبلک مقامات پر نذر آتش کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی آبادی سوا ارب کے قریب ہے اور اب تک ایک کروڑ اکہتر لاکھ تیرہ ہزار افراد میں ٹیسٹ کے بعد کووڈ کی باقاعدہ تشخیص ہو چکی ہے۔ اور ایک لاکھ پچانوے ہزار افراد اس بیماری کے ہاتھوں اس زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ صرف گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ کے ساڑھے بائیس لاکھ سے زائد نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں کووڈ کے ہر سات مریضوں میں سے ایک بھارت کا شہری ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں جب بھارت میں اس بیماری کی شدت اپنی انتہا کو پہنچی تھی تو یہ عمل آہستہ آہستہ بڑھا تھا۔ لیکن اس مرتبہ اس سے نصف وقت میں ایسے مریضوں کی تعداد پہلے سے کئی گنا ہو چکی ہے۔

بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے۔ اس وقت اس کی ریاستوں میں سے کرناٹک، کیرالا، اتر پردیش، راجھستان اور گجرات میں یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور جن لوگوں میں اس مرض کی تشخیص ہوئی، ان میں شرح اموات کے لحاظ سے پنجاب سب سے زیادہ بری حالت میں ہے جہاں دو فیصد سے کچھ زیادہ مریض موت کا شکار ہوئے ہیں۔ اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں اور اس سے مرنے والوں کی تعداد ان اعداد و شمار سے بہت ہی زیادہ ہے جو سرکاری طور پر جاری کیے جا رہے ہیں۔

دسمبر اور جنوری کے دوران جب بھارت کے بڑے شہروں میں تحقیق کی گئی تو یہ صورت حال سامنے آئی کے پچاس فیصد کے قریب لوگوں کے خون میں اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ خواہ ان میں کووڈ کے ٹیسٹ سے تشخیص ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، ان پر وائرس کا حملہ ہو چکا ہے۔ اور ان کے جسم میں اب اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت موجود ہے۔

چونکہ بڑے شہروں میں یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے، اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ اب اس کی شدت میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اس میں پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ گو کہ موجودہ اضافہ کے باوجود پاکستان میں اس کی تباہ کاری بہت کم ہوئی ہے۔ اب بھی اس کے روزانہ پانچ ہزار نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات پر مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہیے کہ اس کی شدت یونہی رہے گی۔ بھارت کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے اس بیماری کی تباہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور ہماری طبی سہولتیں اور وسائل بھارت سے بہت بد تر حالت میں ہیں۔ ہمیں ان عوامل کا جائزہ لینا چاہیے کہ بھارت میں موجودہ شدت کیوں پیدا ہوئی۔

گو کہ بھارت خود اس بیماری کی ویکسین تیار کر رہا تھا بلکہ دوسروں ممالک کو بھی یہ ویکسین سپلائی کر رہا تھا۔ اس کے باوجود بھارت کی کل آبادی میں سے صرف دس فیصد آبادی کو ویکسین لگ سکی ہے۔ جبکہ اس لحاظ سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سب سے بہتر حالت میں ہیں، جہاں یہ عمل تقریباً مکمل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں بھی ساٹھ فیصد سے زائد لوگوں کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے۔

اور ملاحظہ کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اب تک بین اقوامی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک فیصد لوگوں کو بھی ویکسین نہیں لگ سکی۔ اس لحاظ سے ہم بھارت سے بھی دس گنا بدتر حالت میں ہیں۔ دنیا کے بہت کم ممالک ایسے ہیں جن کی اتنی کم آبادی کو ویکسین لگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مسلسل خطرے کی حالت میں ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ بیماری پاکستان میں شدت اختیار کر گئی تو ہمارے ایٹم بم اور میزائل ہمارے کسی کام نہیں آئیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت انواع و اقسام کے کارڈ اور پیکج جاری کرنے کی بجائے پہلے کووڈ کی ویکسین کی طرف توجہ کرے۔ کیونکہ اگر یہ وبا پاکستان میں اس شدت سے پھیل گئی جس شدت سے بھارت میں پھیل رہی ہے تو اقتصادی صورت حال سمیت زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو گا۔

ماہرین کے نزدیک بھارت میں موجودہ صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ جب اس وبا کی شدت میں کمی آنی شروع ہوئی تو احتیاط کے تقاضے ترک کر دیے گئے۔ اور بھارت میں بڑے اجتماعات کو کنٹرول نہیں کیا گیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال بھارت میں ہونے والا مذہبی تہوار کمبھ میلا تھا۔ اس میں جنوری سے اب تک اڑھائی کروڑ لوگ شریک ہو چکے ہیں۔ اور ایک ہفتہ کے دوران تو چھیالیس لاکھ لوگ بھی شامل ہوئے۔ تصویروں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد ماسک کے بغیر نظر آ رہی ہے۔

اس کے علاوہ خود وزیراعظم مودی نے بڑے بڑے سیاسی جلسوں میں شرکت کی۔ اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان میں بڑے اجتماعات پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔ خواہ وہ پی ڈی ایم کے جلسے جلوس ہوں یا تحریک لبیک کے دھرنے یا حکمران جماعت کے کوئی اجتماعات۔ لوگوں کی زندگیوں کو سیاسی مصلحتوں پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ آج کل بھی سڑکوں پر لوگوں کی بڑی تعداد بغیر ماسک کے نظر آتی ہے اور اگر ماسک پہنا بھی ہوا ہے تو ناک ننگا ہوتا ہے تاکہ وائرس کو داخل ہونے میں سہولت ہو۔

دوسرے جراثیم کی طرح یہ وائرس بھی اپنے آپ کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ بھارت میں اب جو تبدیل شدہ وائرس B1.617 پھیل رہا ہے۔ اس نے دو جگہوں پر اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے۔ اور عام وائرس کی نسبت یہ قسم زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس کا پھیلاؤ بھی بھارت میں پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان میں وائرولوجی کی سائنس کی سہولیات مجموعی طور پر یتیمی اور وسائل کی کمی کا شکار رہی ہیں۔ اس موقع پر مالی وسائل مہیا کر کے انہیں بہتر بنانا چاہیے تا کہ پاکستان میں پھیلنی والی اقسام کا سائنسی تجزیہ ہوتا رہے۔

ہمارے شاہانہ قومی مزاج کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ میں جب ایک شاپنگ مال میں ہدایات پر عمل کرانے کی کوشش کی گئی تو وہاں کے دکانداروں نے قانون نافذ کرنے والوں کا اسلحہ چھین کر فائرنگ شروع کر دی۔ ایسے واقعات کے مجرموں کو بغیر کسی رعایت کے سزا دینا ضروری ہے۔ ورنہ بھارت میں برپا ہونے والی قیامت ہمارے سامنے ہے۔ بہتر ہو گا کہ ہم اپنی روایتی لاپروائی چھوڑ کر اس صورت حال سے سبق حاصل کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *