دانشوری کی باسی کڑھی میں قاضی فائز عیسیٰ کیس فیصلے کا ابال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا سوال: اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ افتخار چوہدری یا ثاقب نثار ثابت نہیں ہوں گے؟

یہ سوال قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں آنے والے فیصلے کے بعد بار بار مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے۔ افتخار چوہدری اور ثاقب نثار دونوں ہماری عدالتی تاریخ کے وہ کردار ہیں جن کے فیصلوں اور اقدامات نے نہ صرف عدلیہ کے وقار کو کمپرومائز کیا بلکہ لوگوں کے عدلیہ پر اعتماد کو بھی متزلزل کیا۔ افتخار چوہدری کے سوموٹو فیصلوں نے ملک کو اربوں ڈالر کے نقصانات پہنچائے، غیر ملکی سرمایہ کار کو بد ظن کیا۔ اسی طرح ثاقب نثار نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کے کاروباری مفادات کے تخفظ کے لئے جس طرح صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو تباہ کیا وہ افسوس ناک ہے۔

کالا باغ ڈیم کی چوکیداری کے نام پر اربوں روپیہ زبردستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹ کر برطانیہ میں اپنی فیملی سمیت داد عیش لینے والے یہ جج صاحب نہ صرف عدلیہ بلکہ سماج میں موجود ایک دوسرے پر اعتماد کے عمومی تعلق پر بھی سیاہ ترین دھبہ ہیں۔ اسی لئے قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں سپریم کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کے بعد ان کا افتخار چوہدری اور ثاقب نثار سے موازنہ ایک حساس مگر اہم معاملہ ہے، جس پر سیر حاصل بحث ضروری ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ افتخار چوہدری یا ثاقب نثار عدلیہ کے نمائندہ تھے، صرف دو افراد نہیں تھے۔ اگر ہم جسٹس منیر کے نظریۂ ضرورت کا افتخار چوہدری یا ثاقب نثار کے کردار سے موازنہ کریں تو بلاشبہ جسٹس منیر کے نظریۂ ضرورت نے پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا، اس کے سامنے ان دونوں ججوں کے ہاتھ چومنا فرض ٹھہرتا ہے۔ لیکن یہ بات اس لئے مقبول نہیں چونکہ ہمارے ہاں تاریخ سے جڑی حقیقتوں کے آج کی زندگی پر اثرات پسندیدہ موضوع نہیں۔

لوگ اتنی مشقت میں پڑنا ہی نہیں چاہتے کہ ماضی میں ایسا کیا ہوا جس نے ہمارے حال کی تشکیل کی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایسا جج آیا ہی نہیں جو جمہوری ریاست میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے تخفظ کا ضامن ہو۔ جو جمہوری عمل کی شفافیت اور تسلسل کا ضامن ہو۔ جو فرد کی آزادی، اور قانون کی بالادستی کی ضامن ہو۔

فوجی ادوار میں عدالتیں صرف اس دن ڈسکس ہوتی ہیں جب مارشل لاء کے خلاف کیس کا فیصلہ آنا ہو۔ آج تک کے تمام فیصلے اس بات کے گواہ ہیں کہ جج کوئی بھی ہو، فیصلہ ہمیشہ بد سے بدتر آیا۔ آخری بار سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کو آئین میں تبدیلی کا اختیار دے دیا، وہ اختیار جو خود سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس بھی نہیں مگر اس جج کا نام اس لیے زبان زد عام نہیں چونکہ لوگوں کو یاد بھی نہیں اور معلوم بھی نہیں کہ وہ فیصلہ کس قدر تباہ کن تھا۔

جب کوئی یہ دہائی دیتا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ بھی افتخار چوہدری یا ثاقب نثار ثابت ہوں گے تو اس اندیشے کے پیچھے تین سچائیاں ہیں۔

پہلی، ایسی بات کہنے والا یہ سمجھتا ہی نہیں کہ جج بطور فرد نہ تو ذمہ دار ہے نہ اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کا اہل کہ وطن عزیز میں ستر سال سے جاری سول ملٹری کشمکش کا فیصلہ اکیلا ہی کر دے۔ ایسی بات سوچنا، ایسا تصور بھی ذہن میں لانا حقیقت کی دنیا سے دوری کی دلیل ہے اور یہ دوری نوری سالوں پر محیط ہے۔

دوسری بات، فائز عیسیٰ سے تاریخ کا سارا گند صاف کرنے کی امید رکھنا درحقیقت کچھ نہ کرنے اور بیٹھ کر پاپ کارن کھانے والے مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔

تیسری بات، مسئلہ فرد کا نہیں ادارے کا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی معاملہ ہے جیسا افواج پاکستان میں آرمی چیف کوئی بھی ہو، اس کا کردار ادارے کے متعین دائرہ کار کے اندر ہو گا۔ جو اس دائرے سے باہر نکلے گا مشرف کی طرح کسی وکلاء تحریک کا نشانہ بن کر منظر سے غائب ہو جائے گا۔

قاضی فائز عیسیٰ سے یہ امید رکھنا کہ وہ ہماری تاریخ کے سارے گند کی صفائی کریں گے بالکل ویسا ہی خواب ہے کہ جیسا عمران خان کے حوالے سے دیکھا گیا۔ ایسی خواہشیں ہمیں یہ احساس تو فراہم کر سکتی ہیں کہ ہم بڑے مخلص ہیں اور ملک کے لئے اچھا سوچتے ہیں مگر یہ خلوص ان دو نشئیوں جیسا ہے جن میں سے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمان پر چڑھنے کی بات کرتا ہے اور دوسرا اس ڈر کا اظہار کرتا کہ اگر تم نے نیچے سے سیڑھی کھینچ لی تو میں واپس نیچے کیسے آؤں گا۔

یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ آزادی کی ساتویں دہائی میں، تاریخ کے اتنے تھپیڑوں اور دھوکوں کے باوجود ہمارے اندر سے مسیحا کی امید نہیں ٹوٹی۔ ہم تاریخی عمل کی تلخ سچائیوں کا سامنا کرنے کو آج بھی تیار نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے دانشور طبقے کی دانشوری کی معراج یہ ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں آنے والے فیصلے کے استدلال یا لاء پوائنٹس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ کوئی قوم کو یہ نہیں بتا رہا کہ کیس میں کتنی جان تھی۔ فیصلے میں قانون کا کتنا احترام روا رکھا گیا۔ بطور ایک کیس لاء اس کی اہمیت کیا ہے اور آئندہ کے لئے اثرات کیا ہوں گے۔ اس کی بجائے دانشوروں میں سے کچھ کو یہ گمان ہے کہ کوئی ڈیل ہو چکی ہے اور کسی کو یہ خدشہ کہ آنے والے دنوں میں ایک نیا افتخار چوہدری یا ثاقب نثار دیکھنے کو ملے گا۔ اگر اسے قحط الرجال نہ کہیں تو پھر اور کیا کہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *