پاکستان بمقابلہ زمبابوے پر سمیع چوہدری کا کالم: گھر سے باہر جیت کی عادت کمانے کا موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹیسٹ میچ

Getty Images

سال تھا 2013 اور پاکستانی ٹیم زمبابوے کے دورے پر تھی۔ مصباح الحق ٹیسٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ پاکستان دو میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ جیت چکا تھا اور دوسرا میچ ہرارے سپورٹس کلب میں کھیلا جا رہا تھا۔

چوتھی اننگز میں چھوٹے سے ہدف کا تعاقب بھی بسااوقات ڈرامائی صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی اس میچ کی چوتھی اننگز میں بھی ہوا جہاں ایک اینڈ تو مصباح الحق نے سنبھالے رکھا مگر دوسری طرف سے مسلسل وکٹیں گرتی گئیں تاآنکہ مصباح اکیلے رہ گئے اور پاکستان ہدف سے تھوڑا سا پیچھے رہ گیا۔

یہ طویل ترین فارمیٹ میں زمبابوے کی پاکستان کے خلاف تیسری فتح تھی اور مصباح الحق کی ٹیم کے لیے یہ ایسی شکست تھی کہ جسے کوئی بھی زیادہ دن یاد نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ مگر ایسے تکلیف دہ لمحات بھلا کب حافظے سے محو ہوتے ہیں!

یہ بھی پڑھیے

’شکر ہے، کرائسٹ چرچ ٹیسٹ ختم ہو گیا‘

دو ہفتے کی محنت اور نتیجہ صرف تھکاوٹ

کیا شان ولیمز کی ٹیم پریشر کو پچھاڑ دے گی؟

زمبابوے

Getty Images

دوسری جانب یہی لمحہ زمبابوے کرکٹ کے یادگار ترین لمحوں میں سے ایک تھا کہ ایک تگڑی ٹیسٹ ٹیم کے خلاف وہ سیریز برابر کرنے میں کامیاب ٹھہرے۔ زمبابوے کے موجودہ ٹیسٹ سکواڈ میں سے برینڈن ٹیلر وہ واحد کھلاڑی ہیں جو اس میچ کا حصہ تھے۔

اس وقت زمبابوے کے ڈریسنگ روم میں یقیناً اس فتح کی یادوں کی بازگشت سُنائی دے رہی ہو گی اور اسی حوصلہ افزائی کے سامان میں شان ولیمز بھی چاہ رہے ہوں گے کہ اپنی کپتانی میں وہ بھی کوئی ایسا لمحہ تخلیق کر پائیں جو ان کے شائقین برسوں یاد رکھیں۔

دوسری جانب پاکستانی کیمپ میں اگرچہ حالیہ افریقی دورے کی متواتر فتوحات ایک حوصلہ افزا امر ہیں مگر ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے اس ٹیم کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا باقی ہے کیونکہ مصباح الحق کے کوچنگ سنبھالنے کے بعد سے اب تک پاکستان کسی غیر ملکی دورے پہ کوئی بھی ٹیسٹ میچ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم گراؤنڈز پہ ٹیسٹ سیریز کی جیت بہت بڑی کامیابی تھی مگر کچھ روز پہلے مصباح الحق یہ کہتے سنائی دیے تھے کہ اب انھیں اس ٹیم کو غیر ملکی کنڈیشنز میں جیت کی عادت ڈالنا ہے۔

گو زمبابوے کسی بھی لحاظ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا انگلینڈ جیسی مشکل حریف نہیں ہے مگر بابر اعظم کی ٹیم یقیناً اس دباؤ میں ہو گی کہ اب کی بار پھر کوئی ویسی انھونی نہ ہو جائے جو حالیہ ٹی ٹونٹی سیریز کے دوسرے میچ میں ہوئی تھی یا 2013 کے اس دورے پہ ہوئی تھی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں اگرچہ پاکستان فتح یاب ٹھہرا مگر کئی سوال پھر بھی تشنہ جواب رہ گئے۔ ڈیبیو سیریز پہ دھواں دھار انٹری دینے والے عابد علی اگرچہ مستقل اس ٹیم کا حصہ ہیں لیکن پہلی سیریز کے بعد کے سبھی میچز میں ان کی پرفارمنس اوسط درجے کی رہی۔

بابر اعظم

Getty Images

دوسرے اینڈ پر عمران بٹ بالکل نوآموز اوپنر ہوں گے اور اس کے سبب عابد علی پر ذمہ داری بڑھ جائے گی۔ گو مڈل آرڈر میں اتنا دم خم تو ہے کہ وہ ٹاپ آرڈر کی ناکامی کا ازالہ کر سکتا ہے مگر عابد علی کو یہاں اپنی ہستی کا جواز دینے کی اشد ضرورت ہو گی۔

ہرارے کی وکٹ عموماً سست رہتی ہے، سو میچ میں چلتے چلتے یہ سپنرز کے حق میں پانسہ ضرور پلٹے گی۔ پاکستان کی جانب سے دو سپنرز کو کھلائے جانے کا امکان ہے۔ چونکہ یاسر شاہ اس سیریز میں دستیاب نہیں ہیں سو ہمیں نعمان علی کے ہمراہ زاہد محمود ڈیبیو کرتے نظر آ سکتے ہیں۔

بھلے ٹیسٹ کرکٹ کے وسیع تر تناظر میں یہ سیریز بہت زیادہ اہم نہیں ہے مگر پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے پھر بھی یہ بہت خاص ہو گی کہ بالآخر یہی وہ موقع ہے جہاں سے وہ گھر کے باہر بھی ٹیسٹ جیتنے کی عادت اپنا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp