نوجوان پریکٹیکل لائف سے ڈرتے کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ہم اپنی زندگی کا مشاہدہ کریں تو ہمیں اپنی زندگی میں بہت سارے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے پہلا مرحلہ بچپن ہوتا ہے پھر جوانی اور پھر بڑھاپا۔جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، اس مرحلے کو جوانی کہتے ہیں۔

یہ ہماری زندگی کا اہم ترین مرحلہ ہے۔ یہ مرحلہ ہماری زندگی کا چینجنگ زون ہوتا ہے۔ اس میں ہماری زندگی کے اہم فیصلے متوقع ہوتے ہیں اور انہی فیصلوں کی بنیاد پر ہماری آنے والی زندگی گزرتی ہے۔

اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف۔ ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں،  اس میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بچپن سے لے کر اس کی گریجویشن، ماسٹرز یا پھر اس سے بھی آگے تک خود برداشت کرتے ہیں۔ عموماً بچے اور والدین دونوں ہی اس بات میں شرم محسوس کرتے ہیں کہ بچے اپنی سیکنڈری یا ہایئر سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد اپنے اخراجات خود برداشت کریں یا کوئی پارٹ ٹائم جاب کریں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سٹوڈنٹ اپنی پریکٹیکل لائف میں بہت دیر سے جا کر قدم رکھتا ہے اور اس کے سامنے زندگی کی تلخ حقیقتیں واضح نہیں ہو پاتیں۔

اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ڈگری مکمل کر لینے کے بعد اس کو ایک بہترین جاب مل جائے گی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ لاکھوں لوگ تو ڈگریاں لے کر پہلے سے ہی بے روزگار پھر رہے ہیں۔ یہاں پر آ کر زیادہ تر لوگوں (ہمارے گریجویٹس) کی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ دل ہار جاتے ہیں اور کمپیٹیشن میں اترنے سے قبل ہی خود کو سرنڈر کر دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں سٹوڈنٹس یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر نکل رہے ہیں، ان لاکھوں میں سے چند سو سٹوڈنٹس ایسے ہیں جو اپنا روزگار اپنی خواہش کے مطابق حاصل کر لیتے ہیں یا کمپیٹیشن کا حصہ بنتے ہیں اور اس میں کامیاب ہوتے ہیں، وگرنہ زیادہ تر لوگ غیر ملکی سفر اختیار کرتے ہیں اور وہاں جا کر اپنا رزق کماتے ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ پاکستان میں بے روزگاری ہے، وسائل کی کمی ہے۔ لیکن ان حالات میں ہمیں بھی اپنی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم خود کو اس صورت حال میں پڑنے سے پہلے ہی سنبھال لیں۔ ہمیں اپنے مشن، اپنے گول کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرنی ہے اور ساتھ ساتھ پریکٹیکل لائف میں قدم بھی رکھنا ہے۔ ہمیں اپنی ہایئر سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد یا اس سے بھی قبل ٹیکنیکل کورسز کرنے چاہئیں اور ان میں مکمل مہارت حاصل کرنا چاہیے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں ٹیسٹ کریں اور اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی سکلز کو بڑھائیں اور اس کی مدد سے پارٹ ٹائم کام کر کے اپنی ضروریات پوری کریں۔ اس سے ہمارے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہو گا۔ والدین کو بھی یہ چاہیے کہ وہ امیر ہوں یا غریب، وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھا سکتے ہوں یا نہیں، انہیں ایک خاص وقت کے بعد اپنے بچوں کو خود کمانے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ انہیں زندگی کی تلخ حقیقتیں جلد از جلد پتا چلیں اور وہ ان سے نمٹنا سیکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غلام کبریا لک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *