EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شوگر مافیا، کورونا اور آن لائن یوم مئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مرتبہ افیون کے تمام ٹھیکے کسی مذہبی تقریب کی بناء پر بند تھے۔ ایک افیونی اس روز افیون کی تلاش میں کئی میل کی مسافت طے کر کے ایک گاؤں پہنچا۔ لیکن وہاں بھی ٹھیکہ بند تھا۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں سے تین میل کی دوری پر ایک گاؤں میں ٹھیکہ بند نہیں۔ وہ بیچارہ گرتا پڑتا جب وہاں پہنچا تو ٹھیکے کا جلتا بلب دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ قدم تیز ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر اک عجیب امید اور سرخوشی کے عالم میں اس نے ٹھیکیدار سے پوچھا۔

افیون ہے؟ ٹھیکیدار نے کہا۔ ہاں۔ اور آپ کو کتی (کتنی) چاہیے؟ اس استصواب سے مست ہو کر وہ خوشی سے اچھل پڑا۔ جوش ملیح آبادی نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا۔ وہ افیونی ”تیری کتی کے قربان۔ تیری کتی کے قربان“ کہہ کر ناچنے لگا۔ چشم فلک نے اسی طرح 1970ء کے زمانہ میں جیالوں کو مست و رقصاں دیکھا ہے۔ ان کے کانوں میں بھٹو کی روٹی ، کپڑا ، مکان کی آواز پہنچی۔ برسوں سے خواب غفلت میں سوئے جاگ پڑے۔ روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرے سے بھوکوں، ننگوں اور بے گھروں کو پتہ چلا کہ ایک حکومت بھی ہوتی ہے۔ اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھوکوں کو کھانا، ننگوں کو لباس اور بے گھروں کی رہائش کا بندوبست کرے۔ پھر بیروزگاروں کے روزگار اور بیماروں کے علاج معالجہ کا بندوبست بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ بھٹو نے معاملہ خیر خیرات سے، حق حقوق تک پہنچا دیا۔ پھر کیا ہوا؟ وہ سب غریب غرباء اسی افیونی کی طرح خوشی سے پاگل ہو گئے۔ پھر وہی منظر نامہ تھا۔ ”میں تیری کتی کے قربان۔ میں تیری کتی کے قربان“ پھر جیالے تھے اور جئے بھٹو کے نعرے تھے۔

انہیں حکومت کی اہمیت کا احساس ہوا۔ انہیں پتہ چلا کہ ان کے ووٹوں سے حکومت کی طاقت ہے۔ وہ ذات، برادری، پیر مرشد، خانقاہ، سب کچھ چھوڑ کر بھٹو کے پیچھے چل دیے۔ بھٹو کی جماعت کا انتخابی نشان تلوار تھا۔ تلوار کو اتنے ووٹ پڑے کہ جیتنے والے خود حیران پریشان رہ گئے۔ بھٹو حکومت میں آ گئے۔ مقتدر قوتیں سیاست دانوں کو صرف حکومت دیتی ہیں، اقتدار نہیں۔ یہ سقوط ڈھاکہ کے بعد والا زمانہ تھا۔ ہندوستان میں 90 ہزار جنگی قیدیوں کے باعث مقتدر قوتیں کمزور پڑ گئی تھیں۔

بھٹو کو جاگیرداروں پر ایک کاری ضرب لگانے کا موقعہ مل گیا۔ لیکن جلد ہی ضیاء الحق کے دور میں جاگیرداروں پر لگائی بھٹو کی تلوار کے وار کا قزلباش کیس کی صورت میں علاج معالجہ کر لیا گیا۔ جاگیردار جیت گئے۔ غریب عوام ہار گئے۔ ہندوستان نے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی جاگیرداری سے نپٹ لیا تھا۔ لیکن ہم مسلم لیگ میں ان کی طاقت کے باعث کچھ نہ کر سکے۔ تحریک پاکستان کے آخری دنوں میں سبھی جاگیردار مسلم لیگ میں چلے آئے تھے۔

انہوں نے اسلام کو نہایت ہنرمندی سے سوشلزم کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ جاگیرداری کے تحفظ کے لئے جو جماعت بنائی گئی اس کا نام بھی ”انجمن تحفظ حقوق کاشتکاراں تحت شریعت“ ہی رکھا گیا۔ یورپ ان انسانی فکری تحریکوں میں غلام ہندوستان سے بہت آگے تھا۔ یکم مئی 1886ء امریکہ کے شہر شکاگو میں سفید جھنڈے اٹھائے ، احتجاجی مزدور باہر نکل آئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اوقات کار آٹھ گھنٹے کر دیے جائیں۔ لیکن ان کے سفید جھنڈے انہی کے خون سے سرخ کر دیے گئے۔ اسی دن سے سرخ پرچم محنت کش طبقے کی جد و جہد کا نشان بن گیا۔

اسی واقعہ کی مناسبت سے یکم مئی دنیا بھر کے محنت کشوں کا دن ہے۔ وہ اسے سرحدوں، مذہبوں اور قوموں سے بالاتر ہو کر ایک نعرے ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ“ کے تحت یکجا ہو کر مناتے ہیں۔ پوری دنیا کے برعکس پاکستان میں یوم مئی کا حال بہت ”ماٹھا“ ہے۔ یہاں مزدورقیادت کوکمیونسٹ سمجھا جاتا ہے۔ معاشرے میں ان کا مبلغ تعارف یہ ہے کہ یہ اللہ کو نہیں مانتے۔مذہب کے منکر ہیں۔

بھٹو نے ہماری مذہب پرستی کو خوب سمجھا۔ اس نے سوشلزم کو ہمارے لئے قابل قبول بنانے کے لئے اسے اسلامی سوشلزم کا نام دے دیا۔ لاہور یوم مئی کا پہلا شاندار جلوس وہی تھا جس میں بھٹو نے ٹرک پر بیٹھ کر پہلی مرتبہ شرکت کی۔ 1969 کے اس جلوس میں کالم نگار بھی شریک تھا۔ سن کے سلسلہ میں اسے قدرے مغالطہ ہے۔ یہ جلوس گول باغ سے شروع ہو کر اسمبلی ہال تک پہنچا۔ یہاں پہلے حبیب جالب نے اپنی مشہور نظم سنائی:

”خطرہ ہے زرداروں کو۔ رنگ برنگی کاروں کو۔ امریکہ کے پیاروں کو۔ اسلام کوئی خطرے میں نہیں“ ۔ اس کے بعد بھٹو نے اپنی مختصر تقریر میں بتایا۔ ”میں پشاور سے آ رہا ہوں۔ گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کھیتوں میں چھوٹے چھوٹے بچے کٹائی میں مصروف ہیں۔ جب ہم برسر اقتدار آئیں گے تو ان بچوں کے ہاتھوں میں درانتی کی بجائے کتابوں کاپیوں کے بستے ہوں گے“ ۔

جاوید ہاشمی جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر تھے۔انہیں سیٹھ احمد داؤد نے بتایا کہ ہمارے ملک میں مستقبل کی سیاست شوگر ملز مالکان کے گرد گھومے گی۔ شاید وہ انہیں شراکت میں ایک شوگر مل لگانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ لیکن ہوا کے گھوڑے پر سوار جاوید ہاشمی نے شوگر مل کیا لگانی تھی، وہ پوری توجہ سے سیٹھ احمد داؤد کی بات بھی نہ سن پائے۔ اگر وہ بھی شوگر مل کے مالک ہوتے تو آج ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں سیاست میں بہادری کی اک تاریخ رقم کرنے والے اس ہاشمی کے ساتھ یہ سلوک روا نہ رکھتیں۔

آج پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ”مالکان“ شوگر ملز مالکان ہی تو ہیں۔ پی ٹی آئی کا ”مالک“ کسی شوگر مل کا مالک نہیں۔ لیکن اس میں اتنا دم خم بھی نہیں کہ وہ شوگر مافیا کے سامنے ٹھہر سکے۔ پاکستان میں مزدوروں کی جماعت صرف پیپلز پارٹی تھی۔ پیپلز پارٹی صرف بھٹو کی زندگی تک پیپلز پارٹی تھی، پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

آج پاکستان میں مزدوروں کی کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ پھر کیا یوم مئی اور کیا یوم مئی کا جلوس ، چند درد مند ہیں جو ہر سال یوم مئی کا تماشا لگا لیتے ہیں۔ پھر کالم نگار کا یہ دکھ اپنی جگہ کہ اس سال کورونا نے یہ تماشا نہیں لگنے دیا۔ پوچھنے پر فرخ سہیل گوئندی نے بتایا کہ اس برس یوم مئی کا سب کچھ آن لائن ہی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے