ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پچاس کلو کا تھیلا اٹھا کر روز اپنی کمر کو مشقت دینے والے کے گھر ایک وقت میں پانچ کلو آٹا دستیاب نہیں۔ پچاس لاکھ کی سواری کو ڈرائیور کرنے والے کے پاس پچاس ہزار کی سواری نہیں۔ دس کروڑ کے بنگلے کی رکھوالی کرنے والا اپنی رہائش گاہ اپنی چھت سے محروم ہے۔

ہم ایک بوسیدہ اور گلے سڑے نظام کا حصہ ہیں جس میں امیر، امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب، غریب سے غریب تر۔ معاشرے کا غریب طبقہ اسی حالات کی چکی میں پس کر اپنا دم توڑ رہا ہے۔ اس نظام میں نچلے طبقے کے لوگوں کو اور ان کے بچوں کو یہ بات بتائی اور سکھائی جاتی ہے کہ غربت تمھارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے اور تمھارے حصے کی روٹی اور آرام و آسائش تمھاری تقدیر میں لکھے ہی نہیں۔ اور ساری زندگی ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی سسک سسک کر اپنا دم توڑتی رہتی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پچپن ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ اور محنت مزدوری کر کے زندگی کی گاڑی گھسیٹنے پر مجبور ہیں۔ انسانیت کا ایک بڑا حصہ قحط کی صورت حال سے دوچار ہے اور صاف پانی ملنا تو ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ مہنگائی کا عفریت ان بے بس و مجبور محنت کشوں کی زندگیاں ویران کر رہا ہے، مگر ہم نپولین کے اس فرمان کو کہ ”جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ خود کو بھی سچ ہی معلوم ہونے لگے“ کے مصداق پھر آج یوم مئی کے نام پر سال میں ایک دن مزدوروں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کے اظہار کا ناٹک رچایا جا رہا ہے۔ آج اسی مزدور کا دن ہے

عالمی یوم مزدور یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے۔ انسانی تاریخ میں محنت و عظمت اور جدوجہد سے بھرپور استعارے کا دن یکم مئی ہے۔ 1884ء میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف اٹھنے والی آواز کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر ان جاں نثاروں کی قربانیوں نے محنت کشوں کی توانائیوں کو بھرپور کر دیا۔ مزدوروں کا عالمی دن کار خانوں، کھتیوں کھلیانوں، کانوں اور دیگر کار گاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔

لیکن آج پھر پرانے بیانات اور وہی گھسے پٹے دعوے دہرائے جائیں گے، جس سے غریب مزدور کی بھوک مٹ سکے گی اور نہ ہی بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کا کوئی بندوبست کر سکیں گے، بس ایک خالی محبت کا اعلان اور پھر اگلے دن سے سارا سال وہی ظلم جو ایک بیگارکیمپ کا خرکار اپنے زرخریدوں پر کرتا ہے کہ وہ زندہ رہیں اور اس کے کاروبار کی ترقی کا باعث بنے رہیں۔ بھلا اس نام نہاد ناٹک کی کیا اہمیت ہے؟ یہ سوال کرنے کی ہمت کرتے ہیں کہ شکاگو کے محنت کشوں نے مزدور تحریک میں خون کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی، کیا ہم آج جو ان کے نام پر واقعی کسی قسم کی جدوجہد یا تحریک برپا کرنے کی سعی کر رہے ہیں یا بس ایک چھٹی اور چند بے روح جلسے یا ریلیاں، وہ بھی صرف آئی ایل او اور این جی اوز سے چند ٹکے نذرانے وصول کرنا ہی مقصود ہے؟

آج جس کا دن ہے وہ آج بھی 12 سے چودہ گھنٹے کام کرے گا۔ وہ آج بھی پیسنے سے شرابور ہو کر گھر لوٹے گا۔ ہم ایک ایسے منافق اور بوسیدہ نظام کا حصہ ہیں۔ کہ سارا دن ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے اس دن کی چھٹی منائیں گے۔ جبکہ جس کے نام پہ یہ دن منایا جا رہا ہے اس کی خستہ حالی سب کے سامنے ہے۔

ایسا اس لیے ہے کہ ملک میں امانت دار اور باصلاحیت قیادت نہیں ہے، کرپٹ قیادت نے اس ملک میں اس نظام کے پودے کو پانی دیا ہے، جس نے طبقات کی جنگ کا ماحول بنایا ہے۔ آج بھی یہ بات درست طور پر کہی جاتی ہے کہ یہ دو طبقات کی جنگ ہے، بلکہ اسے اگر یہ کہا جائے کہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے تو بہتر ہو گا۔ اس جنگ میں ایک فریق آجر ہے۔ جسے ہم آج کے معاشی نظام کی نسبت سے ظالم قرار دے سکتے ہیں۔ ظالم وہی ہوتا جو کسی کا حق مارے۔

تو سوال یہ ہے کہ آج کا تاجر کیا کر رہا ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان پوری قوم کے لیے اور اجیر کے لیے بھی ہے، یہاں اجیر تو اس نظام میں پسا ہوا ہے اور قوم بے خبر ہے، مگر یہ نظام ایک ایسا المیہ ہے کہ صنعتی مزدور ہوں یا زرعی، رجسٹرڈ ہوں یا غیر رجسٹرڈ، مزدور، انہیں روزگار مل جائے تو اجرت نہیں ملتی۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں چھ کروڑ پچپن لاکھ کے قریب لیبر فورس ہے۔ اس میں پانچ کروڑ پچپن لاکھ تو غیر رسمی اور غیر رجسٹرڈ شعبوں سے وابستہ ہیں، یہی مزدور ہر روز منڈی اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔

کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین مزدور بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ وہ مزدور ہیں جنہیں بنیادی حقوق اور سوشل سیکیورٹی کی سہولت میسر نہیں۔ ان کی اجرت بھی طے نہیں ہوتی۔ انہیں آئین کے مطابق یونین سازی کا حق بھی نہیں ملتا، نیشنل لیبر فیڈریشن چاہتی ہے کہ ملک کا ہر مزدور بنیادی حقوق سے محروم نہ رہے۔ ہم ملک بھر میں ہر سطح پر اس کے لئے عملی کوشش اور جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ آج کے مزدور کی تصویر کشی کی جائے تو چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔

کراچی میں، جسے ہم ملک کا صنعتی حب کہتے ہیں، دو کروڑ کی آبادی میں مزدوروں کی تعداد پچیس لاکھ کے قریب ہے، اس تعداد میں غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدور شامل نہیں۔ ان مزدوروں میں 93 ہزار ایسے ہیں، جن کی سوشل سیکیورٹی میں رجسٹریشن ہے، ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد مزدور ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہیں۔ صرف کراچی میں ہی رسمی شعبے میں چوبیس لاکھ مزدور ایسے ہیں، جنہیں بنیادی حقوق حاصل نہیں اور یہ لوگ حالات کی چکی میں پس کر اپنا دم توڑ دیتے ہیں۔

یہ تو کراچی کا نقشہ ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں صورت حال اس سے بھی بدتر ہے جن اداروں میں مزدور رجسٹرڈ ہیں ، ان اداروں میں کرپشن بھی عروج پر ہے اور اس وجہ سے مزدور کو یہاں بھی طے شدہ مراعات نہیں مل رہیں۔ ورکر ویلفیئر فنڈز، ای او بی آئی، اور سوشل سیکیورٹی جیسے ادارے مزدوروں کے لئے بنائے گئے ہیں، لیکن یہاں بھی مزدور کے ہاتھ تو کچھ نہیں آتا، ظالم طبقہ بدعنوانی کر رہا ہے اور کرپشن کی ہوش ربا داستانیں ہیں، مگر حکومت اور عدلیہ کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ کیونکہ شاید حکومتی ٹولہ وزیراعظم صاحب کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر غفلت کی میٹھی نیند سلا دیتے ہیں۔

آج کے مزدور ڈے کے حوالے سے مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہوتے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان اداروں میں کرپشن کا راستہ روکا جائے اور بدعنوانی میں ملوث افراد سے ریکوری کی جائے۔ سوشل سیکیورٹی کے ہسپتال، ای او بی آئی کے دفاتر اور ورکر ویلفیئر فنڈز کے دفاتر میں جو سلوک مزدور سے ہوتا ہے، وہ تو تھانوں میں بھی نہیں ہوتا۔ اس سے بھی بڑا انسانی المیہ بلوچستان میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کے ساتھ برے غیر انسانی سلوک کی صورت میں ہو رہا ہے۔

صوبے میں دو لاکھ سے زائد مزدور اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان میں صرف چھ ہزار مزدور رجسٹرڈ ہیں، ان کی تنخواہ بھی غیر متعین ہے، اور انہیں حفاظتی آلات بھی میسر نہیں ہیں، جبکہ کان کنی کے مزدور ہر وقت موت کے منہ میں رہتے ہیں۔ ہر سال کانوں میں ہونے والے حادثات کے شکار مزدوروں کی لاشیں نکالی جاتی ہیں۔ جو شناخت کے قابل بھی نہیں ہوتی اور ان کے گھر والے جو ان کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں ، انہیں ان کی لاشوں کا تحفے بھیج دیے جاتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ان کی لاشیں بھی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرانے میں ناکام رہی ہیں کہ ان مزدوروں کے لئے سیفٹی آلات کتنے ضروری ہیں۔ ملک میں ہر ضلع میں لیبر ڈیپارٹمنٹ ہے۔ مزدوروں کی رجسٹریشن، ان کی تنخواہوں، اجرت، ان کے لئے حفاظتی آلات کی فراہمی یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ شعبہ تاجروں کے ساتھ مل کر مزدوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم میں شریک ہے اور تاجروں سے بھتہ لے کر مزدوروں کے لئے جائز قانونی مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے کوئی کام نہیں کر رہا۔

مزدوروں کے قانونی تحفظ کے لئے لیبر کورٹس، این آئی آر سی اور اپیلٹ ٹربیونلز برائے نام موجود ہیں۔ ان عدالتوں میں مزدوروں کے لاکھوں کیسز زیر التواء ہیں۔ صرف کراچی میں ایسے کیسز کی تعداد 46 ہزار ہے۔ یہی صورت حال این آئی آر سی اور اپیلٹ ٹربیونلز کی ہے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن آج تک ہمارے ذہنوں میں زندہ ہے۔ اس سانحہ میں 259 مزدور زندہ جلادیے گئے تھے۔ ان شہید مزدوروں کے مظلوم اور بے بس لواحقین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔

مزدور کے لئے ریاست مدینہ کا اصل پیغام یہی تھا اور ہے کہ اسے پسینہ خشک ہونے سے قبل مزدوری ملے گی۔ لیکن یہاں تو اس کا خون خشک ہو جائے تب بھی حکام بالا کو غفلت کی نیند سے جگانا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ آج کی حکومت دعویٰ تو کرتی ہے، عمل کے میدان میں صفر ہے۔ مزدور کے لیے اس کے اوقات کار کے لئے بھی جنگ لڑی گئی۔ جدوجہد ہوئی اور شکاگو کے مزدور بھی اسی لیے جان سے مار دیے گئے کہ وہ یہ مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔ آج کی صورت حال کیا ہے؟

ہمارے ملک میں کسی بھی ادارے میں مزدور کے لئے طے شدہ اوقات کار کی پابندی نہیں کی جاتی۔ خواتین مزدور بھی نہیں بخشی جاتیں۔ نجی اداروں اور غیر رسمی شعبے میں ان سے بارہ بارہ اور سولہ سولہ گھنٹے تک ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ مگر کام کی جگہ خواتین کے جسمانی تشدد سے لے کر جنسی طور پر ہراساں کرنے تک کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں اس وقت ملک بھر میں کم و بیش ساڑھے چھ لاکھ مزدور کام کر رہے ہیں، اصول یہ ہے کہ ہر پانچ سو نفوس کے لئے ایک سینیٹری ورکر ہونا چاہیے، لیکن اس وقت پانچ ہزار افراد کے لئے ایک سینیٹری ورکر تعینات کیا جاتا ہے، ان سے یومیہ اجرت پر بیگار لی جاتی ہے۔

قومی المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی اقدار بھول چکے۔ اور غیرت اور حمیت گروی رکھ چکے ہیں۔ منافقت کا نام مفاہمت رکھ لیا گیا ہے اور یو ٹرن کو حکمت عملی کہا جا رہا ہے۔ اگر دنیا کے معاشی نظاموں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اشتراکیت کی ناکامی کے بعد دنیا میں اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام لے لی ہے۔ اور اب دنیا اسی کے تابع ہے کہ اس کے ہر حکم کو بجا لانا مجبوری بن چکا ہے۔ عالمی حکمران اس کی چاکری میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کی دوڑ میں شامل ہیں اور قومی حمیت کو بیچ دینے سے بھی نہیں ہچکچاتے، بلکہ امریکہ کی بے مول غلامی بھی قبول کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔

یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک آزاد قوم، مسلم ریاست اور ایٹمی طاقت ہیں۔ ہم ان کی غلامی میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ کرنے اپنے ہی نوجوانوں کو ڈالر لے کر بیچنے پر فخر کرنے اور اپنی بیٹیوں کو ان کے حوالے کرنے میں بھی ہماری غیرت اور عزت کوفرق نہیں پڑتا۔ سوچئے کہ ان غلام حکمرانوں کو غریب و بے بس مزدوروں کو غربت کی چکی میں پیس کر رکھ دینے یا زندہ درگور کر دینے میں کون سا امر مانع ہے؟ یہ بھی سوال ہے کہ کیا آج ملک میں ٹریڈ یونینز آزاد ہیں؟مزدور کے لئے قوانین پر روح کے ساتھ عمل ہو رہا ہے اور کیا انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنا کام کر رہے ہیں؟ جواب نفی میں ہے اس لئے کہ ملک پر جو نظام مسلط ہے، وہ انہی سرمایہ داروں کا اور اس نظام کو چلانے کے لئے حکمران بھی انہی کے ایجنٹ جو بے ایمان، حرام خور، لوٹ مار، کمیشن مافیا اور ظلم کے خوگر ہیں، ان سے کسی انصاف یا ہمدردی کی توقع کرنا نہ صرف بے وقوفی ہے، بلکہ اپنے ساتھ ظلم ہے۔

مزدور تحریک کو بے روح اور بے جان رکھنے کا اقدام کرنے والے کل خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ سوچ رکھیں، کیونکہ وہاں کوئی آئی ایل او یا این جی او مدد کو نہیں آ سکے گی۔ اپنے اعمال ہی کام آئیں گے، ایسے معاشرے میں غریب مزدور کو عزت نفس سے تو محروم کر ہی دیا گیا ہے، اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلامی ملک کے اس معاشرے میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ میڈیا میں بھی اس کی نمائندگی سال میں ایک ہی دن ہوتی ہے پھرسارا سال خاموشی چھا جاتی ہے۔

آزاد عدلیہ بھی مزدوروں کے معاملے میں کافی احتیاط سے کام لیتی ہے، کوئی از خود نوٹس تو ممکن ہی نہیں، اداروں میں پاکٹ یونینز بنانے یا پیدا کرنے کا رواج عام ہے۔ ہر بڑے ادارے میں یہی فارمولا جاری ہے، عدلیہ کو اس بارے میں ضرور نوٹس لینا چاہیے، اپنے حقوق کے لئے آہ و فغاں کرنے والے مزدوروں پر دہشت گردی کی دفعات لگا دی جاتی ہیں، لیکن پاکٹ یونین کے بارے میں کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ یہ عمل ضمیر بیچ ڈالنے یا عزت و غیرت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

مظلوموں کی کوئی داد رسی نہیں اور انہیں کوئی دلاسا دینے والا بھی نہیں ملتا۔ اسی کا نام سرمایہ داری نظام ہے۔ مزدور تحریک کو اسی کے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ ٹریڈ یونین کی آزادی ہے، نہ کوئی جدوجہد کا راستہ ہے اور قابض نام نہاد رہنمائی کے دعویدار کسی قسم کی قربانی کے لئے تیار نہیں۔ حکومتوں کو کوئی فکر اور غم نہیں کہ محنت کش طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے اور اس کے بچے تعلیم سے محروم رہ کر اس بھٹی کا ایندھن بننے جا رہے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام نے بڑی خوبصورتی سے دنیا کے تمام طبقات زندگی کو استعمال کر کے اشتراکیت کی جڑ اس کی اپنی درانتی سے کاٹ دی ہے اور آج یہ سود پر استوار ظالمانہ نظام دنیا بھر کے غریب مزدوروں کو اپنے بیگار کیمپ میں غلام بنا چکا ہے، جہاں زندگی کی ڈور قائم رکھنے کے لئے چند نوالے عطا کیے جاتے ہیں تاکہ چمنی کا دھواں بھی جاری رہے اور ان کی ناجائز دولت بڑھانے کے لئے ان کا اپنی اولادوں سمیت آلہ کار بنا رہے۔

آج کی حکومت ریاست مدینہ کا نام لے کر عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ کرائے کے ماہرین معیشت سے کام چلا رہی ہے۔ یہ ماہرین مزدور کی بھوک ننگ اور غربت ختم کرنے کے لئے کوئی منصوبہ اور لائحہ عمل نہیں رکھتے۔ ریاست مدینہ کے والی محمد ﷺ نے جو لیبر پالیسی دی تھی، اس کا خطبہ الوداع میں ذکر موجود ہے۔ جو تمہارے ہاتھ کے نیچے کام کرتے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں جو خود کھاتے ہو، انہیں بھی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ اور ان پر کام کا وہ بوجھ نہ لادو جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں۔

مگر ریاست مدینہ کے دعوے دار صرف زبانی دعوؤں تک محدود ہیں۔ تقریباً تین سال کے طویل عوصے میں بھی مزدور کے لئے کوئی بل پاس نہ ہوا نہ ہی اس کے حقوق کے لئے کوئی عملی اقدامات کیے گئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی میرے دیس کا مزدور بھی خوشحال ہوگا؟ کیا کبھی مور خوشی سے اس کے گھر بھی رقص کرے گا؟ کیا کبھی اس کے گھر بھی خوشحالی کی کلکاریاں گونجیں گی؟ کیا کبھی اس کا دسترخواں بھی مختلف لوازمات سے اس کے گھر کو مہکائے گا؟ اگر نہیں تو یوم مزدورمنانے کے نام نام پہ کی جانے والی منافقت کی کیا ضرورت ہے بھلا۔ ذرا سوچیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقصیٰ یونس کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *