اقبال: محنت کش طبقے کی صدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
اقبالؔ

یکم مئی ہر سال شکاگو کے محنت کشوں کی عظیم جہدوجہد کی یاد کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ 1884 میں سرمایہ داروں کے ظلم و استبداد کے ستائے محنت کشوں نے بالآخر خاموشی کی روایت کو توڑتے ہوئے اپنے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی پیش کر دی۔ اس عظیم قربانی نے دنیا بھر کے محنت کشوں کی تحریک میں نئی روح پھونکی۔ یکم مئی یوم مزدور ہر سال اسی تحریک کے جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں محنت کش کی تعریف و تصویر کچھ یوں ملتی ہے کہ وہ شخص جو سارا دن پسینہ بہا کر گھروں کی تعمیر کرے لیکن خود بے گھر ہو۔ وہ شخص جس کے خون پسینے سے سب کو خوراک میسر ہو لیکن وہ خود دو وقت کے کھانے کے لیے مجبور ہو۔ وہ شخص جس کا خون پسینہ وطن کی تعمیر کے دوران اس کی بنیادوں میں شامل ہو مگر اسی ملک میں وہ بے نشان رہے۔ وہ جو دن رات دوسروں کی جان مال کا تحفظ کرے لیکن اس کی اپنی زندگی کی قیمت بہت سستی ہو۔ وہ جو سکول اور اسپتال تعمیر کرنے والا ہو مگر خود ان سہولیات سے محروم رہے۔ وہ جسے خدائے بزرگ و برتر نے ”محنت کش اللہ کا دوست“ قرار دیا ہو لیکن ہمارے معاشرے میں عزت سے محروم رہے۔ وہ شخص جو سارا دن خون نچوڑے مگر اس کی اجرت سب سے کم ہو۔ اس بے بسی و بے کسی کو اقبال نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اقبال افق مشرق پہ جگمگانے والا وہ ستارہ ہے جس نے نہ صرف بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھانے کا فریضہ سر انجام دیا بلکہ معاشرے کے پسے طبقات کو پسماندگی کی تاریکی سے نکلنے کا حوصلہ بھی بہم پہنچایا۔ اقبال کی شاعری جہاں مسلمانوں کی ابتر حالت پہ اشک بار ہو کر اسے نئی صبح کی امید اور حوصلہ دلاتی ہے وہیں محنت کش طبقے کو اپنے حقوق کے تخفظ کے لیے کھڑے ہونے کا درس بھی دیتی ہے۔ اپنی شاعری میں جگہ جگہ سرمایہ دارانہ نظام پہ تنقید کرتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں۔ معاشرتی طبقاتی تفریق انھیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ باغی مرید میں وہ اس کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں۔

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

مغرب میں ابھرنے والی محنت کشوں کی تحریک کو اقبال نے محنت کش طبقے کے لیے نئی امید کے طور پہ دیکھا۔ خضر راہ میں ”سرمایہ اور محنت“ کے عنوان سے الگ باب میں وہ اس تحریک کو لے کر وہ امید اور حوصلے کا پیام دیتے نظر آتے ہیں۔

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

اسی باب میں اقبال سرمایہ دارانہ نظام کو محنت کش طبقے کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں۔
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

مغربی ممالک میں ابھرنے والی تحریک کو اقبال نے اپنے اشعار کے ذریعے مشرق میں متعارف کروایا اور یہاں کے محنت کش کو بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے کا پیغام اور حوصلہ دیا۔ اقبال کے دور میں برصغیر میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑا تھا اور محنت کش طبقہ ایک عرصہ سے اس نظام کی چکی میں پس رہا تھا۔ غلاموں کی مانند طویل مشقت کے باوجود اجرت انتہائی کم رکھی جاتی تھی۔

دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

عظیم شاعر و مفکر اس ظالمانہ نظام کی چالاکیوں اور بے اعتدالیوں سے بخوبی واقف تھے سو انھوں نے محنت کشوں کو اپنے حقوق کے دفاع کی خاطر اس ظالم نظام کے خلاف بغاوت پہ آمادہ کیا۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

بغاوت اور جدوجہد کا یہ درس صرف برصغیر کے کچلے ہوئے طبقات کو بیداری اور شعور عطا کرنے کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ اقبال دنیا بھر کے محنت کشوں کی توانا آواز بن کر سامنے آئے۔

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو

اقبال نے اپنی شاعری میں مزدور اور محنت کش کو اس کی حقیقت سے روشناس کروانے کی بہت کوشش کی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ سرمایہ دار جس عظیم تخت پہ براجمان ہیں وہ تخت مزدور کے خون پسینے سے ہی ممکن ہوا ہے۔ حتیٰ کے ہر نوالہ جو سرمایہ دار کے حلق سے اترتا ہے وہ بھی مزدور کی کوشش سے ہی ممکن ہے۔ جس دولت پہ سرمایہ دار سانپ بن کر بیٹھے ہیں وہ دولت مزدوروں اور محنت کشوں کے بغیر انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس احساس کو وہ دنیا بھر کے محنت کشوں میں بیدار کرتے نظر آتے ہیں۔

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ بھی تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو

خوش قسمتی سے اقبال کے عظیم خواب کی تعبیرپاکستان کے طور پہ سامنے آ چکی ہے لیکن بدقسمتی سے اقبال نے جو خواب طبقاتی اونچ نیچ کی بیخ کنی اور محنت کشوں کے حقوق کے بارے میں دیکھا تھا، اس کی تعبیر ان کے پاکستان میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ قیام پاکستان سے اب تک مزدور جس چکی میں پس رہے تھے، ابھی بھی پس رہے ہیں۔ خون پسینے سے ملک کی تعمیر کرنے والے، ملک کا مقام بلند کرنے والے اپنے مقام سے ابھی تک محروم ہیں۔

ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں وہی حقوق دیے جائیں جو آج کی مضبوط ترین اقتصادی قوت چین نے اپنے ملک کے محنت کشوں کو دے رکھے ہیں۔ ورنہ ہر سال یکم مئی یوم مزدور کے موقع پہ محض چھٹی اور تقاریر کرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ آج کئی سال بعد بھی مزدور اقبال کے ان اشعار کی صورت سراپا سوال ہیں کہ

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کرن عباس کرن کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *