مقدمہ گلگت بلتستان کا حل کیا ہے؟(قسط دوئم)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب اس وقت شروع ہوا جب 1840 میں پنجاب کی سکھ افواج نے بلتستان ریجن پر حملہ کر کے قبضہ کیا پھر وہ گلگت کی طرف بڑھ گئے۔

پہلے سکھوں نے جارحیت کی پھر ڈوگرہ افواج نے بذریعہ جنگ اس علاقے کو فتح کیا اور شاہی ریاست کشمیر کا حصہ بنایا مگر تاریخ شاہد ہے کہ بیرونی قبضہ، تسلط اور جبر کے خلاف مقامی لوگوں نے زبردست مزاحمت کی ۔ بقول احسان محمود خان 1842 میں بلتستان کے لوگوں نے ڈوگروں کے خلاف بغاوت کی اور 1852 میں گلگت کے لوگوں نے ڈوگرہ کے خلاف بغاوت کی مگر کامیابی نہیں ملی۔

گلگت بلتستان کے راجہ گوہر امان نے سکھ اور ڈوگرہ افواج کو کئی جنگوں میں زبردست شکست سے دوچار کیا اور اپنی زندگی میں گلگت بلتستان پر مکمل طور پر قبضہ کرنے نہیں دیا۔

ڈاکٹر G۔ W۔ Leitner اپنی کتاب ”DARDISTAN) 1866,1886,1893 ) کے صفحہ نمبر 70۔ 73 میں لکھتے ہیں کہ“ راجہ گوہر امان نے جب 1841 میں گلگت فتح کیا تو گلگت کے حکمران سکندر خان نے کشمیر کے گورنر غلام محی الدین کے ذریعے سکھوں سے مدد طلب کی اور نتھو شاہ کی کمان میں ایک ہزار کشمیری افواج نے گلگت پر حملہ کیا۔ اس جنگ میں گوہر امان کے خلاف سکندر خان کے چھوٹے بھائی کریم خان نے سکھوں کا ساتھ دیا مگر گوہر امان نے سکھ افواج کو شکست دی۔

شکست خوردہ سکھ فوج نے نتھو شاہ کے ماتحت مہتر داس کی کمانڈ میں چار ہزار لشکر کی مدد سے گلگت پر دوبارہ حملہ کیا اور وادی پونیال شیر قلعہ کے مقام پر سکھ افواج نے گوہر امان کی فوج سے ٹکر لی لیکن گوہر امان کے جنگجوؤں  نے سکھ افواج کو زبردست شکست دی اور علاقہ سے باہر نکال دیا۔

راجہ گوہر امان نے راجہ ہنزہ نگر اور گلگت کے بہادر لوگوں کی مدد سے 1848 میں ڈوگرہ فوج کو ایک خونی جنگ میں بدترین شکست دی۔

جنگ میں ڈوگرہ فوج کے بہت سارے سپاہیوں کے علاوہ ان کے کرنل نتھو شاہ اور کریم خان کو بھی قتل کیا گیا اور گلگت کو ڈوگرہ فوج کی تسلط سے آزاد کرایا مگر مہاراجہ کشمیر نے گلگت پر دوبارہ حملہ کروا کے کریم خان کے بیٹے راجہ محمد خان کو گلگت کے تخت پر بٹھایا اور اس کی مدد کے لیے حکومت کشمیر کا نمائندے امان علی شاہ کو گلگت کا تھانے دار مقرر کیا۔

مہاراجہ کشمیر نے نہ صرف چترال کے شاہ افضل کو گوہر امان کے خلاف حملہ کرنے پر اکسایا بلکہ 1856 میں کشمیر کے اتار سنگھ اور وزیر زور آور کی قیادت میں گلگت پر لشکر کشی بھی کروائی ، اس جنگ میں ایک مقامی راجہ جعفر  نے بھی ان کی مدد کی مگر گوہر امان کی فوج نے بھوب سنگھ پڑی میں دشمن افواج کا قتل عام کر کے انہیں گلگت سے باہر نکالا دیا اور گوہر امان نے عیسیٰ بہادر کو گلگت کے تخت سے اتار دیا اور تھانہ دار کو بھی قتل کیا گیا ۔ اس طرح گوہر امان نے زندگی بھر بیرونی جارحیت کا مقابلہ کیا۔

745 صدی عیسوی میں ریاست بلور ٹوٹنے کے بعد اس خطے میں کئی چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستوں نے جنم لیا تھا جن میں سے ریاست ہنزہ اور ریاست نگر نے 1974 تک اپنا وجود برقرار رکھا۔

ڈوگرہ جارحیت کے زمانے میں گلگت بلتستان میں کئی ایک شاہی ریاستیں موجود تھی، راجہ گوہر امان نے ان سب کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ راجہ گوہر امان کی زندگی میں ڈوگرہ افواج مکمل طور پر پورے گلگت پر تسلط قائم کرنے میں ناکام رہیں اور کئی بار بدترین شکست کا سامنا بھی کیا۔

بیرونی جارحیت اور اندرونی سازشوں کے باوجود گوہر امان نے گلگت بلتستان کی منقسم چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ملا کر ایک بڑی متحدہ ریاست بنانے کی جدوجہد کی مگر راجہ گوہر امان کی زندگی نے وفا نہیں کی اور بیماری کی وجہ سے وہ گلوپور پونیال کے مقام پر وفات پا گئے، ان کا مقبرہ آج بھی ضلع غذر وادی یاسین ناز برنالہ کے پاس موجود ہے۔

راجہ گوہر امان کی وفات کی وجہ سے ان کا متحدہ ریاست گلگت بلتستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا مگر اس کا مزاحمتی کردار گلگت بلتستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

گوہر امان کی وفات کے بعد گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار مضبوط لیڈر شپ کا خلاء پیدا ہوا تو موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈوگرہ فوج کے کرنل دیوی سنگھ، کرنل ہشارہ اور کرنل رادھا کشن کے ماتحت سکھ افواج نے غذر یاسین اور مستوج پر فوج کشی کی اور گوہر امان کے بیٹے ملوک امان کو ملک بدر کر کے عظمت شاہ کو مستوج کا راجہ بنایا اور عیسیٰ بہادر کی پونیال کی راجگی بحال کی اور پونیال اور یاسین پر اپنا اثر قائم کیا۔

مگر گوہر امان کا بیٹا ملوک امان واپس آیا اور عظمت شاہ کو مستوج کے تخت سے نیچے اتار دیا اور گلگت پر حملہ کیا جو ڈوگرہ کے زیر اثر ہوا تھا مگر اسے ناکامی ہوئی البتہ گوہر امان کے چھوٹے بیٹے غلام محی الدین عرف پہلوان نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کیا مگر اس وقت کے راجہ چترال نے شندور کے راستہ سے حملے کر کے مستوج یاسین پر قبضہ کیا چنانچہ گوہر امان کا بیٹا پہلوان ایک ہی وقت میں ڈوگرہ اور چترال کی افواج کا ایک ساتھ مقابلہ نہیں کر پایا اور پھر گلگت اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔

دوسری طرف گلگت بلتستان کے کچھ مقامی حکمرانوں نے آپسی دشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف مہاراجہ کشمیر کی افواج سے مدد لینے کی روایت قائم کی،  بدلے میں مہاراجہ کی بالادستی کو تسلیم کیا۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور حکومت میں تاج برطانیہ نے 1877 میں ایک معاہدہ کے تحت گلگت ایجنسی کی بنیاد ڈالی جو کہ 1888 تک قائم رہی اور پھر 1889 میں برٹش انڈیا نے گلگت ایجنسی کو دوبارہ قائم کر کے ان علاقوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کا عمل شروع کیا اور بعض مقامی حکمرانوں کی فارن پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کرتے رہے اور بالآخر 1891 میں برٹش افواج نے شاہی ریاست ہنزہ، و ریاست نگر کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کی اور بہت نقصان اٹھانے کے بعد تاج برطانیہ کی افواج نے بالآخر ریاست ہنزہ و ریاست نگر پر قبضہ کیا اور 1893 میں ریاست ہنزہ اور ریاست نگر مکمل طور پر تاج برطانیہ کی Protectorate بن گئے۔

اس جنگ کے متعلق Colonel Algernon Durand، نے اپنی کتاب The Making of a Frontier میں لکھا ہے جو سال 1899 میں شائع ہوئی ہے:

چنانچہ بیرونی جارحیت اور جنگ نے گلگت بلتستان میں تین طرح کے حکمران پیدا کیے ۔
برٹش انڈیا، مہاراجہ کشمیر، اور گلگت بلتستان کے مقامی حکمران۔

گلگت بلتستان کی فارن پالیسی کو تاج برطانیہ کنٹرول کرتی تھی جبکہ انگریزوں کے نیچے دوسرے درجے پر مہاراجہ کی حکومت قائم تھی جبکہ مقامی حکمران برٹش انڈیا اور مہاراجہ جموں کشمیر دونوں کے ماتحت تھے، یوں مہاراجہ کشمیر گلگت بلتستان کے مقامی حکمرانوں کے ذریعے عوام پر حکومت کرتے تھے، جو عوام سے مالیہ لیتے تھے جبکہ مقامی حکمرانوں سے مہاراجہ خراج وصول کرتا تھا اور مہاراجہ خود برٹش حکومت کو خراج دینے کا پابند تھا۔

اتحاد، ثلاثہ کی اس پالیسی کے تحت تاج برطانیہ اور مہاراجہ کشمیر نے مقامی حکمرانوں کے ساتھ مل کر آسانی سے عوام پر حکومت کی، لیکن جب 1917 میں زار روس کی شہنشاہیت کا خاتمہ کر کے ولادیمیر لینن نے روس میں دنیا کا سب سے بڑا سوشلسٹ انقلاب برپا کیا تو اس کے اثرات یورپ سے برٹش انڈیا تک پھیل گئے، اور تاج برطانیہ کی سمندر پار سلطنت برٹش انڈیا کے لیے خطرے کی علامت بن گیا لہٰذا برٹش انڈیا نے روسی کمیونسٹوں کی ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کے لئے گلگت ایجنسی کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھنے کی حکمت عملی طے کی۔

چونکہ گلگت ایجنسی کی سرحدیں سنٹرل ایشیا، یعنی سابقہ USSR اور چین کے ساتھ ملتی ہیں، اس لیے روس اور چین سے نمٹنے کے لئے گلگت ایجنسی پر براہ راست حکومت کرنا برٹش انڈیا کے لیے ضروری تھا چنانچہ برٹش انڈیا نے مہاراجہ ہری سنگھ سے 26 مارچ 1935 کو گلگت ایجنسی 60 سال کے لیے Lease پر لی، اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

گلگت لیز ایگرمنٹ 1935 کے آرٹیکل 1 کے تحت برٹش انڈیا کے گورنر جنرل نے گلگت ایجنسی میں برٹش سول اور ملٹری ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کا اختیار حاصل کیا۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ علاقہ بدستور مہاراجہ کی ریاست جموں کشمیر کا حصہ رہے گا۔

اور سال بھر مہاراجہ جموں کشمیر کی ریاست کا جھنڈا بھی لہراتا رہے گا۔
جبکہ معاہدے کے آرٹیکل 4 کے تحت معدنیات پر تمام اختیارات مہاراجہ کشمیر کو ہی حاصل تھے۔

معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت یہ ایگرمنٹ 60 سال کے لیے تھا مگر دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ معاشی طور پر اتنا کمزور ہو گیا کہ سمندر پار کالونیوں پر قبضہ اور تسلط برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا ، چنانچہ تقسیم ہند کے منصوبہ کے تحت پاکستان، انڈیا کو آزادی دینے سے قبل ہی یکم اگست 1947 کو تاج برطانیہ نے گلگت ایجنسی کا لیز ایگرمنٹ ختم کیا اور گلگت ایجنسی مہاراجہ ہری سنگھ کے حوالہ کی۔

مہاراجہ نے اپنی فوج کے ایک سینئر افسر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کیا جو رشتے میں مہاراجہ کا چچازاد بھائی تھا۔

تقسیم ہند سے قبل ہی مہاراجہ گلگت میں اپنے عہدے پر براجمان تھے جبکہ مہاراجہ نے تقسیم ہند کے قانون کے تحت انڈیا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر اپنی ریاست کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی ۔ چنانچہ ریاست جموں و کشمیر کے حصول کے لیے پاکستان انڈیا کی پہلی جنگ 22 اکتوبر 1947 کو اس وقت شروع ہوئی جب قبائلی لشکروں نے کشمیر پر حملہ کیا تو مجبوراً مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا سے مدد مانگی اور پھر مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ کچھ شرائط کے ساتھ Instrument Of Accession پر دستخط کر کے انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تو قبائلی لشکروں کے مقابلے کے لیے جواہر لال نہرو نے انڈیا کی فوج جموں و کشمیر میں اتار دی اور پھر جموں و کشمیر میں جنگ شروع ہوئی، لیکن ریاست جموں و کشمیر کے تیسرے حصے یعنی گلگت بلتستان میں بالکل امن اور خاموشی تھی۔

اس دور میں گلگت بلتستان میں ایک بھی ہوائی اڈہ نہیں تھا نہ ہی ریڈیو، اخبار اور ٹی وی کی کوئی سہولت موجود تھی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان ایک طرح دنیا سے بالکل کٹا ہوا تھا ۔ اس لیے کشمیر میں 22 اکتوبر 1947 سے جاری جنگ کے بارے میں گلگت بلتستان کے عوام کو پتہ ہی نہیں چلا ، البتہ گلگت ایجنسی میں گلگت سکاؤٹس کے انگریز میجر ولیم براؤن کو اس جنگ کا پہلے سے علم تھا جو گورنر گھنسارا سنگھ کو جوابدہ تھا۔

کشمیر میں جاری اس جنگ کے حالات سے فائدہ اٹھا کر یکم نومبر 1947 کو گلگت سکاؤٹس کے مقامی فوجی افسران و جوانوں نے مقامی باشندوں کی حمایت سے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت میں گرفتار کیا اور آزادی گلگت بلتستان کا اعلان کر دیا۔

مگر دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آزادی گلگت بلتستان کو آج تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا اور یکم نومبر 1947 کی آزاد حکومت گلگت بلتستان صرف 16 دنوں تک ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکی۔

جاری ہے ۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *