منتارہ (ناول)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں شائع ہونے والا محمد حفیظ کا ناول، ”منتارہ“ ملکی سیاست کے پس منظر میں لکھی گئی، ایک فرضی کہانی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی ریاست اپنے جنم دن سے ہی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے والے سیاسی قائدین کے نرغے میں ہے۔ عوام الناس کی بدقسمتی ہے کہ ان پر ہمیشہ افسر شاہی، برآمد شدہ معاشی ماہرین، صنعت کاروں اور جاگیرداروں نے حکومت کی۔ جو سٹیٹ مین شپ، لیڈر شپ اور سیاسی بصیرت سے نا آشنا تھے۔ کیا یہ لوگ عوام پر مسلط کیے جاتے تھے؟ ”منتارہ“ اسی تھیوری کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔

”منتارہ“ کی کہانی سیاسی عدم استحکام کی داستان تو ہے ہی مگر ناول کا پلاٹ ہمارے ملک کے وڈیروں ، جاگیرداروں اور سرداروں کی ذاتی زندگیوں کی ترجیحات اور سفاکانہ رویوں کا پردہ بھی چاک کرتا ہے۔ جو اپنی ذات میں خود غرض ہونے کے ساتھ ساتھ نا اہل بھی ہیں۔ ان قائدین کی نااہلی اور بد عنوانی ان بیرونی طاقتوں پر بہت اچھی طرح سے آشکار ہے۔ جو اس ملک کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ وہ اپنے اپنے ممالک کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام دیکھنے کے خواہش مند رہتے ہیں۔

ہماری نااہل سیاسی قیادت اور افسر شاہی، جانے یا انجانے میں ان مذموم مقاصد میں ان کا ہاتھ بٹاتی رہتی ہے۔ ہم اپنی سیاسی قیادت کو ملک دشمن ہونے کا الزام تو نہیں دے رہے مگر قومی سطح پر نا اہل، خود غرض اور کم نظر ہونا ہی کسی ملک کو صدیوں پیچھے لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار مخدوم ناظر حیات، سینیٹ آف پاکستان کا ممبر ہے۔ جو عمر کی قریب ساٹھ، ستر دہایاں اس تعداد سے اوپر حسینوں کے جلو میں گزار آیا ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر ”گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے“ کے مصداق جوانی کی یادیں تازہ کرنے بحرہند کے ساحلوں کا رخ اکثر کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک حسن پرست کردار ہے جو پاکستان کی سیاست میں معزز اور کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر ایستادہ عیاشی کی پناہ گاہوں میں رذیل ترین عاشق آوارہ ہے۔ مخدوم سیاسی وجاہت کے مقابلے میں حسیناؤں کی نرم گرم آغوش میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہماری ملاقات مخدوم سے اسی ماحول میں ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی آخری دوست نائلہ کے ساتھ کولمبو کے ساحلی ہوٹل میں موجود ہے۔

سینٹر مخدوم ناظر حیات نے دو شادیاں بھی کیں مگر دونوں بیگمات مخدوم کی آوارہ طبیعت اور جنسی ناآسودگی کے باعث اس کو چھوڑ گئیں۔

پہلی شادی اس کے سیاسی مخالفین اور بڑے بھائی کے قاتلوں کی بیٹی سے اس لیے کرنی پڑی کیونکہ وہ خاتون ہرجانے کے طور پر اس مخدوم کو نکاح میں ملی تھی۔ اس سے بمشکل ایک بیٹا ہادی حیات پیدا ہو سکا۔ جو جوان اور وجہیہ ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں وزیر ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کے خاندان کی نوجوان ذہین اور تعلیم یافتہ خاتون سلمٰی حیات سے مخدوم کی دوسری شادی سلمٰی کی ماں نے کروائی جو خود بھی مخدوم کی محبوبہ رہ چکی ہے۔

خاندانی روایات کے سامنے سلمٰی حیات کو سر تسلیم خم کرنا پڑا۔ مگر اپنی عمر سے دگنے مرد کو جنسی طور پر کمزور پا کر گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے کی بجائے علیحدگی اختیار کر لی۔ اور بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاسی میدان میں اتر گئی۔ ہادی حیات جو اپنی سوتیلی ماں سلمیٰ بیگم سے عمر میں بڑا ہے۔ مگر سیاست میں سینئر ہونے کے باوجود سلمیٰ بیگم سے زیادہ تیز طرار نہیں۔ مخدوم ہادی حیات کو اس کی سگی ماں نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے متنفر کر رکھا ہے۔

ادھر سلمیٰ حیات اقتدار تک پہنچنے کے لئے پر تول رہی ہے۔ ہادی حیات اور سلمیٰ حیات اپنے باپ اور شوہر ناظر حیات کو مروا کر سیاسی ہمدردی حاصل کر کے سیاسی عروج اور حالیہ الیکشن چاہتے ہیں۔ اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے مخدوم کی دیرینہ دوست نائلہ سے بہتر انتخاب کیا ہو سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے مشن پر کام کرتے ہوئے نائلہ اس بات سے بے خبر رہتی ہے کہ اس کو احکامات کہاں سے آتے ہیں؟

سیاسی تلخیوں کے بیچوں بیچ رومان، جنسی تعلقات اور ازدواجی تعلق کی ہموار اور ناہموار وادیوں سے گزار کر ناول نگار آپ کو ایک لمحے کے لئے بھی بور نہیں ہونے دیتا۔ محمد حفیظ خان نے کہانی کو بہت اچھے اور نپے تلے انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ اس کہانی کے ہر باب میں مصنف نے انسانی نفسیات، شخصی کمزوریوں، محبت، نفرت اور ازدواجی تعلقات بارے دانائی کے موتی بھی پروئے ہیں. اب وہ لمحہ نائلہ پر وارد ہو چلا تھا کہ جسے عطا کا لمحہ کہیں یا خطا کا۔ لیکن جو بھی اس لمحے میں مضمر تھا وہ موسلادھار برسنے کو تھا۔ تمام تر شدت، خدمت اور سبھاؤ سے، کہ جو عورت پر شاید ہی زندگی میں کبھی اس طور اترتا ہے۔ وگرنہ وہ تو زندگی بھر آورد کو ادھر ادھر کی لیپا لوپی اور رنگ برنگے سوانگ سے آمد کا روپ دیتی رہتی ہے۔ معمول کی جنسی مباشرت کی بیزاری اور کثافت کو خوش دلی اور لطافت کا روپ دینے کے واسطے اتنے ناٹک رنڈی کو گاہک کے لئے نہیں کرنے پڑتے جتنے ایک بیوی کو شوہر کا دل رکھنے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔

اس واسطے کہ شوہر بھی بیوی کی جنسی عطا اور کھل کر برسنے کے لمحات سے اتنا ہی بے خبر ہوتا ہے کہ جتنا کہ ایک گاہک رنڈی کے بدن کی طلب سے لا تعلق۔ یوں عورت چاہے بیوی ہو، رنڈی ہو یا رکھیل، تمام صورتوں میں مرد اس کے بدن کے لطیف اعضاء کو بیت الخلاء کی طرح برتتا نہیں تھکتا اور عورت اس تذلیل کا انتقام اسے اپنی جسمانی لطافتوں کی عطا کے لمحات سے مسلسل محروم رکھ کر زندگی بھر لیتی ہے۔ یوں جسمانی شراکت کے ہوتے ہوئے بھی دونوں فریق حقیقی جسمانی سانجھ سے محروم رہ کر ایسی نسل انسانی پیدا کرنے کا باعث بنے رہتے ہیں کہ جن کی بنیاد ہی تذلیل اور فریب پر رکھی جا چکی ہوتی ہے۔“ (صفحہ نمبر ( 29 )

جوان، ذہین اور دلکش دوشیزہ نائلہ کریم الدین مخدوم ناظر حیات کی آخری داشتہ ہے۔ با اثر اور دولت مند مردوں کو سیڑھی بنا کر خوشحالی اور شہرت حاصل کرنے والی خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد ہمارے پدرسری اور عورت کو جنسی کھلونا سمجھنے والے، پسماندہ معاشرے میں بستی ہے۔ نائلہ انہی چال باز خواتین کی نمائندہ ہے۔ وہ سیاسی طاقت پر تعمیر بے حس اور سفاک محلات کی غلام گردشوں میں تو مخدوم ناظر حیات کے ذریعے پہنچتی ہے مگر طاقت کے مراکز اور بادشاہ ساز قوتوں تک اپنے ”نسوانی فنون“ سے وارد ہوتی ہے۔

”منتارہ“ کی کہانی میں قاری ”ڈیپ سٹیٹ“ تھیوری سے روشناس ہوتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق دنیا میں ایسے زیر زمین نیٹ ورک موجود ہیں جو بین الاقوامی خفیہ ادارے اور کارپوریٹ مافیاز وجود میں لائے ہیں۔ اور یہ نیٹ ورک تاجروں اور کارٹل مافیا کی مالی معاونت سے چلتے ہیں۔ کہانی میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایک ایسا نیٹ ورک ملک پاکستان میں بھی سیاسی عدم استحکام پر مامور ہے۔ نائلہ اور اس کی قماش کے چند افراد : فرحان، صباحت اور منصور قریشی ”ڈیپ اسٹیٹ“ کے مہرے بن چکے ہیں۔ جن کا کام سیاست دانوں کو بلیک میل کر کے سیاسی جوڑ توڑ پر مجبور کرنا۔ حکومتیں گرا کر نئی قائم کرنا اور اپنے آقاؤں کے اشارے پر کچھ سیاست دانوں کو راستے سے ہٹانا بھی ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ اقتدار کی رسہ کشی سے بھری پڑی ہے۔ اقتدار کے حصول کے لئے سگے باپ اور بھائیوں کو قتل کروانا حکومتیں گرانا یا کمزور کرنے کی سازشیں کرنا بدقسمتی سے مسلمان حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ ”منتارہ“ کہانی میں مخدوم ناظر حیات بھی اپنے بیٹے اور بیوی کی سازش کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے:

” اگر ایک ناکام باپ اپنے بیٹے کے اقتدار کی راہ میں حائل ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ ہادی حیات نے ان خیالات کو ذہنی فتور سمجھ کر جھٹکنے کی کوشش کی تو مغل فرماں روا اورنگزیب عالمگیر اپنی تلوار سونت کر اس کے سامنے آ گیا۔ سیاست میں کیا واقعی کوئی رشتہ، رشتہ نہیں ہوتا؟ بس مہرے ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے مفادات کی چال چلتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کیں تو شہزادہ دارا شکوہ کی سر بریدہ لاش فصیل محل سے لٹکی دکھائی دی جو ولی عہد ہوتے ہوئے بھی اپنے ہی بھائی اور ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ صاحب کردار اور متقی گردانے گئے بادشاہ اورنگزیب ہی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ تو کیا مخدوم ناظر حیات کی موت اس کے وزیراعلیٰ بننے کی راہ ہموار کر سکتی ہے؟ ذہن میں کھلبلی مچائے ہوئے اس خیال کو ہر پہلو سے دیکھا، ہر پہلو سے ہی اس کے باپ کی موت اس کی سیاست اور اقتدار کو جاوداں کرتی ہوئی دکھائی دی۔“ صفحہ نمبر ( 210۔ 211 )

کہانی مختلف دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ پلاٹ چھوٹا ہے۔ کہانی میں ذخیرۂ الفاظ کو بہت احتیاط اور کمال ہنر سے برتا گیا ہے۔ کہانی قاری پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتی۔ کوئی فقرہ یا لفظ کم یا زیادہ نہیں۔ 222 صفحات پر مشتمل ناول کا اختتام الیکشن مہم کے دوران خود کش حملے میں مخدوم ناظر حیات کی موت اور بیگم سلمیٰ حیات کے اعلیٰ ترین مسند اقتدار پر پہنچنے پر ہوتا ہے۔ مگر سیاسی عدم استحکام میں مصروف سر بستہ قوتوں نے کریم الدین اور منصور قریشی جیسے مہروں کو وزیراعظم سلمیٰ حیات کے معاون خصوصی کے طور تعینات کروا کرا کر اپنے مقاصد حاصل نہ ہونے کی صورت میں اگلا کام کام کرنے پر مامور کر دیا ہے۔

بدقسمتی سے اقتدار کی رسہ کشی اور سیاسی عدم استحکام وطن عزیز میں آج بھی جاری ہے۔ ہمارے سیاست دان اپنی ذات ذاتی مفادات سے بلند ہو کر مل بیٹھ کر ملکی مسائل بارے سوچ بچار کرنے کے ردوادار نہیں۔ بالغ نظری اور ملکی مفادات کو مقدم رکھ کر مخالفین کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت سرے سے غائب ہے۔ ملکی سیاست آج بھی بد عنوان، خود غرض اور نا اہل سیاسی قائدین کے ہاتھوں میں ہے۔

”منتارہ“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی وہ شخص ہوتا ہے۔ جس کو یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ تیراک ہے حالانکہ وہ تیراک نہیں ہوتا۔ ناول کا مرکزی کردار یہ سمجھتا ہے کہ وہ عورت ذات کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ مگر یہ اس کی تکلیف دہ غلط فہمی ہو تی ہے۔ شاید اسی لئے ناول کے سرورق پر سرائیکی کا یہ شعر لکھا ہے :

” بحر فکر وچ کھاواں غوطے میں ہاں سئیں منتارہ“

محمد حفیظ خان کا ناول آج کے سیاسی حالات کے پس منظر میں لکھی گئی ایک دلکش فکشن ہے۔ راقم اردو ادب کو ایک اور ادبی تحفہ عطا کرنے پر محمد حفیظ خان کو مبارک باد پیش کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *