کیمبرج امتحان: نہ سمجھ آنے والی منطق یا نذر نیاز؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلسفے کی ایک قدیم کتاب میں درج ہے کہ جھوٹ بولنے کی اجازت صرف حکمرانوں کو ہونی چاہیے جس کا مقصد دشمنوں کو شکست دینا یا عوام کی فلاح و بہبود ہو۔ ہمارے حکمران فلاسفی کی اس گہری بات پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ٹھیک ٹھیک عمل کر رہے ہیں۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کا مقصد دشمنوں کو شکست دینے کی بجائے عوام کو شکست دینا ہو اور عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے جھوٹ اپنی حکمرانی کی فلاح و بہبود کے لیے بولا جائے۔

اس کے لیے صرف ایک مثال ہی کافی ہے۔ بچے نہ صرف انسانوں بلکہ ہر جاندار شے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انسانوں کے بچے اور نوجوان اگر تعلیم حاصل کر رہے ہوں تو وہ اپنی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بس اب یہیں رکیے اور جواب دیجیے کہ جو حکمران اپنے سب سے قیمتی سرمائے کو بیماری اور موت کے حوالے کر رہے ہوں تو کیا وہ حکمران اپنی قوم کے دوست ہیں یا دشمن کے دوست ہیں؟ یقیناً آپ کو فیصلہ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔

بالکل ویسے ہی جیسے تیرہویں صدی میں چنگیز خان کو اپنے مفتوحہ علاقوں میں اس علاقے اور اپنی قوم سے غداری کر کے چنگیز خان کا ساتھ دینے والے دوستوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے دقت پیش نہیں آتی تھی۔ چنگیز خان کا ساتھ دینے والے قوم کے غداروں کا سر ان میناروں کی بنیادوں میں شامل ہوتا تھا جسے تاریخ چنگیز خان کے دشمنوں کے سروں کے میناروں کے نام سے یاد کرتی ہے۔ پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم نے قوم کے سب سے قیمتی سرمائے کے ایک اہم حصے کو تعلیمی بیوپاریوں اور سوداگروں کے منافع کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

ملک میں او لیول اور اے لیول کے سٹوڈنٹس کی کثیر تعداد موجود ہے جن کے امتحانات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان امتحانات کے لیے سٹوڈنٹس کو امتحانی مراکز میں جانا پڑتا ہے۔ ایسے سٹوڈنٹس اور ان کے والدین شدید غم و غصے کے ساتھ چیخ چیخ کر دہائی دے رہے ہیں کہ تعلیمی پالیسی ساز اپنی قوم کی نئی نسل کی فلاح و بہبود کر رہے ہیں یا سانپ کی فطرت پر چلتے ہوئے اپنے ہی بچوں کو ہڑپ کرنے کا انتظام کر رہے ہیں؟ پاکستان میں کورونا نے وہی تباہی مچائی ہوئی ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں موجود ہے لیکن اس معاملے میں بھی ہمیں اپنے حکمرانوں کے طرزعمل میں دنیا کے بعض ممالک سے دو طرح کا فرق محسوس ہو گا۔

پہلا یہ کہ جھوٹ بول کر اس بیماری کی شدت کو اپنی عوام سے چھپایا گیا۔ دوسرا یہ کہ اس بیماری کی شدت کو کنٹرول کرنے کے لیے فیصلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے یا نا اہلی کی بنیادوں پر دیر سے کیے گئے۔ دیر سے کیے گئے فیصلوں میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، شادی بیاہ، تقریبات، ان ڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ، اسمبلیوں کے اجلاس پر پابندی، مارکیٹوں میں تعطیلات، کاروباری اور دفتری اوقات و حاضری میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے فوج کو بلا لیا گیا ہے۔

فوج کو اسی وقت بلایا جاتا ہے جب معاملات سول اتھارٹی کے ہاتھوں سے نکل جائیں۔ اس سے ملک میں کورونا کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف قوم کے سب سے قیمتی سرمائے کے ایک اہم حصے یعنی کیمبرج کے سٹوڈنٹس کو امتحانی مراکز میں جانے کے لیے آرڈر دیا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق ہر امتحانی مرکز میں صرف پچاس سٹوڈنٹس ہوں گے۔ اس نوٹیفیکیشن کی منطق سمجھ سے باہر ہے کیونکہ او لیول اور اے لیول کے ہزاروں سٹوڈنٹس کے لیے سینکڑوں امتحانی مراکز اور امتحان کا انتظام کیسے ممکن ہو گا اور اضافی اخراجات کا بوجھ کس پر ہو گا؟

دوسرا یہ کہ امتحانی مراکز کے باہر سٹوڈنٹس کا آپس میں اکٹھا ہونا کیسے روکا جائے گا؟ تعلیمی حکام کو یہ بات بتانی ہو گی کہ ہماری معاشرتی روایات کے مطابق سٹوڈنٹس امتحان سے پہلے اور بعد میں امتحانی مراکز کے باہر اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ امتحانات کو ڈسکس کرتے ہیں۔ تو کیا ایسی ڈسکشن کو ختم کروانے کے لیے سٹوڈنٹس کو پولیس اور فوج سے ڈنڈے مروائے جائیں گے؟ اس سارے قصے میں یہ بات بہت حیران کن ہے کہ کیمبرج انٹرنیشنل بورڈ نے دنیا بھر کے دس ممالک میں کورونا کی وجہ سے موجودہ امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔

مزید یہ کہ کیمبرج انٹرنیشنل بورڈ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک برطانیہ کے اندر اور ان ممالک میں جہاں کورونا کی وجہ سے فزیکلی امتحان لینا ممکن نہیں ہے وہاں ٹیچر اسیسمنٹ فارمولے کو ترجیح دی جائے گی۔ اصل بہادر حکمران اپنی قوم کی بھلائی کے لیے بے خوف اقدامات کرتے ہیں خواہ انہیں کوئی سہولت حاصل ہوں یا نہ ہوں ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ کیمبرج انٹرنیشنل بورڈ نے امتحانات کے لیے سہولت بھی دے دی لیکن ہمارے حکمران اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔

کیا یہ اصلی بہادر حکمران ہیں؟ افلاطون نے اپنی کتاب دی ریپبلک میں ایک جگہ لکھا کہ ایک زمانے میں یونان جس کے ہر فرد کے ساتھ بہادری اور شجاعت جڑی ہوتی تھی مگر وہ اپنے قائدین کے خلوص پر یقین کرتے ہوئے سر جھکائے آگے بڑھتے چلے جاتے تھے۔ پھر وہ زمانہ آیا جب یونانی سوال کرنے لگے کہ کیا یہ نشے کی آنکھیں اور ہرن کا دل رکھنے والے حکمران ہیں؟ ہمارے کئی لوگوں نے موجودہ حکمرانوں کے تبدیلی کے نعرے کو پسند کیا اور قائدین کے خلوص پر یقین کرتے ہوئے سر جھکائے آگے بڑھتے چلے گئے۔

کیا وہی لوگ اب یونانیوں والا مندرجہ بالا سوال دہرانے میں حق بجانب نہیں ہوں گے؟ او لیول اور اے لیول کے سٹوڈنٹس کے والدین یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ موجودہ امتحانات کے دوران اگر کسی سٹوڈنٹ کو کورونا ہو گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی وزارت تعلیم پر ہو گی۔ بقول حکمران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیچ پر ہیں۔ بقول والدین کیا حکومت کی وزارتیں آپس میں ایک پیچ پر نہیں ہیں؟ کیونکہ این سی او سی کے تمام تر خدشات کے باوجود وفاقی وزارت تعلیم  نے او لیول اور اے لیول کے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا۔

دنیا کے پہلے شاعر ہومر جو بصارت سے محروم تھے،  نے اپنی ایک نظم میں ٹروجن وار کے مشہور ہیرو ایکی لیس کے استاد کی ایک نصیحت تحریر کی ہے کہ یونانیوں کے چڑھاوے، تحائف اور نذر نیاز قبول کر کے ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جانا لیکن جب تک یہ چیزیں نہ ملیں اپنے غصے کو ہرگز کم نہ ہونے دینا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ہمارے نوجوانوں کو سچا اور کھرا پاکستانی بنانے کے لیے یکساں نصاب تعلیم جیسا کارنامہ بھی سر انجام دیا ہے۔

میڈیسن کی فیلڈ میں پروفیسر ڈاکٹر عامر شہزاد انٹرنیشنل سطح کی شخصیت ہیں۔ ان کی اور دیگر والدین کی تشویش ایسے باوقار اور پرخلوص وفاقی وزیر تعلیم تک پہنچنی ضروری ہے کہ اتنے رسکی ماحول میں کیمبرج کے امتحانات فزیکلی لینے کی آخر وہ کون سی منطق ہے جو وفاقی وزارت تعلیم کے علاوہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی یا نذر نیاز کا کوئی معاملہ ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *