ایم آئی ٹی کی تحقیق: کورونا میں چھ فٹ فاصلے کے اصول پر شک کا نشان


دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ایک وبائی مرض پھوٹ پڑا جس کو کووڈ 19 کا نام دے دیا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں پھیل گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کووڈ 19 کے ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقلی کے کچھ بنیادی راستے ہیں، اگر کسی متاثر شخص کے منہ سے کسی دوسرے شخص کے منہ ، آنکھوں یا ناک تک سانس کے قطرے منتقل ہو جائیں تو وہ شخص اس مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔

دوسرا ذریعہ یہ بتایا گیا کہ جب متاثر شخص کے سانس کے قطرے کسی سطح پر لگے ہو اور کوئی دوسرا شخص ان سطحوں پر جمع ہونے والے قطروں سے جسمانی رابطہ رکھے تو تب بھی وہ اس وبائی مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔

اب اسی پھیلاؤ کے ذریعے کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی جانب سے چھ فٹ سماجی فاصلہ رکھنے کی سفارش کی گئی جو کہ اس مفروضے پر مبنی تھی کہ سانس لیتے، کھانستے اور چھینکتے وقت سانس کے قطرے ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل ہو جاتے جو کہ اس وبائی مرض کے پھیلنے کا سبب بنتے ہے۔ اس طرح چھ فٹ کا سماجی فاصلہ رکھ کر ڈراپ ٹرانسمیشن کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

لیکن میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پروفیسر مارٹن زیڈ بازنٹ جو کہ کیمیکل انجینیئرنگ اور ریاضی کے پروفیسر اور ڈیجیٹل لرننگ افسر ہیں اور ان کے ساتھی جان ڈبکیو ایم بش نے امریکی سینیٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن اور عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کی گئی چھ فٹ سماجی فاصلے کی گائیڈ لائن کو چیلنج کیا ہے۔

ان محققین کا کہنا ہے کہ چھ فٹ کا قاعدہ بڑی حد تک ایک فرسودہ عقیدے پر مبنی ہے کہ اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کا بڑا خطرہ اس بات پر ہے کہ متاثرہ شخص کے سانس کے بڑے قطرے دوسرے شخص تک منتقل ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ شخص اس وبائی مرض کا شکار ہو جاتا ہے۔

جبکہ اس بات کے متعدد ثبوت موجود ہیں کہ ہوا کے دھاروں پر اونچے مائیکرو ڈراپ کے ذریعے ہوا میں ہونے والی ترسیل دراصل کووڈ 19 کے پھیلاؤ میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایم آئی ٹی کے محققین کے مطابق یہ چھ فٹ کا فاصلہ اس فرسودہ تفہیم پر مبنی ہے کہ کورونا وائرس بند جگہوں میں کس طرح حرکت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ فٹ کا یہ قاعدہ دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ برطانیہ میں جہاں یہ قاعدہ دو میٹر تک ہے تو یورپ کے بیشتر حصے میں یہ فاصلہ ایک میٹر تک محدود ہیں جو کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کم سے کم فاصلے کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔

ان محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سماجی فاصلہ ایک اچھی احتیاطی تدابیر ہے لیکن اتنا بھی مفید نہیں ہے۔ ان کا کہنا کہ مثال کے طور پر اگر کوئی کووڈ 19 سے متاثر شخص پچیس افراد کی میزبانی کرنے والے کلاس روم میں جاتا ہے ، کسی نے بھی ماسک نہیں پہنا ہوا ہے اور سب بول رہے ہیں تو چالیس منٹ کے اندر ہی ہر کسی کو کورونا وائرس کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ چھ فٹ کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔ اس کے برعکس اگر اس کمرے میں موجودہ تمام پچیس افراد نے ماسک پہنا ہوا تو بیس گھنٹے تک یہ افراد کورونا وائرس سے محفوظ ہو سکتے ہیں اور اگر یہی افراد بغیر ماسک کے ہوں تو انہیں تین منٹ کے اندر وائرس سے خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

ایم آئی ٹی کے اس ریسرچ کے مطابق گھر کے اندر چھ فٹ کے فاصلے پر رہنے سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکانہیں جا سکتا۔ اس لیے اس تحقیق نے چھ فٹ کے اصول پر شک کا نشان لگایا ہے ، ایم آئی ٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ جب لوگ طویل عرصے تک اندر ہوتے ہیں تو کسی دوسرے شخص سے چھ فٹ دور رہنا کافی نہیں ہو سکتا ہے۔ گھر کے اندر کووڈ 19 کے سامنے آنے کا خطرہ سات فٹ پر اتنا ہی زیادہ ہو سکتا ہے جتنا کہ یہ ایک کمرے میں چھ فٹ پر ہے عمومی جہاں ہوا ملی ہوئی ہو۔

ان کا مزید کہنا کہ ہم دلیل دیتے ہے کہ واقعی میں چھ فٹ کا اصول اتنا فائدہ مند نہیں ہے خاص طور پر جب لوگ ماسک پہنے ہوئے ہوں کیونکہ کمرے میں ہر کوئی ایک ہی ہوا میں سانس لے رہا ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق ان ماڈلز پر مبنی ہیں کہ کمرے میں ہوا اچھی طرح مخلوط ہے اور پیتھوجین پورے کمرے میں یکساں طور پر تقسیم ہوتے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی جگہ جہاں ہوا اچھی طرح مخلوط ہو ، وہاں کوئی بھی جراثیم کے خطرے سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا کہ کسی متاثر شخص کے ساتھ انسان جتنا زیادہ وقت گزارتا ہے ، ٹرانسمیشن کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا کہ ایک منٹ کے لیے اندر جمع ہونے والے بیس افراد شاید ٹھیک ہیں لیکن کئی گھنٹوں تک نہیں۔ ان کا کہنا کہ ایسی چھوٹی جگہ جہاں ہوا کا نظام ٹھیک نہ ہو اور جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سے گزرنے میں وقت لگاتے ہوں، انہی جگہوں پر لوگوں کو سب سے خطرہ پیش ہو سکتا ہے۔

اس برعکس اکثر اوقات جگہ کافی بڑی ہوتی ہے ، وینٹی لیشن کا نظام بھی کافی اچھا ہوتا ہے اور لوگوں کے ساتھ گزارنے کا وقت اتنا ہوتا ہے کہ ان جگہوں کو پوری صلاحیت کے ساتھ بھی محفوظ طریقے سے چلایا جا سکتا ہے تو ان جگہوں پر اتنا خطرہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص کے سانس کے قطرے پورے کمرے میں یا اس جگہ میں آسانی کے ساتھ جسم کی گرمی اور ہوا کے دھاروں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور ہر کسی کو ہوا میں منتقلی کے خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور پھر لوگ اس پس منظر کی ہوا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جتنا کہ وہ دور قطروں سے ہوتے ہیں۔

اس طرح اگرچہ بازنٹ اور بش کے مطالعے میں خاص طور پر آؤٹ ڈور ٹرانسمیشن پر نظر نہیں ڈالی گئی لیکن بازنٹ کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلے کا باہر کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ گرم ہوا جو سانس چھوڑتی ہے ، بڑھتی ہے اور کوئی بھی متاثرہ ہوا بہہ جاتی ہے۔ بازنٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں سائنسی معلومات عوام تک اس طرح پہنچانے کی ضرورت ہے جو نہ صرف خوف نہ پھیلانے والی ہو بلکہ اصل میں تجزیے پر مبنی ہو ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ یہ تحقیق کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی بنیادی پالیسی پر اثر انداز ہو گی۔

Facebook Comments HS