کورونا وبا کا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماوی آفات جن پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر کوئی بس چلتا ہے۔ ان آفات کے نزول کے سامنے سارے سائنسی اور انتظامی اقدامات اور حربے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جب انسان ان آفات کے سامنے بے بس ہو جائے تو پھر دعا ’التجا اور استغفار کے علاوہ اور کوئی طریقہ کار گر نہیں رہتا کیونکہ آسمانی آفات اوپر سے ہی آتی ہیں اور اوپر والے کے حکم سے ہی ٹلتی ہیں۔

2019ء میں نمودار ہونے والا مہلک وائرس کورونا جو بظاہر نظر سے بھی اوجھل ہے ، انسانی جدید ترین ٹیکنالوجی، ’انسانی غرور، ایجادات کو زمین بوس کر گیا اور انسانیت بے بس ہو کر رہ گئی ۔ اس چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا منجمند کر دی۔ معاشی اعتبار سے دنیا زوال کا شکار ہوئی تو وہیں یہ وائرس لاکھوں انسانی جانیں بھی نگل گیا، بھارت میں کورونا کا ریکارڈ اضافہ  ہوا اور پوری دنیا کورونا کے خوف میں مبتلا ہو چکی ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ یہ ایک قدرتی آفات ہے۔ سائنسی آلات کے باوجود کورونا انسانی بساط سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ جب قدرتی طور پر کوئی آفت آتی ہے تو اس وقت نہ تو سائنسی دلیل اور نہ ہی کوئی ٹیکنالوجی کام آتی ہے۔ آفت کو روکنے پر اگر کسی کو عبور حاصل ہے تو وہ ہے خدا کی قدرت جو پوری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں سے اتنا محبت کرتے ہیں جتنا کہ اس کے والدین نہیں کر سکتے۔

اللہ کی ربوبیت کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ آخر وہ اپنی تخلیق کردہ کائنات اور اپنے بندے کو اس طرح فنا کرنا کیوں چاہتا ہے؟ جب ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کریں گے تو پتہ چلے گا کہ ہمارے اعمال درست نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے مختلف شکلوں میں آفات آتی ہیں۔ جب زمین پر ظلم وبربریت میں تیزی آتی ہے تو اللہ رب العزت کو جلال آتا ہے۔ پھر وہ انسانوں کی عبرت کے لیے عذاب نازل کرتا ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ زمین ، آسمان،  سورج ، چاند،  ستارے ساری کائنات اللہ رب العزت کی ہی تخلیق کردہ ہے۔ وہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ انسان کو قوت و اقتدار اسی کے عطا کردہ ہیں جسے امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ بندگان خدا خوش رہ سکیں، ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔ ظلم و بربریت ، لاقانونیت کا خاتمہ کر کے عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔ لیکن جب انسان اللہ کی عطا کردہ چیزوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے،  اپنے اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر بندگان خدا پر ظلم وستم کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ عذاب نازل کر کے ظالموں سے انتقام لیتا ہے۔

قدرتی آفات کو ٹالنا کسی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے بعد جو بھی تباہی ہوتی ہے ، اس کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی تقریباً ہر سال کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی علاقے میں وہاں کے لوگوں کو زلزلہ، سیلاب ، قحط،  ٹڈی دل ، لینڈ سلائیڈنگ اور سمندری طوفان جیسی آفات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جب بھارتی بھی مسلمانوں سے اللہ کریم کے آگے دعا کرنے کی درخواست کر رہے ہیں،  ریلی نکال کر کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے ہیں  تو ایسے میں ہم کورونا سے لڑنے کا سوچ ہی کیوں رہے ہیں۔

کورونا انسانی تمام تدابیر کو ناکام کر کے کوئی پیغام دینا چاہتا ہے ، ایسی وبائیں،  آفات سماوی پہلے بھی ہوتی رہی ہیں ، ان سے کیسے نجات ملی۔ خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا،  عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔

ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کے لئے تمام تدبیریں آزما لیں ، اس نے غلے کے گودام کھول دیے،  ٹیکس معاف کر دیے ، پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دیے اور تمام امراء اور تاجروں کو متاثرین کی مدد کے لئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید پریشانی میں تھا ، اسے نیند نہیں آ رہی تھی، ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰٰ بن خالد کو طلب کیا ، یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کا استاد بھی تھا۔

اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استاد محترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی، کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے۔  یحییٰ بن خالد مسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی ، یہ داستان مقدر،  قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں۔  بادشاہ نے بے چینی سے کہا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔میری جان حلق میں اٹک رہی ہے۔

یحییٰ خالد نے بتایا ”کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کے لئے روانہ ہونے لگی ، اس کا ایک بچہ تھا،  وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا،  جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں ، میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں، میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں ۔ شیر نے ہامی بھر لی ۔ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا۔ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا ، بندریا سفر پر روانہ ہو گئی۔ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔

ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی ، شیر کے قریب پہنچی،  بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی ، شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا۔ یحییٰ خالد رکا۔  اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا، ’تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے۔ بندریا کو غصہ آ گیا اور اس نے چلا کر کہا“ تم کیسے بادشاہ ہو ، تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے۔  تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاؤ گے ”

شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا: میں زمین کا بادشاہ ہوں ، اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے۔

یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے ، یہ آسمان کا عذاب ہے،  اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کے لئے بادشاہ نہ بنیں فقیر بنیں،  یہ آفت رک جائے گی“ ۔

دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کے لئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاؤ کے لئے انسانوں کامتحد ہونا،  وسائل کا بھرپور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔

یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا ، آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے ۔ چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے،  اس سے توبہ کیجیے ، اس سے مدد مانگیے“ ۔

دنیا کے تمام مسائل کا حل ہمارے پاس  موجود ہے لیکن ہماری روایتی بے حسی ، ایس او پیز سے لے کر کورونا وبا سے نجات کی اصل غذا تک میں کہیں ہمیں کسی بڑے امتحان میں نہ ڈال دے۔ کوشش،  حیلہ اور دنیاوی اقدامات نہایت ضروری بلکہ ناگزیر ہیں کیونکہ اسلام میں عمل پر جتنا زور دیا گیا ہے اتنا شاید دوسرے مذاہب میں نہیں۔ آج بھی کورونا سے نجات چاہیے تو لڑنا نہیں فقیر بننا ہو گا۔ یہ کورونا کا انسانوں کے نام کھلا خط ہے  ۔ جو پڑھ کر عمل کا متقاضی ہے اس سے پہلے کہ کہیں دیر ہو جائے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *