این اے 249 میں ضمنی انتخاب: ’ہم جیت گئے ہیں‘ سے ’الیکشن چوری‘ ہونے کے سیاسی دعوؤں تک، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


خاتون، الیکشن

Getty Images

’لگتا ہے (حکمراں جماعت) پی ٹی آئی کے علاوہ سب یہ الیکشن جیت گئے ہیں۔‘ پاکستان میں سوشل میڈیا پر متعدد صارف یہ بات کہتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ویسے تو کسی بھی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد کسی ایک امیدوار یا سیاسی جماعت کو ہی فتح کا جشن منانا چاہیے مگر صورتحال اس وقت دلچسپ ہونے لگتی ہے جب ایک سے زیادہ امیدواروں کو ایسا لگے کہ وہ جیت رہے ہیں یا جیت چکے ہیں۔

جمعرات کو کراچی میں این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بھی ایسا ہی ہوا جب اس میں حصہ لینے والے چار بڑے امیدواروں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج میں تاخیر ہونے کے اپنی اپنی فتح کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔

تاہم بالآخر صوبہ سندھ میں کراچی ویسٹ ٹو کے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے 16156 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا جبکہ مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل 15473 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈسکہ: غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی نوشین افتخار کامیاب

لودھراں کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کی غیر متوقع کامیابی

عمران خان: الیکشن کمیشن نے جمہوریت اور اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نذیر احمد 11125 ووٹ لے کر تیسرے اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال 9227 ووٹ لے کر چوتھے جبکہ وفاق کی حکمراں جماعت تحریک انصاف کے امجد آفریدی 8922 ووٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔

یہ سیٹ سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کے مستعفیٰ ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ تحریک انصاف نے این اے 249 کے نتائج مسترد کر دیے ہیں جبکہ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ‘الیکشن کمیشن اور پولیس کے ذریعے دھاندلی کی گئی۔’

’ہم جیت گئے ہیں‘ سے ’الیکشن چوری‘ ہونے کا دعوؤں تک

29 اپریل کو این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا لیکن ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 21.64 فیصد رہا۔

اگرچہ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج مسلم لیگ کی فیور میں نہیں رہے تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے تو مفتاح اسماعیل کو جیتنے کی باقاعدہ مبارکبار بھی پیش کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی اور خصوصاً این اے 249 کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا اور مفتاح اسماعیل کو منتخب کیا۔‘

273 پولنگ سٹیشنز کے نتائج آنے میں تاخیر پر کئی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے مریم نواز نے لکھا کہ ’مسلم لیگ ن سے الیکشن چرایا گیا۔۔۔ یہ جیت مستقل طور پر واپس مسلم لیگ ن کے پاس آ جائے گی۔‘

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’یہ ہم سب کے لیے ایک بہت اہم فتح ہے۔ عوام کے جاگنے کا بھی شکریہ۔۔۔ آپ کے ووٹ چوری کرنے والے جلد آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔‘

بعد ازاں مسلم لیگ نے یہ نتائج چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اسی طرح پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن سے کہتا ہوں کہ اس بدمعاشی کو ختم کیا جائے۔‘

’ہم 4282 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں۔ ہم اس وقت نمبر ون پارٹی ہیں۔ یہ سارے ڈرامے میں دیکھ رہا ہوں۔‘

مگر اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اپنی پارٹی کی جیت پر کراچی کا شکریہ ادا کر چکے ہیں۔

دریں اثنا ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ دیکھا گیا ہے جس میں این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں کالعدم ٹی ایل پی کی جیت کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔

صحافی امداد علی سومرو نے اس ضمنی انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا کہ ’کون جیت رہا ہے کون ہار رہا ہے مگر مریم نواز صاحبہ سے مصطفی کمال تک سب الیکشن جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں۔۔۔ این اے 249 کے عوام نے ووٹ دیا ہے کہ سوتر بنا اتنا گنجل۔‘

جبکہ اس تمام احوال پر صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں کہا ’الیکشن کمیشن نے تو کمال کر دیا۔ 29 اپریل شام پانچ بجے این اے 249 میں پولنگ بند ہوئی۔۔۔ 11 گھنٹے گزرنے پر بھی پورا رزلٹ نہیں آیا۔ تاخیر کی وجہ پوری دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ این اے 249 میں سب ہار گئے اور دھاندلی بیگم سحری کے بعد جیت گئی۔‘

نوشین یوسف کا کہنا تھا کہ ’این اے 249 ضمنی انتخاب متنازع ہو چکا ہے، اعلان ختم۔‘

’حکمراں جماعت کے مقابلے کالعدم جماعت کو زیادہ ووٹ ملے‘

نوشہرہ، ڈسکہ اور گوجرانوالہ کے بعد اب ایک مزید ضمنی انتخاب میں شکست پر اسے تحریک انصاف کی بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ این اے 249 کی سیٹ پر پہلے فیصل واوڈا جیتے تھے۔

صحافی غریدہ فاروقی اپنے ٹویٹ میں لکھتی ہیں کہ ’سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے سیٹ چھین لی تو باپ کے بعد اب پاپ لگے گا۔‘

صحافی خاور گھمن کا کہنا تھا کہ ’آج کے الیکشن نتیجے سے پی ٹی آئی کو کچھ سیکھنا چاہیے۔ پارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود اپنا امیدوار ہار جائے تو قصور حکمران کا ہوتا ہے۔

شاہد حیات کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں ’پی ٹی آئی کے علاوہ سب جیت گئے۔‘

بعض حلقوں میں اس بات پر بھی حیرت پائی جاتی ہے کہ ایک حکمراں جماعت کی نسبت ایک کالعدم جماعت کو زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

یوسف نامی صارف نے لکھا کہ ’ایسا صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ کالعدم جماعت (ٹی ایل پی) کو حکمراں جماعت (پی ٹی آئی) سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے میں پی ٹی آئی کتنا نیچے آ گئی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp