اسلامی بنیاد پرستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانے کی تبدیلیوں نے بلاشبہ دیگر مذاہب کو بھی متاثر کیا ہے ، اسی طرح اسلام بھی متاثر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان اسلامی شرعی قوانین کو موجودہ دور میں وہ اہمیت نہیں دیتا جیسی کہ اسے دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے آپ کو نام نہاد جدید اور معتدل مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بعض اوقات کئی چیزوں کے بارے میں ایسی من گھڑت دلیلیں دیتا ہے کہ اپنے اصل مقصد سے ہی بھٹک جاتا ہے۔

اس میں دوسرا گروہ بھی کسی طور کم نہیں، جو اسلامی قوانین اور شریعت کو اس طرح سے نافذ کرنے کے حق میں ہے کہ سارا معاشرہ ایک طرح سے مغلوب ہوتا ہوا نظر آئے۔ مذہبی بنیاد پرستی میں وہ اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ شخصی آزادی کا دور دور تک نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ اسی سوچ اور تصور کو ہم مذہبی انتہا پسندی کا نام دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہر جگہ ایسے گروہ ملتے ہیں جو شرعی قوانین کو اس طرح سے نافذ کرنے کے حق میں ہیں کہ اگر ان پر عمل درآمد کیا جائے تو سارا معاشرتی نظام تباہ ہو جائے گا لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ نام نہاد شحصی آزادی اور جدیدیت کی رو میں بہہ کر اسلامی قوانین کا چہرہ اس قدر مسخ کر دیا جائے کہ ان سے اسلام کی بنیادی روح ہی غائب ہو جائے۔

لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انتہا پسندی ایک اور چیز ہے جبکہ جدیدیت دوسری چیز ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کے تحت جدیدیت کو ترک کرنا عقل مندی ہے اور نہ ہی نام نہاد جدیدیت کی رو میں بہہ کر سیکولر سوچ کی عکاسی کرنا دانش مندی ہے۔ اعتدال کا راستہ ہی درست راستہ ہے۔ پھر اسلام ایک مذہب نہیں بلکہ دین ہے، جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ جس میں مکمل انسانی زندگی اور ہر زمانے سے مطابقت اختیار کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق مناسب طریقے سے ڈھالا جائے۔

اگرچہ اسلام بذات خود تو بنیاد پرستی والا مذہب نہیں، مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے ماننے والے ہر جگہ اور ملک میں پائے جاتے ہیں ، ان کا جھکاؤ بنیاد پرستی کی طرف ہے۔ ایسی ہی بنیاد پرستی مذہبی انتہا پرستی کی طرف لے جاتی ہے جو مذہب کے اندر فرقہ واریت اور دھڑے بندی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

مختلف ممالک کے اندر فرقہ واریت اور دھڑے بندی اس کی واضح مثال ہے جو کہ مذہبی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ اس سے نہ صرف ان ممالک کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اسلام کا حقیقی تشخص بھی مجروح ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک ابو ہالہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *