ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری بحیثیت اقبالؔ شناس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب کے ہر رفیع الشان نقاد کے ہاں میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ جیسے عظیم المرتبت شعراء کا کلام اور افکار ہمیشہ پسندیدہ مطالعہ رہا ہے۔ ناقدین اور دانشوروں نے نہ صرف ان عظیم شعراء کی فکر اور شاعری پر ارتکاز کر کے بڑی محنت، لگن اور ژرف نگاہی سے نئے نئے گوشے اجاگر کیے بلکہ خود بھی دنیائے ادب میں اپنی الگ اور منفرد پہچان بنائی۔ ان ناقدین نے اپنی فہم و فراست کے مطابق بڑی محنت و مشقت سے ان شعراء کی شاعرانہ خوبیوں، شخصیت و عہد اور ان شعری عوامل کو موضوع بنایا جن سے ان شعراء کا فکری اور عملی واسطہ رہا ہے۔

کم و بیش ہر ناقد نے اردو کے ان تین مایہ ناز شعراء پر اپنے خیالات قلم بند کیے ، لیکن ان میں ایسے قلیل تعداد میں ہیں جن کی پہچان ہی ماہر میریات، ماہر غالبیات اور ماہر اقبالیات کے طور پر بن سکی۔ ایسے ناقدین کی فکر، سوچ اور پرکھنے کا انداز دوسروں سے مختلف اور منفرد ہوتا ہے ، جب ہی یہ الگ راہیں نکالتے ہیں اور اپنا نقطۂ نگاہ بیان کرنے کے بعد اس راہ کے مسافر بنتے ہیں جس پر بہت کم ہی لوگ چلے ہوں۔ مرزا غالبؔ ہو یا علامہ اقبالؔ ان کی فکر، فلسفے اور شاعری کے خصائص کو کھنگال کر اپنے انداز میں اس کی شرح کرنا جو قابل قبول ہو، واضح اور دوسروں کی آراء سے میل نہ کھاتی ہو یقیناً قابل ستائش ہے۔

اس کے لیے ان کی شاعری کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی استعداد اور قابلیت ہونی چاہیے اور وہ ناقدانہ نظر اور پیرایۂ اظہار بھی چاہیے جو ان کے فکر و فن کی صحیح ترجمانی کر سکے۔ بہت سے ناقدین نے ان شعراء کی فکر کو نئے زاویے سے دیکھا اور پرکھا، ان کے فکر و فن کے مختلف گوشوں کو موضوع بنایا اور ان کے فکر و فن پر مختلف کتابیں لکھیں۔ ایسے ناقدین اور شعراء ادبی تاریخ میں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔

ماہرین اقبالیات کی فہرست بہت طویل ہے۔ ماہر اقبال کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ اقبالؔ کی شخصیت سے دلی وابستگی اور والہانہ عشق ہو اور اقبالؔ کے فکر و فن کو سمجھنے کی قابلیت اور صلاحیت ہونی چاہیے ، جب ہی یہ ممکن ہو گا کہ کسی شخصیت کو یہ درجہ دیا جائے کہ وہ ماہر اقبالیات کے منصب پر فائز ہو گیا ہے۔

کشمیر میں بہت سارے ناقدین نے ماہر اقبالیات کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان بنائی ہیں۔ جن میں پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر اکبر حیدری، پروفیسر مرغوب بانہالی، پروفیسر غلام رسول ملک، ڈاکٹر غلام قادر لون اور پروفیسر بشیر احمد نحوی وغیرہ جیسے اقبالؔ شناس شامل ہیں، وہیں عصر حاضر کے ایک ہونہار دانشور، نکتہ رس ناقد اور عمدہ افسانہ نگار ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری جموں و کشمیر کے علاوہ اردو دنیا کی ادبی فضاء میں اپنی ایک مخصوص پہچان بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

اقبالیات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے علاوہ علامہ اقبال کی کثیر الجہت شخصیت اور ان کی علمی و ادبی، سماجی و سیاسی اور فلسفیانہ حیثیات کا بنظر غائر مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تنقیدی بصیرت کو بروئے کار لا کر علامہ اقبالؔ کے فکر و فن کا جائزہ لیا ہے۔ وہ اقبالؔ کے شیدائی نظر آتے ہیں۔ توحیدی صاحب اقبال کی توحید پرستی سے بھی متاثر ہیں اور پیغام خودی کے مبلغ بھی۔ انہوں نے اپنی کتابوں اور مضامین میں کلام اقبال ؔکے مختلف گوشوں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ بقول پروفیسر حامدی کاشمیری:

”ڈاکٹر ریاض توحیدی اقبالیات کے ایک نو عمر اور تازہ کار محقق ہیں ، وہ اقبال شناسی کی تفہیم و تحسین کے پیچیدہ اور طویل راستے پر گامزن ہیں۔“

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

علامہ اقبالؔ پر سیکڑوں کتابیں اور مضامین شائع ہوئے ہیں، پھر بھی آئے روز نئے نئے گوشے سامنے آ رہے ہیں۔ ان مختلف گوشوں کو نہایت جامع، واضح اور عالمانہ انداز میں ناقدین ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ اقبالؔ کے افکار میں اتنی وسعت اور گہرائی ہے کہ غور و فکر کرنے والے نئی نئی جہات سے آشنا ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی نے بھی اقبال کے فکری سمندر میں غوطہ زن ہو کر فکر و حکمت کے موتی نکال لائے ہیں۔ انہوں نے اقبالؔ کے فکر و فن کے ساتھ ساتھ اقبالؔ شناسوں کی کاوشوں کو بھی تنقید کے معیار پر پرکھنے کی سعی کی ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کی ناقدانہ بصیرت اور اقبالیاتی کام سے متعلق اردو ادب کے معتبر نقاد پروفیسرحامدی کاشمیری رقمطراز ہیں:۔

”ریاض توحیدی نئی نسل کے ایک ہونہار، محنتی اور نکتہ رس ناقد کی حیثیت سے ریاست کی ادبی فضاء میں اپنی اہمیت منوا رہے ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی نے علامہ اقبالؔ پر اپنے تحقیقی و تنقیدی کام کو اس حد تک بڑھایا کہ علامہ کی شخصیت کی مختلف جہات کی تشریح کی ہے، اس طرح سے وہ عمومی خیالات کا اظہار کرتے ہیں ، تاہم وہ اپنے ذہن و فکر کو بھی کام میں لاتے ہیں۔ انہوں نے اقبال کے مداحوں، معاصرین، ممدوحین اور ناقدین کے خیالات کو بھی زیر بحث لایا ہے۔ ”

اقبال شناسی کے تعلق سے ڈاکٹر ریاض توحیدی کی تحریرات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کلام اقبالؔ کو جدید تنقیدی تھیوریز پر نہ صرف پرکھتے ہیں بلکہ اس کی عصری معنویت کا دانشورانہ اظہار بھی کرتے ہیں جیسے مقالہ ”پیام اقبالؔ کی عصری معنویت“ کا یہ اقتباس دیکھیں :

” مابعد جدید دور کی ثقافتی صورت حال (Post Modern Cultural Condítion) اور مابعد جدید تنقید (Post Modern Criticism) کے تناظر میں جب کلام اقبالؔ کی متنی ساخت (Textual Structure) کو رد تشکیل تھیوری Deconstruction Theory) ) کے پیش نظر زیر بحث لایا جائے تو تخلیقی سطح پر بیشتر کلام نہ صرف مابعد جدید دور کے سیاسی، سماجی، تہذیبی اور معاشی مسائل کا ڈسکورس سامنے لاتا ہے بلکہ موضوعاتی و معنیاتی طور پر عصر حاضر کے ہلاکت خیز اندیشوں کی کرب ریز صورت حال کی مفکرانہ پیش گوئی (Prediction) بھی کر رہا ہے۔

کلام اقبالؔ کا یہی تخلیقی و موضوعاتی اظہار نہ صرف دورجدید کے انسان کو عذاب دانش حاضر کی جمہوری جبریت (Democratic Determinism) سے آگاہ بلکہ اس کے داخلی جذبات و احساسات کی ترجمانی بھی کر رہا ہے اور شعری تنقید (Poetic Criticism) کا یہی اختصاص کلام اقبالؔ کی عصری معنویت یا معاصر چیلنجز کا جواز بھی فراہم کر رہا ہے۔“ (رسالہ ”ندائے گل“ پاکستان)

ڈاکٹر ریاض توحیدی دو دہائیوں سے اردو ادب کی آبیاری کر رہے ہیں۔ اقبالیات کے حوالے سے ان کی ایک اہم تصنیف ”جہان اقبالؔ“ ہے۔ اس تصنیف میں اقبالؔ کے افکار و نظریات اور اقبال کے خطبات سے لے کر پیام اقبال، خودی سے لے کر شاعر قرآن اور اقبال کے پیغام سے لے کر اقبال شناسوں کے خیالات تک کو سینۂ قرطاس پر اتارا ہے۔ جن اقبال شناسوں پر انہوں نے اپنی تنقیدی آراء کو قلمبند کیا ہے ، ان میں پروفیسر حامدی کاشمیری، ڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم اور محمد بدیع الزمان شامل ہیں۔ کشمیر کے معتبر ماہر اقبالیات پروفیسر بشیر احمد نحوی اس کتاب کی مشمولات پر رائے دیتے ہوئے تقریظ میں لکھتے ہیں:

”شاعر مشرق کی فکر سے متعلق ان متفرق مضامین میں“ اقبال کے خطبات ”سے لے کر ان کے“نالۂ مرگ سحر” تک متفرق افکار و نظریات اور اقبال پر وقیع کام سر انجام دینے والی شخصیات کا احاطہ بڑی غیر جانبداری سے کیا گیا ہے“ ۔

ڈاکٹرریاض توحیدی کی مطالعہ اقبال کے حوالے سے دوسری تصنیف ”ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبالؔ شناس“ ہے۔ کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں خلیفہ عبدالحکیم کی اقبالؔ شناسی کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ پیش ہوا اور اقبالؔ شناسی میں خلیفہ عبدالحکیم کے مقام و مرتبہ کا تعین کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ تاہم پیش نظر مضمون کتاب جہان اقبالؔ اور چند دوسرے مضامین تک ہی محدود ہے۔ ”جہان اقبالؔ“ فکری ، تنقیدی اور تحقیقی خوبیوں کی حامل ایک اہم کتاب ہے۔ کتاب کے متفرق مضامین وقتاً فوقتاً مختلف رسائل و جرائد کی زینت بھی بن چکے ہیں۔ اس کتاب میں ڈاکٹر توحیدی نے اقبال کے فکر وفن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا ہے۔

جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ اس کتاب میں اقبال کی شاعری، نثر (خطبات) اور اقبال شناسوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اقبالؔ کے شعری کمالات کا ہر ناقد معترف ہے۔ ان کے خطبات کی اہمیت اور قدر و منزلت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ اقبال کے خطبات میں اس کا علم، فکر اور فلسفہ سمٹ کر آیا ہے۔ اقبال نے ان خطبات میں اسلام اور مذہبی مشاہدات، فلسفیانہ خیالات، حقیقت دعا، خودی، ذات الٰہی کا تصور، حیات بعد الموت جیسے موضوعات پر اجتہادی نگاہ ڈالی ہے۔

ڈاکٹر ریاض توحیدی نے بھی خطبات اقبال کو موضوع بنایا ہے اور اپنی تنقیدی بصیرت اور اپج سے ان خطبات کی اہمیت و افادیت، پیغام اور قدر و منزلت پر روشنی ڈالی ہے۔ علامہ اقبالؔ اپنے خطبات میں کیا پیغام دیتے ہیں اور ان کا نقطۂ نظر کیا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر ریاض توحیدی اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

”علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں ایک حقیقی دیدہ ور کی حیثیت سے اسلام کی آفاقی تعلیم کو جدید فلسفہ اور سائنسی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد فلسفہ اور سائنسی اصولوں کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں مجتہدانہ کارنامہ انجام دیا۔“

(جہان اقبال:ؔ ص 68 )

شاعری کا ایک مقصد یہ بھی رہا ہے کہ یہ قوم کو بیدار کرنے، تحریک دینے اور ان میں حوصلہ اور ہمت بڑھانے کے لیے مؤثر اور کارگر رہی ہے۔ یونانی شعراء ہوں یا عرب کے شعراء، انہوں نے اپنی قوم کو شاعری کے ذریعے ہی بیدار اور خبردار کیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ کی شاعری بھی اسی ذیل میں آتی ہے۔ ان کی شاعری سوتوں کو جگانے، متحرک رکھنے، ولولہ پیدا کرنے، جوش کو برقرار رکھنے اور مسلسل کوشش کا پیغام دیتی ہے۔ ان کی شاعری غیور، باہمت، غیرت مند اور سرگرم رہنے کا سبق دیتی ہے۔ ڈاکٹر توحیدی نے اقبال کے ’پیام تحرک‘ کو موضوع بنا کر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ:

”علامہ اقبالؔ کی جولان فکر انسانی ذہن کو بالیدگی اور پختگی بخشنے کے ساتھ ساتھ اس میں عقابی شان پیدا کرنے کا وسیلہ مہمیز ہے۔ علامہ اقبالؔ کے انقلاب آفرین اشعار جذباتی سطح پر انسان کو مہم جوئی کے لیے اکساتے ہیں، لیکن یہ سطحی اور خام جذباتیت نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس میں جذباتی پختگی (emotional maturity) کا غلبہ ہوتا ہے۔ خوابیدہ ذہنوں کو تجسس اور انقلاب آفرین بلند فضاؤں کی سیر کرانے کے لیے ایک تحریک کی صورت میں پیدا کرنے کی مستحکم اور توانا سعی ہے۔“

(جہان اقبال۔ ص۔ 118 )

علامہ اقبالؔ نے اپنی شاعری کے ذریعے پس ماندہ اور مصیبتوں میں گری قوم کو بیدار اور ہوشیار کرنے کی سعی کی ہے۔ حالت معذوری اور تنزل کی طرف جانے والے قوم میں خودی اور خود داری کا احساس جگایا ہے۔ احساس کمتری میں مبتلا جمود زدہ قوم کو خودی کی تعلیم دی تاکہ ان کا جذبہ، ہمت و جرأت بیدار ہو جائے۔ علامہ نے روایتی گل و بلبل کے قصے کو خیر آباد کہا اور شاہیں کی بلند پروازی، تگ و دو اور خوب سے خوب تر کی جستجو کو اپنی شاعری کے ذریعے سے ابھارا ہے۔

اقبال کے فلسفہ خودی پر اقبال شناسوں نے سیر حاصل بحث کی ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی نے بھی ”علامہ اقبالؔ خودی کا راز داں“ میں علامہ کے فلسفہ خودی کو موضوع بنایا اور علامہ کے تصور خودی پر مفکرانہ گفتگو کرتے ہوئے خودی کی اہمیت پر یوں اظہار خیال کیا ہے :

”علامہ اقبال ؔکے فلسفۂ حیات کے ارتقائی عمل میں فلسفۂ خودی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ علامہ کے پیش کردہ تقریباً تمام تصورات فلسفۂ خودی کے محور کے گرد گشت کرتے نظر آتے ہیں۔“

(جہان اقبالؔ:ص۔ 180 )

بے عملی بے سکونی کو دعوت دیتی ہے۔ جو قوم آرام طلبی کو مقصد حیات سمجھے وہ بلند ارادے، برتر مقاصد اور تلاطم جذبات سے محروم ہو جاتی ہے۔ پست ہمت اور آرام طلب قوم کی ناتواں رگوں میں برقی لہر دوڑانا اقبال کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ فلسفہ بے عملی کے خلاف اقبال کے کلام میں جنگ کا اعلان ملتا ہے۔ دنیا کی ہر محرومی اور ناکامی کا علاج صرف اور صرف جستجو میں ہے۔ شکست سے بچاؤ اور احساس کمتری سے نجات کا واحد ذریعہ حرکت، غیرت مندی اور جذبہ استحکام ہیں۔

دوسروں سے سہارے تلاش کرنے کے بجائے انسان خود ہمتی اور شجاعت کا مظاہرہ کرے تو کامیابیاں اور کامرانیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی کامیابی و کامرانی کا انحصار جد و جہد اور متحرک رہنے میں ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی اس راز سے واقف نظر آتے ہیں کہ اقبال کا اصل پیغام ”جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا“ ہے اور اس عمل سے ہی لہو گرم رہتا ہے، حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر توحیدی انقلابی فکر کے ساتھ مضمون ”پیام اقبال۔ نالۂ مرغ سحر“ میں کلام اقبال کی انقلابی شان کے تعلق سے لکھتے ہیں :

” علامہ اقبال کا ولولہ انگیز اور امید افزاء انقلابی پیغام امت مسلمہ کو فکری سطح پر بیدار اور عملی سطح پر جاندار بنانا چاہتا ہے۔“

(جہان اقبال: ص 203 )

اقبال کے آفاقی پیغام کو ڈاکٹر ریاض توحیدی قوم کی ابتر حالت کو بدلنے کا ایک مؤثر وسیلہ تصور کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ”اقبالؔ کا پیغام انسان کے اندر غیر محدود انقلابی شان پیدا کرتا ہے اور انسان کو جدوجہد کی تحریک دینے اور اس کے تعمیری جذبات و خیالات کو ابھانے کے لئے برقی رو کی مانند کام کرتا ہے۔“

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری کی اقبالؔ شناسی کی مختلف جہات کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر ریاض توحیدی نے کشمیر میں اقبالیاتی ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اقبالیاتی خدمات اور دیگر ادبی کام کے پیش نظر انہیں ریاست سے باہر کے سمیناروں میں بھی مدعو کیا جاتا ہے اور آن لائن ویبنارز اور مذاکروں میں خصوصی طور پر بلایا جاتا ہے۔

کشمیر میں اقبال شناسوں کا جب بھی ذکر آئے گا ڈاکٹر ریاض توحیدی کا نام ضرور لیا جائے گا کیونکہ وہ نہ صرف کلام اقبالؔ کی معنویت کو دانشورانہ انداز سے اجاگر کرتے ہیں بلکہ ناقدانہ بصیرت سے افکار اقبال کی معنی خیز توضیح بھی کرتے ہیں۔

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *