اکیلا عمران خان بھلا کر بھی کیا سکتا ہے؟
یوں تو پاکستان میں آج تک استحکام کی بہت کوششیں ہوتی رہیں اور جاری رہیں گی مگر کیا یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی یا نہیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
پاکستان قیام کے وقت ہی وڈیروں اور جاگیرداروں کے چنگل سے آزاد ہو جاتا تو شاید حالات کچھ مختلف ہوتے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ملک کئی دفعہ مارشل لاء کا سامنا کر چکا ، اب بھی حالات اسی طرف جا رہے ہیں مگر موجودہ چیف آف آرمی سٹاف بہت سمجھ دار اور زیرک آدمی ہیں ، وہ اس سیاسی گند سے اپنے آپ کو دور ہی رکھنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت ایک ایجنڈا لے کر آئی تھی اور وہ تھا نعرہ احتساب کا جو آج تک ممکن نہیں ہو سکا اور سابقہ حکومتیں کرپشن پر مفاہمت کر کے چلتی رہیں۔ اب پہلی بار ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ حکومت جو عددی اکثریت کے لحاظ بہت کمزور ہے اور اس کے پاس سادہ اکثریت بھی مانگے تانگے کی ہے اور معاملات حکومت بھی کسی بہتر طریقے سے نہیں چل رہے ، اس کی وجہ صاف ظاہر ہے عمران خان جو کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے ان کے پاس قانون سازی کے لئے ووٹ کم ہیں اور جن کے خلاف کارروائی کا وہ ارادہ رکھتے ہیں ، وہ ان کے ساتھ حکومت میں بھی شامل ہیں۔
وہ ضرور چاہتے ہیں کہ ملک کا لوٹا ہوا مال واپس لایا جائے مگر سسٹم ان کو سپورٹ نہیں کرتا ، ابھی چند روز پہلے کی بات ہے براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ سامنے آئی جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے نہایت دیانت داری سے اعداد شمار مرتب کیے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ مافیاز ہمارے ملک کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور وہ اس قدر مضبوط ہیں کہ کوئی ریکارڈ ان کی دسترس سے باہر نہیں۔
نون لیگ ہو یا دوسری جماعتیں ان کے متعلق جتنے اہم کیس تھے ، ان کے ریکارڈ نہ صرف پاکستان سے بلکہ بیرون ملک موجود شواہد بھی غائب کر دیے گئے ، اب تحقیقات کیا خاک ہوں گی؟ آج کل چینی مافیا کا بڑا شور ہے اور اس میں ملوث لوگ حکمران پارٹی سے بھی تعلق رکھتے ہیں ، اب اکیلا عمران خان کیا کرے گا جبکہ موجودہ بیوروکریسی اور نظام اسے بالکل سپورٹ نہیں کر رہا؟
شوگر سکینڈل میں صرف جہانگیر ترین ہی ملوث نہیں ، دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے لئے بہت کام کیا اور عمران خان کے وزیراعظم کی اس کرسی پر بیٹھنے میں جہانگیر ترین کا کلیدی کردار ہے۔ ایک دو پیشی کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ تیس کے قریب قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو ساتھ ملا کر ہم خیال گروپ کی بنیاد تقریباً رکھ دی ہے۔ اب عمران خان کیا کرتے ہیں معلوم نہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی پہلے ہی بہت تماشا کر چکیں اور اب لگتا ہے یہ موقع حکومت انہیں خود فراہم کر رہی ہے۔
اب ایک راستہ یہ ہے کہ احتساب سے فی الحال پیچھے ہٹا جائے اور مؤثر قانون سازی کر لی جائے اور اس زور کو حکمت کے ساتھ توڑا جائے اور بعد میں موافق حالات میں میں احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ لیا جائے ، جب ملنا کچھ نہیں۔ اور اس وقت ثبوت مٹا دیے گئے ہوں گے تو سوائے رسوائی کے کچھ بھی ہاتھ آنے والا نہیں۔
ہمیں آنے والے دن کوئی اچھی نوید دیتے نظر نہیں آ رہے ، دیکھیں اب حکومت تصادم کے راستے پر چلتی ہے یا مفاہمت کے۔

