اٹھاسی سالہ شفیق بوڑھا جس کا مقالہ چوری ہو گیا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک 88 سالہ شفیق بڈھے کی کہانی ہے جس کو جاننے کا موقع مجھے ان کی زندگی کے آخری سال میں ملا۔ سیلز کال پہ کاروباری تعارف کے بعد میں نے ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے معذرت کی کہ وہ اپنے پرانے مینیجر کے ساتھ بہت خوش ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ مجھے ان کی کوئی بھی بات بری نہیں لگی۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ لمبے عرصے پہ محیط تعلق کی بنیاد پر اگر وہ اپنے پرانے مینیجر کے ساتھ مطمئن محسوس کر رہے ہیں تو مجھے بالکل برا نہیں لگا۔

اگلے روز وہ میرے دفتر آئے اور بتانے لگے کہ اب وہ اپنی تمام دفتری خدمات کے لیے مجھے ہی زحمت دیں گے۔ مجھے ان کے مہربان اور شفیق ہونے پہ کوئی شبہ نہ رہا۔ خاندان کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا وہ اپنے ایک ذاتی مددگار کے ساتھ اکیلے رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا تو کیا آپ نے شادی نہیں کی؟ تو بتانے لگے بہت پہلے وہ امریکہ میں رہے اور وہیں اپنی پسند سے شادی کی۔ وہ وہاں ایک یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر تھے۔ اس خاتون سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ خاتون کی علیحدگی کی فرمائش پر، وہ پھر امریکہ نہیں رہ سکے اور پاکستان واپس آ گئے اور یہاں یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔ اب وہ اپنے گھر ہی میں پڑھنے لکھنے میں مشغول رہتے ہیں یا پھر اپنے بھائی کی طرف کبھی کبھی رہنے چلے جاتے ہیں۔

اکثر وہ میرے دفتر آتے تو ان کے بال لمبے ہونے کی وجہ سے ان کی آنکھوں پہ پڑے رہتے اور ان کے کان پہ بھی بال دیکھتی تو دل چاہتا کہ ان کی آنکھوں سے بال پرے کر دوں اور ان کے بال تراش دوں تاکہ ان کو تنگی نہ ہو۔ انہیں اس عمر میں سہولیات سے بھرپور اور اپنے شوق کے عین مطابق زندگی گزارتے دیکھنے کے باوجود میں ان کی تنہائی کو محسوس کر سکتی تھی کیونکہ وہ اکثر ذکر کرتے کہ میرا بیٹا مجھ سے ملنے پاکستان آ رہا ہے مگر ہر بار ان سے اگلی ملاقات میں، تاریخ کے بدلاؤ کے ساتھ، وہی ممکنہ ملاقات کا ذکر ہوتا۔ مگر ان کی آنکھوں میں اس ذکر کے ساتھ کبھی چمک کم نہ ہوئی۔

بیٹے کے پاکستان آنے پر انہوں نے مجھے بھی اس سے ملوایا۔ وہ عمر کے حساب سے اور جغرافیائی پرورش کے حساب سے ہر معاملے میں عجلت میں تھا اور بہت جلد واپس چلا گیا۔

ارشاد صاحب سے اگلی ملاقات پہ وہ کافی اداس اور معمول سے زیادہ خاموش دکھائی دیتے تھے۔ میں نے پوچھا بیٹے کو یاد کر رہے ہیں تو بولے میں نے تو کہا تھا کچھ دن اور رک جاؤ مگر اس کی یونیورسٹی دوبارہ شروع ہو چکی ہے کیونکہ وہاں پڑھاتا ہے۔ پھر بولے میرا ریسرچ آرٹیکل میرے بیٹے نے اٹھا لیا ہے کیونکہ جس کمرے میں لکھنے پڑھنے کا سارا سامان ہے یہ مسودہ بھی وہیں پڑا تھا اور بیٹے کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میں نے بہت تلاش کیا نہیں ملا۔ وہ اس آرٹیکل کو امریکہ میں اپنے نام سے پڑھائے گا۔

میں خاموش رہی، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں بیٹے کی طرف داری کروں یا تأسف کا اظہار کروں۔ شاید میرے ساتھ بانٹنے سے ان کی کچھ پریشانی کم ہو گئی ہو۔

رات بھر میں سوچتی رہی کہ تخلیق بھی کمال شے ہے ، ایک عام انسان کو بھی خدا ہونے کا احساس دلاتی ہے اور جب اس خدائی کا سہرا کوئی اور لینے کی کوشش کرے یا ہم یہ خیال کریں کہ کوئی اور اس کا سہرا لینا چاہ رہا ہے تو ہم غیظ و غضب کی سی اضطراری کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں اور اگر یہ خیال ایک باپ کے ذہن میں اپنے بیٹے کے لیے ہو تو شاید ایسے خیال کو بانٹا بھی نہیں جا سکتا مگر ان کی تکلیف کے جذبات بانٹنے سے شاید انہوں نے کچھ بہتر محسوس کیا ہو گا۔

اگلی بار کال پہ بات ہونے پہ انہوں نے بلاوجہ مجھے ڈانٹا اور دفتری کام کے حوالے سے مجھ پہ شک کیا۔ مجھے عجیب لگا مگر میں خاموشی سے سنتی رہی اور یہ کہہ کر بند کیا آپ دفتر آئیں گے تو بات کریں گے۔

اچانک میری ٹرانسفر ہو گئی اور میرا دفتر بدل گیا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مجھے سوری کا پیغام بھیجا اور نئے دفتر کے بارے میں پوچھا تاکہ وہ ملنے آ سکیں۔ وعدے کے مطابق وہ اگلے روز آئے اور ساتھ میں میٹھا بھی لائے تاکہ میں اپنی ناراضگی ختم کر سکوں۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں بالکل ناراض نہیں ہوں جس سے وہ کافی مطمئن دکھائی دیے اور میٹھا تحفے میں پا کر میں بہت اچھا محسوس کر رہی تھی۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ میری ان سے آخری ملاقات ہو گی کیونکہ کچھ روز بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ ان کے مرنے کی خبر سن کر میرا دل بہت افسردہ ہوا۔

اس رات میں یہ سوچتی رہی کیا انہوں نے تخلیق کا سہرا لینے کی کوشش والے مفروضے کا کنفیشن اپنے بیٹے کے سامنے کیا ہو گا یا پھر اس یقین، بے یقینی کی کیفیت کے ساتھ، بیٹے کے بغیر اکیلے گھر میں، موت کا سامنا کیا ہو گا۔

اٹھاسی سالہ شفیق بڈھے کی اس یقین، بے یقینی کا راز میرے اندر ان کی محبت کی شمع جلائے رکھے گا۔
خدا ان کے درجات بلند فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *