یہ بدحواسیاں اور بوکھلاہٹیں حکومت کو زیب نہیں دیتیں

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وباوں، جنگوں، قدرتی آفات اور سانحات میں انسانی نفسیات عجیب طرح سے کام کرتی ہے۔ سب سے پہلے تو انسان کسی بھی مصیبت کے وجود کو ماننے ہی سے منکر ہو جاتا ہے اور جب مان لیتا ہے تو شدید خوفزدہ ہو جاتا ہے۔

اس خوف کے عالم میں افواہوں کو پھلنے پھولنے اور پنپنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ افواہوں کے اس دور سے نکل کر انسان میں ایک عجیب بے خوفی سی آ جاتی ہے اور وہ آفت کو اہمیت دینے سے منکر ہو جاتا ہے۔

یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے جب بد احتیاطی کے باعث وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں اور جنگوں میں جیتی ہوئی بازیاں پلٹ جاتی ہیں۔ ہمارے خطے کے انسانوں سے بھی اس برس یہ ہی ہوا اور آج ہم اپنے پڑوس میں اس کا انجام دیکھ رہے ہیں۔

ویکسین کے آجانے کے بعد انڈین حکومت اور عوام پہ جو بے خوفی طاری ہوئی وہی آج ان کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ حالات ہمارے ہاں بھی کچھ اچھے نہیں ہیں۔ صرف صحت کے معاملے ہی میں نہیں بلکہ اجتماعی نفسیات پہ بھی بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ہم سب اس وقت ایک عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اس بوکھلاہٹ کے بہت سے دیگر نمونوں کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے تک کیمبرج میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے انعقاد پہ ضد کی طرح اڑے رہنے کا فیصلہ بھی تھا۔

شفقت محمود صاحب پچھلے ایک برس سے بڑے مناسب انداز میں طلبا کی صحت اور تعلیم کے درمیان انتخاب کرتے ہوئے، صحت کو اہمیت دیتے رہے لیکن اب ایک طرف نجی سکول، ٹیوشن سنٹر اور اکیڈمی مافیا تھا، دوسری طرف یہ دباو کی طلبا کا سال ضائع جا رہا ہے اور ان سب سے اوپر بے خوفی کی اجتماعی نفسیات۔

صاف نظر آ رہا تھا کہ جو بچے سال بھر سکول ہی نہیں گئے وہ امتحان میں کیسے بیٹھیں گے؟ مزید برآں کورونا کی تیسری لہر بھی جاری تھی۔ وزیر تعلیم صاحب آخر دم تک معروضی حالات اور طلبا کے احتجاج کو نظر انداز کرتے رہے۔ پھر شاید انڈیا کے حالات نے بوکھلا دیا اور گھبرا کر امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔

جن رویوں کا میں نے ذکر کیا وہ عوام تک تو ایک بھیڑ چال کو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس قسم کے رویوں کی امید حکومت اور قائدین سے نہیں کی جاسکتی۔

امتحانات ملتوی کرنے کا یہ فیصلہ نہایت احسن تھا لیکن بروقت بالکل نہیں۔ یہ فیصلہ ایک ماہ پہلے بھی لیا جا سکتا تھا اور لے لینا چاہیے تھا لیکن چونکہ موجودہ حکومت مقبولیت کی سیاست پہ یقین رکھتی ہے اس لیے اس نے اس منطقی فیصلے سے اس وقت تک آنکھیں بند کیے رکھیں جب تک اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔

یہ بدحواسیاں، بوکھلاہٹیں، ہتھیلی پہ سرسوں جمانا، کم سے کم وزارت تعلیم کو زیب نہیں دیتا۔ اس وقت آنے والے حالات پہ کتنی تحقیقات اور رپورٹس موجود ہیں۔ محکمہ تعلیم کا ایک بےحد مضبوط انفراسٹرکچر ہونے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اداروں کا ڈھانچہ بھی موجود ہے۔

اپنے وسائل کو کام میں لاتے ہوئے کورونا کے ساتھ ایک ایسی تعلیمی پالیسی بنائی جانی چاہیے جس میں، صحت اور تعلیم دونوں کے درمیان توازن رکھا جا سکے۔ اب تک جو ہوا، اسے فراموش کیجیے اور آگے اچھے فیصلے کیجیے۔

اگر مقبول فیصلوں کی یہ سیاست اسی طرح جاری رہی تو عبرت کے لیے آپ کے سامنے، امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی مثال موجود ہے۔ اول ذکر دونوں ممالک اپنے لامحدود وسائل کے باعث اپنے فیصلوں کے نقصان کسی نہ کسی طرح سہار گئے۔

انڈیا میں مقبول فیصلوں کی سیاست نے عوام کے لیے کیا مصیبت کھڑی کی، سب کے سامنے ہے۔ بوکھلاہٹ کی بجائے ٹھنڈے ذہن سے پالیسی بنائیں۔ کورونا جینیاتی تبدیلیاں کر کے شکلیں بدلتے ہوئے جانے کتنے برس ہمارے ساتھ رہے گا۔ ہمیں اس کے ساتھ رہتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ بھی چلانا ہے۔

سوچ سمجھ کے فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ بوکھلاہٹ، بدحواسی اور ڈنگ ٹپاو، پالیسیوں سے آخر کار نقصان طلبا کا ہورہا ہے۔ فیصلہ کرتے وقت لمحہ بھر کو یہ سوچ لیا کیجیے کہ آپ عام انسان نہیں وزیر ہیں اور آپ کا فیصلہ پورے ملک کے مستقبل پہ اثر انداز ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •