EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

یورپی پارلیمنٹ کا اظہار ناراضی، ہم پر کوئی اثر ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں یورپین یونین پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے اور پاکستان سے اپنے دیرینہ مطالبات کو نہ صرف دھرایا ہے بلکہ واضح طور پاکستان کی جی ایس پی پلس کی حیثیت پر نظرثانی کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ اس قرارداد کے مندرجات میں توہین مذہب سے متعلق قوانین کے غلط استعمال کو متعدد مثالوں اور اسباب و وجوہات کے ساتھ کھل کر بیان کیا گیا ہے، اور حکومت پاکستان سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرارداد کے مطابق توہین مذہب کا قانون ذاتی جھگڑے نبٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔

پارلیمنٹ کی قرارداد کے متن کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ کے لئے بھی لائحہ عمل اور ہدایات درج ہیں جن کو پارلیمنٹ کے سامنے لانے کا کہا گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے اندرونی حالات ایسی صورتحال کی نشاندہی کر رہے تھے اور یورپین پارلیمان کی طرف سے بالآخر اس قدر شدید نوعیت کا ردعمل سامنے آ ہی گیا ہے، قراردار کی دوسری اہم بات ووٹنگ ہے جس سے پارلیمان کے موڈ اور ممبران کی شدید ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے مطابق اس قرارداد کو کل 681 ممبران کی حمایت حاصل رہی جبکہ مخالفت میں محض 6 ووٹ پڑے تھے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے لگا ہے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ گرے لسٹ کے حوالے سے اگلے مہینوں میں اہم ترین اجلاس پیرس میں منعقد ہونے والا ہے، اب تک پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بال بال بچتا رہا ہے لیکن یہ قرارداد بجا طور پر خطرے کی گھنٹی ہے جس کو کانوں میں جمی میل نکال کر سننے کی ضرورت ہے۔

قرارداد میں فرانس کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کر کے یورپین پارلیمان نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور اپنی رائے بھی دے دی ہے۔ تاریخ ایک بار پھر یہ دہرا رہی ہے کہ ریاستوں کو ہتھیاروں سے تحفظ دینے کا دور اور وقت اب گزر چکا ہے بلکہ اب دور حاضر کے تقاضوں اور ضرورتوں کے تابع رہ کر ہی جینا ہو گا اور مذہب کو انسانی ذات تک محدود کرنا ہو گا۔

قرارداد کے مطالبات کا تعلق انتظامی، قانونی اور عدالتی معاملات سے ہے جن کو ریاست اور حکومت دونوں اگر چاہیں تو ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے مذہبی عناصر اور تنظیمیں اس قدر طاقتور ہو چکی ہیں کہ ریاستی ادارے ان کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں، تمام قومی اداروں میں مذہبی رجحان رکھنے والوں کی بھرتی سے معاملات سدھرنے کی بجائے الٹا مزید خراب ہو رہے ہیں، ریاست کی اس کمزوری کو عالمی طاقتیں اور ادارے سبھی جان چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ممبران پارلیمان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ریاست، سیاست کے بعد حکومت بھی بالآخر اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں تک پہنچنے کا سفر خود پاکستانی پارلیمان، سیاست نے شروع کیا تھا۔ اب اگر اس قرارداد کو بھی ماضی کی طرح ”ردی کی ٹوکری“ کی نذر کیا گیا تو پھر یہ خود کشی کرنے کے مترادف ہو گا۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف نے ایک فورم پر اس امر کا اظہار کیا تھا کہ ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور یہ حقیقت پر مبنی اور دانش مندانہ بیانیہ تھا اور اس پر جتنی جلدی عمل درآمد ممکن ہو، شروع کر دینا چاہیے۔

بیرونی مہذب اقوام نے پاکستانی اندرونی حالات کی سنگینی کو محسوس کر لیا ہے لیکن افسوس کہ ہم ابھی بھی اس سے انکاری ہیں اور الٹا ان کو لاعلمی کا طعنہ مار رہے ہیں، یا ہم دنیا کو بیوقوف سمجھنے اور بنانے کی پالیسی پر گامزن رہنا چاہتے ہیں؟ ماضی میں گومگو کی کیفیت میں کیے گئے کمزور ترین فیصلوں نے ریاست کے تصور کو انتہائی کمزور کر دیا ہے اور حالات گواہی دیتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ اب خارجہ پالیسی کو مذہبی انتہا پسندوں کی مرضی کی بجائے ملک و قوم کی سلامتی اور بقاء کے تابع کرنا ہو گا۔

موجودہ حکومت سے کچھ ایسی سفارتی غلطیاں بھی ہوئیں جو نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔ پہلی بار یہ دیکھنے کو ملا کہ ایک ریاست کے انتظامی سربراہ دوسرے ممالک کی قیادت کو براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے تنقید کریں۔ فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیراعظم کو براہ راست ہدف تنقید کا نشانہ بنانا سفارتی تقاضوں کے منافی تھا اور اس کا ردعمل بھی سب دیکھ چکے ہیں، یہ اندرونی سفارت کاری کا کام تھا کہ اپنا ردعمل دوسری حکومت تک پہنچایا جاتا لیکن نہ جانے کس زعم میں یہ سب کچھ کیا گیا تھا۔

ہماری کیا وقعت ہے ، یہ جاننے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، جنوبی ایشیا میں اپنے پڑوس ہی میں دیکھ لیں بنگلہ دیش نے اپنی آزادی کی گولڈن جوبلی کی تقریبات میں بھارتی وزیراعظم نریندر موودی کو عزت و احترام سے بلا لیا لیکن پاکستان کو نظر انداز کر دیا، جس کا وہ کبھی حصہ ہوا کرتا تھا۔ اس قرارداد نے پھر یاد دلایا ہے کہ پارلیمان کو علی محمد خان ایسی سوچ کے شکنجے سے آزاد کرانا ہو گا اور دونوں ایوانوں کو ایسے دانشور قسم کے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو جذبات کی بجائے زمین حقائق اور عالمی ضرورتوں کے تناظر میں منصوبہ بندی کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے