تعلیمی ایمرجنسی وقت کی اہم ضررت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم ملک کے ہر شہری کی ایک بہت اہم بنیادی ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے پچھلے کچھ برسوں سے اس اہم شعبے کو متعلقہ حکام کی طرف سے ترجیح نہیں دی گئی۔ یہ واقعتاً بدقسمتی کی بات ہے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے اس میں کمی کی گئی، جس کی وجہ سے، یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یقینی طور پر یہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی طرح حکومتوں، وزارت تعلیم، اور متعلقہ حکام کی پہلی اور اہم ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہیں مسائل کا جائزہ لینا چاہیے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ  ملک کے ہر شہری کو طبقات، نسل، ذات وغیرہ کے فرق کے بغیر تعلیم مہیا کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔

پچھلے پانچ برسوں میں ایچ ای سی کے بجٹ کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ یہ جمود کا شکار رہا یعنی 2017۔ 18 میں 63.183 ارب روپے،  2018۔ 19 میں 65.020 ارب روپے اور اسی طرح 2019۔ 20 میں 64.100 ارب روپے اور 2020۔ 21 ء میں 64.100 ارب جبکہ آئندہ مالی سال کے لئے مجوزہ مختص رقم 65 ارب روپے ہے جو کہ 138 سرکاری یونیورسٹیوں کے ساتھ ان کے 92 سب کیمپس کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں کے دوران ہم تنخواہ اور پنشن کی مجوزہ مختص رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اساتذہ اور یونیورسٹیوں کے عملے کی ہڑتالوں کے سبب یونیورسٹیوں میں افراتفری اور بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ معاملات کو صحیح طور پر دیکھیں اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ مختص کرتے وقت اہم حقائق پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح مالی سال 2017۔ 18 میں 1.76 ملین سے مالی سال 2020۔ 21 میں 2.06 ملین تک بڑھ کر 14.5 فی صد مہنگی ہو گئی، مالی سال 2017۔ 18 میں پی ایچ ڈی فیکلٹی کی تعداد 15 ہزار 28 سے بڑھ کر موجودہ مالی سال 2020۔ 21 میں 19 ہزار 978 ہو گئی اور گزشتہ پانچ سالوں میں یونیورسٹیوں میں 92 سب کیمپسز کے ساتھ 99 سے 138 تک کا اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کو پالیسی سفارشات تجویز کرنے میں اکیڈمیا کی شمولیت کے بارے میں ایک براہ راست ویبنار، ”بجٹ 2021۔ 22 : اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ضروریات اور توقعات“ کے عنوان پر منعقد ہوا، جس میں قائد اعظم یونیورسٹی سمیت اور مختلف یونیورسٹیوں جامعہ بلوچستان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، ساؤتھ ایشیاء یونیورسٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور اور مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان چیئرمین (ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) نے خصوصی شرکت کی اور اہم کلیدی تقریر بھی کی۔

ویبنار کا اہتمام ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان، سپیریئر یونیورسٹی، (IUCPSS) انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار پروموشن آف سوشل سائنسز پاکستان یونیورسٹی آف لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، اور سینٹرل سی ایس آر کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی نے کیا۔ اجلاس کی میزبانی میرے سپرد تھی۔ تعلیم کے امور پر تبادلۂ خیال کرنے اور اپنی پالیسی کی سفارشات دینے کے ساتھ ساتھ ان موضوعات پر توجہ دی جائے جو ویبینار کے دوران کہی گئی تھیں۔

ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے، ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ قومی تعلیمی ایمرجنسی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعہ تعلیم کے لئے مختص جی ڈی پی میں ہر سال کم سے کم 0.5 فی صد تک اضافے کی سفارش کی تاآنکہ اگلے 5 سالوں میں یہ جی ڈی پی کے 5.0 فیصد تک نہ پہنچ جائے۔ پروفیسر عطاء نے کہا کہ تعلیمی بجٹ کا 33 فی صد اعلیٰ تعلیم پر خرچ ہو اور باقی 67 فی صد اسکولوں، کالجوں اور تکنیکی تعلیم پر۔

پروفیسر رحمان نے یہ بھی مشورہ دیا کہ تمام کالجوں میں سے کم از کم 5 فی صد کو اعلیٰ سطح کے تکنیکی کالجوں میں تبدیل کیا جائے۔ اعلیٰ تعلیم کے کالجز کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے غیر ملکی اشتراک کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک 200 اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے لیے سالانہ 5 ہزار طلباء کو وظائف پر بھیجا جائے۔ انہوں نے صنعتی اور زرعی اہمیت کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ٹیکنالوجی پارکوں اور جدت طرازی / کاروبار کے فروغ، علمی معیشت، ٹاسک فورس منصوبوں کے لئے فنڈز، اور مناسب پالیسیوں اور مراعات کے ذریعے ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ / ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹ کے فروغ کے لئے بڑے قومی پروگراموں کی تجویز پیش کی۔ نیز ان کا یہ خیال تھا کہ یونیورسٹیوں میں فیکلٹی کی تقرری کے معیار ٹینور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) میں ترمیم کی جائے تاکہ اعلیٰ غیر ملکی فیکلٹی کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے میٹرک کی سطح پر تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے لئے پاکستان بھر کے اسکولوں میں میٹرک ٹیک پروگرام میں توسیع کی سفارش کی۔

چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی اور وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر محمد علی شاہ نے پاکستانی یونیورسٹیوں کے نئے بجٹ میں سالانہ طویل خسارے اور مالی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے بار بار ملنے والے ایک بجٹ کے طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی۔

دیگر مقررین نے تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا 5 فی صد مختص کرنے، پالیسی سازی کے عمل میں پورے پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز اور صارفین کی شمولیت، وظائف کے مساوی مواقع، تحقیقی گرانٹ، اور سرکاری و نجی شعبے کے لئے فیکلٹی کی تربیت، غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لئے این او سی اور تعلیمی پروگراموں کی منظوری کے لیے ون ونڈو سہولت جاری کرنے کی سفارش کی، ایک معاون اور سہولت بخش تنظیم کے طور پر ایچ ای سی کے کردار کو بحال کرنا، یونیورسٹیوں کی خودمختاری کا احترام کرنا، تدریسی اور ریسرچ کمیونٹی کے لئے ٹیکس چھوٹ کو 75 فیصد بحال کرنا، پنشنوں کی ادائیگی کے لئے فنڈ، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نجی شعبے کے کردار کی حوصلہ افزائی، علاقائی/ ملکی سکالرشپ پروگرام کی بحالی اور مہارت کے لئے خصوصی گرانٹ مختص کرنے کی سفارشات کیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں کرنے کا بھی عزم کیا، پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے یقین دہانی کرائی کہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ان اہم سفارشات کو متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی، ٹینور ٹریک سسٹم فیکلٹی کو بھی جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ بھی ایک بہت بڑا سر درد ہے۔ اس کے باوجود، چند اہم امور جن کو جلد از جلد نمٹانے کی ضرورت ہے : ٹی ٹی ایس کی تشہیر اور تنخواہ کے معاملات کو حل کرنا، (بیل آؤٹ پیکیج) خصوصی ان یونیورسٹیوں کے لئے جو تنخواہوں اور پنشنوں کی ادائیگی سے بھی قاصر ہیں، طلباء کے ہاسٹل والی یونیورسٹیوں کے لئے خصوصی بجٹ مختص کرنا، اوقاف کے قیام کے لئے یونیورسٹیوں کو رقم کی فراہمی اور جنرل یونیورسٹیوں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور میڈیکل یونیورسٹیوں کے ہر طالب علم کے لئے بجٹ مختص کرنے کے معیار پر نظرثانی کرنا شامل ہیں۔

اس ساری بحث کا خلاصہ کرتے ہوئے، یہ بات بالکل واضح ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی اولین ترجیح تعلیم پر غور کرنا ہو گا اور، جیسا کہ ظاہر ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافے اور نوجوانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے اب ضروری ہے کہ معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہر شہری کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے آپس میں مل کر کام کریں اور اپنے ساتھ ساتھ ملک کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے اجتماعی طور پر آگے بڑھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *