عمران خان کو اصل شکایت کس سے ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان بھی خوب آدمی ہیں۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ اپنے منہ سے جو بھی ارشاد فرماتے ہیں، معاملہ اس کے برعکس سامنے آتا ہے۔ کرسی اقتدار پر براجمان ہونے سے کچھ برس قبل تک وہ بانی ایم کیو ایم سے بھی کہیں زیادہ، افواج پاکستان کو جو کچھ کہتے رہے، پاکستان ہی کیا، دنیا کے کسی بھی ملک کے سیاست دان نے شاید ہی اپنے ملک کی کی افواج کو اتنا مطعون کیا ہو۔

وہ کون سی ایسی سخت بات ہے جو کسی بھی احترام کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر عمران خان نے افواج پاکستان اور ان کے حاضر اور غیر حاضر جرنیلوں کے خلاف نہیں کی ہو لیکن ٹھیک اقتدار سنبھالتے ہی جیسے ان کی کایا ہی پلٹ گئی کیونکہ اس کے بعد سے تا حال کبھی ایک مرتبہ بھی افواج پاکستان سے متعلق کبھی کوئی نازیبا لفظ زبان سے نکلا اور نہ ہی کسی ناقدانہ رائے کا اظہار کیا گیا۔

کہتے ہیں کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجا کرتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ عمران خان کے ساتھ اب تک دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے شاید ہی دنیا کا کوئی پلیٹ فارم چھوڑا ہو جہاں اس  نے فوج مخالف بیانات نہ دیے ہوں یا پاکستان میں امور مملکت کے حوالے سے فوج کے کردار پر بلا جھجک اور بلا لحاظ سخت تنقید نہ کی ہو۔ سب سے زیادہ گراں بات یہ رہی کہ انھوں نے پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت تک میں کچھ ایسی باتیں کیں جو کم از کم عمران خان کو کسی بھی صورت نہیں کہنی چاہیے تھیں۔

یہ بات طے ہے کہ عمران خان کے علاوہ اگر کوئی اور سیاست دان یہ باتیں کرتا جو ماضی میں عمران خان کرتے رہے ہیں تو شاید وہ ”قانون“ کے سخت ترین شکنجے میں کسا جا چکا ہوتا۔ اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد ”تالی“ کے دوسرے ہاتھ نے جس قسم کے مثالی ردعمل کا اظہار عمران خان کے لئے کیا وہ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ افواج پاکستان کی جانب سے ایک بہت ہی مستحسن قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس قسم کا تعاون ملک کے عسکری اداروں کی جانب سے ہر حکومت کے لئے کیا جانا چاہیے تھا وہی کیا گیا۔ یہ مثالی تعاون اگر ملک کی ساری حکومتوں کو میسر آتا تو یقیناً پاکستان کے حالات پورے خطے میں بہت مختلف ہوتے۔

جی ایچ کیو میں شاندار استقبال۔ غیر ملکی دوروں میں پورے ادارے کا قدم قدم چلنا۔ ایک ایک قدم پر باہمی تعاون کا اظہار۔ ملکی و بین الاقوامی امور پر مکمل مشاورت۔ ہر بحران کی صورت میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی ملاقاتیں جیسے قابل ستائش اقدامات یقیناً پاکستان کے مستقبل کے لئے ایک نیا باب رقم کر دینے کی روشن علامات تھے۔

گزشتہ چند دنوں سے جو باتیں وزیر اعظم پاکستان، ان کے ترجمانوں، ارکان کابینہ اور اہالیان حکومت کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں وہ صرف پاکستانیوں کے لئے ہی نہیں، دنیا کے لئے بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ کوئی وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہر جانب سے حکومتی امور میں مداخلت کا سلسلہ نہ رکا تو عمران خان اسمبلیاں بھی توڑ سکتے ہیں، کبھی کسی وزیر کی جانب سے اس سے ملتی جلتی بات سامنے آ جاتی ہے۔ بے شک اس قسم کی باتیں عوام کے لئے پریشانی کا سبب ضرور ہوا کرتی ہیں۔ اس قسم کی باتیں صرف وزرا و ترجمانوں ہی تک محدود رہیں تو بہت تشویشناک نہیں ہوا کرتیں لیکن اس دوران ہوا یہ کہ خود عمران خان یہ کہتے سنے گئے کہ مجھے کام نہیں کرنے دیا جا رہا اور مجھے اپنے کاموں میں مداخلت کا مسلسل سامنا ہے۔

ایک ایسی حکومت جس کے ساتھ گزشتہ تین برسوں سے ملک کے تمام ادارے، ہر قسم کی ملکی و غیر ملکی تنقیدوں کے باوجود، مسلسل تعاون کی ایک اعلیٰ ترین مثال بنے ہوئے ہوں اور ہر قسم کے بحرانوں سے حکومت کو نکالتے چلے آ رہے ہوں، ایسی حکومت کے سربراہ کی جانب سے اس قسم کا اظہار قابل غور تو ہے ہی، باعث حیرت بھی ہے۔

خیال تھا کہ ورزاء اور عمران خان کے اس قسم کے بیانات کے بعد ان کے وضاحتی بیانات بھی سامنے آئیں گے جس سے عوام کو یہ علم ہو سکے کہ آیا حکومت کو کس قسم کی اور کس کی مداخلت کا سامنا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ مداخلت کرنے والی شخصیات حقیقتاً کون ہیں۔

ہر ملک کی اپوزیشن کا کام ہی حکومت کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مثبت سے مثبت پیش رفت کے باوجود بھی حکومت کے کاموں میں کیڑے ہی نکالنا ہوتا ہے ، اس لئے یہ بات تو واضح ہے کہ عمران خان کا اشارہ اپوزیشن کی جانب نہیں بلکہ خود ان کی جانب ہے جن کا مثالی تعاون تا دم تحریر حکومت ہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے بطور وزیر اعظم یہ بات ان پر لازم ہوتی ہے کہ وہ ان پریشانیوں کا، جن کا اظہار وہ ڈھکے چھپے انداز میں کر رہے ہیں، واضح طور پر عوام کے سامنے کریں اور عوام کے سامنے کسی بھی قسم کا لحاظ کیے بغیر، وہ نام لائیں جو ان کے حکومتی امور میں مداخلت کرتے ہوں یا رکاوٹیں کھڑی کرنے کے عمل میں شامل ہوں۔

وزیر اعظم کے متعلق عوام اور اپوزیشن کی جو بھی رائے ہو وہ ایک الگ بحث ہے لیکن جمہوری حکومتیں عوام بنایا کرتے ہیں اور عوام اپنے حقوق کا تحفظ کرنا خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ عوام کی جانب سے حکومتوں کو تحفظ دینے کی ایک دو نہیں، درجنوں مثالیں ہیں ، اس لئے عمران خان بلا جھجک اپنی پریشانی دل کھول کر عوام کے سامنے رکھیں۔ اگر پورے خلوص کے ساتھ انھوں نے عوام کے سامنے پوری صورت حال رکھی تو یقیناً عوام ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ عمران خان صاحب عوام سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھیں گے اور وہ عوام کو صاف صاف آگاہ کریں گے کہ مداخلت کرنے والے کون ہیں اور وہ پاکستان کو عدم استحکام کی جانب کیوں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *