ہر فن مولا کی تباہ کاریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ دنیا کی ترقی کا تیز ترین سفر جاری ہے۔ بیس تیس سال پہلے چار پانچ قسم کے ماہر ڈاکٹر ہوا کرتے تھے مثلاً کوئی ایک میڈیکل سپیشلسٹ ، ایک سرجن ، ایک آرتھو پیڈک اور ایک آدھ ماہر امراض قلب ہوا کرتا تھا مگر آج کسی بھی کام میں بہترین نتائج دینے کے لئے مائیکرو سپیشیلٹی کا دور ہے۔ اب ایک میڈیکل اسپیشلسٹ دس مزید مہارتوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل، جگر، گردے، پتے، سینے سمیت ہر عضو اور ہر بیماری کے اپنے ماہرین دستیاب ہیں اور ڈاکٹر بہتر نتائج کے لئے مریض کو متعلقہ ڈاکٹر ہی کو ریفر کر دیتے ہیں۔

اس میں کوئی حرج ہے نہ کسی کو کوئی اعتراض، کیونکہ یہی دنیا میں رائج قانون اور طریق کار ہے۔ البتہ پاکستان میں صورتحال دنیا سے تھوڑی سی مختلف ہے۔ یہاں جب تک مریض متعلقہ ڈاکٹر تک پہنچتا ہے۔ وہ اس سے پہلے دو چار عطائی ڈاکٹروں اور تین چار مریضوں کے بتائے ہوئے نسخے ٹرائی کر چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم میں سے ہر بندہ خود کو ہر فن مولا سمجھتا ہے وہ بے جا طور پر سمجھتا ہے کہ ان کو ڈاکٹر نے جو دوائی تجویز کی تھی وہ اسی قسم کے ہر مریض کے لئے شفاء کاملہ کا ذریعہ بنے گی۔ یہ اور بات ہے کہ وہ دوائی شفاء کاملہ کی بجائے تباہی کاملہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اسی طرح صحافیوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ جیک آف آل ٹریڈز بٹ ماسٹر آف نن ہوتے ہیں یعنی ہر بات اور مسئلے کو کسی نہ کسی حد تک سمجھتے ہیں مگر کسی ایک بات کے بھی ماہر نہیں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا کام ہی ایسا ہے۔ مثلاً ایک دن کوئی صحافی شہر میں پانی کی کمی کے مسئلے کو کور کرتا ہے وہ اس کی بنیادی وجوہات اور ممکنہ حل معلوم کرتا ہے۔ دوسرے دن وہ گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے متعلقہ حکام سے ملتا ہے اور مسائل ، وجوہات اور حل معلوم کر کے رپورٹ کرتا ہے، جبکہ تیسرے دن اسے کسی سیاسی یا مذہبی پارٹی کے جلسے کو کور کرنا ہوتا ہے۔ علی ہذالقیاس۔

یہی وجہ ہے کہ صحافی عموماً پورے ملک کے جبکہ خصوصاً اپنے علاقے کے مسائل کو کافی حد تک سمجھتا ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ وہ ان مسائل کا پورا حل بھی جانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر مسئلے کے اپنے ماہرین ہی اس کا بہتر حل تجویز کر سکتے ہیں۔ مگر پاکستان میں ہماری سب سے بڑی بدقسمتی اس وقت شروع ہوئی جب سوشل میڈیا اور سمارٹ فون نے ہر فرد کو صاحب الرائے افراد کی طرح اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔

لائیکس کمنٹس اور شیئر کی وبا نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ جس شخص کو آج اپنی کسی پوسٹ ، ویڈیو یا تصویر پر چند لائیکس اور کمنٹس ملتے ہیں ، اس کا حوصلہ بڑھتا ہے ، دوسرے اور تیسرے دن اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بس وہ صحافی بن گیا۔ پھر وہ طلعت حسین ، حامد میر ، سلیم صافی ، جاوید چوھدری اور رحیم اللہ یوسفزئی کے تجزیوں پر ایسے ماہرانہ رائے دیتا ہے کہ الامان والحفیظ۔۔  ان ماہرین کی کوئی رائے ان کی طبیعت کو ناگوار گزری تو پھر پٹواری لفافی دو نمبری جیسے القابات سے ان کو ایسے نوازا جاتا ہے جیسے وہ دونوں یونیورسٹی میں کلاس فیلوز تھے۔

حالانکہ یہ بے چارہ یا تو مڈل میں فیل ہو کر بیرون ملک مزدوری کے بعد فارغ وقت سوشل میڈیا پر گزارتا ہے یا اندرون ملک بے روزگاری کی وجہ سے غم غلط کرنے کے لئے کسی سیاسی پارٹی کا ورکر بن گیا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ میں محنت مزدوری کو کم تر یا برا سمجھتا ہوں نہ ہی سیاسی ورکر بننے کو، لیکن عرض صرف اتنا ہے کہ میں جس کا کام اسی کو ساجھے پر یقین رکھتا ہوں۔

ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا ہے۔ اگر میں اور آپ ملکی معاملات، سیاست ، اقتدار اور عالمی و قومی معاملات پر سمجھ بوجھ کے حامل ہوتے تو اللہ تعالی کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہ تھی کہ وہ حامد میر ، طلعت حسین اور جاوید چوھدری کی جگہ کسی گل مرجان، طوطی خان یا افلاطون کو وہاں بٹھاتے، میڈیا مالکان ان کو پندرہ بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں دیتے اور آپ لوگ ان کی طرح خوب مزے میں رہتے۔

مکرر عرض ہے کہ جب تک ہم میں سے ہر شخص اپنے کام سے کام نہیں رکھے گا۔ ملک میں ہر ادارے کی تباہی و بربادی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ ہم میں سے ہر شخص نے اپنا کام چھوڑ کر صرف مسائل کو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے لانے اور اس پر تبصرے اور تجزیے کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے اور اسی کو تمام مسائل کا حل سمجھ لیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے عوام کو شعور بھی دیا ہے اس کے ذریعے روزانہ کئی ایک مسائل حل بھی ہو رہے ہیں۔

مگر یاد رکھیے کہ شور اور شعور کے درمیان صرف ایک ع کا فرق ہوتا ہے اور یہی ع دراصل علم ہے۔ جس کے پاس علم ہو گا وہ شور نہیں مچائے گا ، وہ حکمت کے ساتھ ، خاموشی کے ساتھ ، سمجھ بوجھ کے ساتھ مسائل کو منظر عام پر لا کر اس کا مناسب حل تجویز کرے گا اور آگے بڑھے گا۔ جبکہ جو لوگ شور مچاتے ہیں ، وہ علم سے عاری ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنی بات منوانے کا کوئی دوسرا طریقہ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے وہ افراتفری پھیلاتے ہیں ، شور شرابا کرتے ہیں اور اسی طرح دوسروں کی توجہ حاصل کر کے خوش ہوتے ہیں۔

تحریر کے اختتام سے پہلے سعد اللہ جان برق کی بات یاد آ گئی،  وہ لکھتے ہیں:

’’جدید میڈیا اور اس کی نام نہاد آزادی کی مثال پریشر ککر کے سیفٹی والو سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کا مقصد اشرافیہ کی طرف سے عوام کو دل کا بھڑاس نکالنے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ شور شرابے اور گالم گلوچ میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے ، اس شور میں اشرافیہ اپنا کام کرتی رہے اور حقیقی انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔ اور یہ جو سوشل میڈیا نام کی چیز ہے ، اسے عوام کے ہاتھ میں دے کر اپنے آپ پر استعمال کروانا شروع کر دیا یا یوں کہیے کہ آوازوں کا ایک جنگل اگا کراسے اپنے ہی آپ میں گم کر دیا۔

یہ زبردست سیفٹی والو اشرافیہ کے لئے باعث اطمینان ہے کیونکہ جس کا جو جی چاہے بولے۔ اور جب سب بولنے والے ہوئے تو سننے والا بچا کہاں؟ اشرافیہ خوب مزے میں ہے کیونکہ پریشر ککر کی بھاپ سیفٹی والو سے سیٹیاں بجا بجا کر نکل رہی ہے اور پریشر ککر کے پھٹنے کا کوئی خطرہ نہیں۔‘‘

اگر بات سمجھ میں آ گئی ہے تو اس پر غور کرنے اور عمل کرنے کی کوشش کیجیے نہیں تو آج کی بورڈ آپ کا نام میرا، جو جی میں آئے لکھے ، گرجے اور برسے کیونکہ جدید دور میں اسی کو کام کہا جاتا ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *