نتھلی والی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ عجب اٹھلاتے ہوئے چلتی تھی۔ اس کا سنہرا رنگ دھوپ سے سنولایا ہوا تھا، جیسے دھوپ کی تمازت نے جلد کو جھلسا دیا ہو، مگر اس کا ناک نقشہ راجپوتوں کی طرح تیکھا سا تھا۔ اس پہ باریک گھنگروؤں والی نتھلی پہنے ناز سے مٹکتی ہوئی چلتی تو شوخ رنگوں کا گھاگھرا ایک ادا سے گھومتا تھا۔ تین رنگوں کا پٹی دار گھاگرا جس کے رنگ میل سے آٹے پڑے تھے۔ جیسے کسی نے شوخ رنگوں کا سندر پن مٹانے کے لیے جلی لکڑی کی راکھ مل دی ہو۔

اسے دیکھتے ہی ایک انڈین فلم کا گانا ذہن میں گونجنے لگتا:
چولی کے پیچھے کیا ہے۔

کسی کے ذہن میں کیا گونج رہا ہے اور کیا نہیں۔
اسے اس سے کیا ، ساری دنیا سے بے نیاز وہ اپنی بکریوں کی طرح گنڈیریاں چوستی جاتی، چھلکے سڑک پہ پھینکتی جاتی اور اپنی بکریاں چراتی پھرتی ، جیسے شہر نہ ہو جنگل بیلا ہو ، شاید اس کے لیے ساری دنیا ہی جنگل بیلا تھی۔

کہہ سکتے ہیں کہ حسن کو آنکھ کی پتلی سے لے کے دل کے گوشوں تک قید کرنے کی عجیب سی بیماری لگی تھی مجھے۔ کبھی کیمرے کی آنکھ کی مدد سے تو کبھی حروف میں حسن کو قید کر کے محسوس کرنا میری زندگی تھی۔

گاؤں کی حد تک تو سب ٹھیک تھا پر مجھے شہری زندگی کچھ زیادہ راس نہیں آ رہی تھی۔ تنگ گلیاں، شور آلودہ ہوا۔ بلکہ تعفن میں تو اکثر سوچا کرتا کہ اگر قصبوں میں بنیادی سہولیات آبادی کے حساب سے مہیا ہوں تو ہم دیہاتی شہروں کی سمت بے وجہ نقل مکانی کے لیے مجبور نہ ہوا کریں۔

شہر بظاہر تو دوست کی طرح خوش آمدید کہتے مگر جلد ہی کسی کج ادا محبوبہ کی مانند نخرے دکھانے لگتے ۔ مجھے یاد ہے جب پہلے پہل میں گاؤں سے ہجرت کر کے آیا تھا تو کیسی بے سکونی اور بے مکانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ناصر کاظمی کا سائیں سائیں کرتا شہر اور اداس شب و روز پھر خدا خدا کر کے گھر تلاش کیا، اس پہ نوکری کے مسائل الگ منہ چڑھا رہے تھے۔

رہائش کا مسئلہ حل تو ہو گیا لیکن ان دنوں کی بات ہے جب تاریخ دس سے زیادہ ہو جاتی اور پیسوں کا بندوبست نہ کر پاتا تو میرے خبطی مالک مکان کو میری بے عزتی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔

کبھی کبھار ٹیوشن سے ملنے والی رقم میری مدد کرتی جس سے میں اس ایک کمرے کا کرایہ دیتا جو تیسری منزل پر واقع تھا۔

اس کمرے کی ایک خوبی تھی اس کی کھڑکی، جس سے میں سارا شہر دیکھ سکتا تھا۔ ہجوم بے بہا ، ایک دوسرے پہ چڑھے مکان جو ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش میں مبتلا نظر آتے، ذرا سی گردن اوپر اٹھاتا تو آسمان اور موسم کے رنگوں کا نظارہ بھی ممکن ہو جاتا۔کبھی کبھار میری کوئی کہانی کسی رسالے میں شائع ہو جاتی تو معمولی معاوضہ مل جاتا جس سے میری عید ہو جاتی۔

اس روز بھی میری جیب گرم تھی اور میں خوشی میں مست تھا ، وہ پاس سے گزری تو میں نے اس سے فرمائش کی ”کیا میں تمہاری اور تمہاری بکریوں کی کچھ تصاویر بنا سکتا ہوں۔ اس نے پہلے تو مجھے غور سے دیکھا پھر بولی بدلے میں کیا دو گے صاجب!

میں نے کہا: تمہیں کیا چاہیے؟ ، تھوڑی دیر مجھے پلکیں جھپکائے بنا دیکھتی رہی پھر کمر پہ ہاتھ رکھ کے بولی ترپال لے دو ناں صاحب! برسات ہے ناں بارشوں کے موسم میں خیمہ بھیگ جاتا ہے ، اگر ہم اپنے جھونپڑے پر ترپال ڈالیں گے تو بارش اندر نہیں آئے گی۔ ”میں نے کہا، ابھی تو میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ، کچھ دنوں میں پیسے ہوئے تو خرید دوں گا۔ پھر میں نے اس کی بہت سی تصویریں بنائیں اور وہ ہنستی مسکراتی دور نکل گئی۔

اس روز مالک مکان بہت غصے میں تھا۔ دس تاریخ کے بعد وہ ایسے ہی گرجا کرتا تھا۔ اس کے لہجے میں توپوں کی گھن گرج تھی۔ جس روز پیسے اس کی مٹھی میں چلے جاتے اس روز تو وہ مومی گڈا بن جاتا پر اسی مومی گڈے کو بھوت بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔ میں بہت کوشش کر رہا تھا کہ کوئی ڈھنگ کی نوکری مجھے مل جائے پر نوکری جس پابندی کو مانگتی وہ میری لا ابالی طبیعت کے لیے موزوں نہیں تھی۔

میرے پاس ایک ہی طریقہ بچا تھا کہ کہانی لکھ کے ایڈیٹر کو بھیجوں بلکہ دو تین رسائل کو ارسال کروں تاکہ اپنے کرائے کے ساتھ ساتھ نتھلی والی کو ترپال بھی خرید کر دے سکوں۔

ادھر بادل ٹپ ٹپ برستے ادھر لفظوں کی بوندا باندی ہونے لگتی پر ہاتھ کچھ نہیں آتا تھا۔
کھڑکی کے پار چڑیا نے اپنے گیلے پر پھڑپھڑائے،‎ چھینٹے اڑے اور تار سے اٹکے ہوئے قطروں کی قطار میں شامل ہو گئے۔

پچھلے کچھ دنوں سے ایک کہانی کا خاکہ بنتا تھا لیکن جیسے ہی تصور کی صورت اختیار کرنا چاہتا ، سب گڈ مڈ ہو جاتا جیسے کچی نیند کا خواب۔ سامنے ہی ایک مکان کی تعمیر ہو رہی تھی۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جب کچھ بھی بنتا ہے ، پہلے بکھرتا ہے۔ تعمیر سے پہلے رسم تخریب ہوا کرتی ہے۔

اینٹوں کا پھیلاؤ، سیمنٹ ریت بجری پھٹے بے ترتیب سڑک کو گھیرے ہوئے تھے۔ شاید کسی روز میرا اپنا مکان بھی بن جائے، سوئی ہوئی اپنے مکان کی خواہش اس روز ضرور بیدار ہوتی جس روز نک چڑھا بوڑھا میرا سامان کھڑکی سے باہر پھینکنے کی دھمکی دیتا۔

میری کھڑکی سے نتھلی والی کی کچی بستی نظر آتی تھی۔ بارشیں اس بار معمول سے زیادہ ہو رہی تھیں جیسے جیسے بارش ہوتی ترپال کا خیال ذمہ داری بن کر میرے کاندھوں پر سوار ہو جاتا۔ ترپال کے لیے رقم کا مطالبہ اس نے مجھ سے ایسے کیا جیسے میں کوئی لاٹ صاحب ہوں اور دولت تو میرے ہاتھ کی میل ہو۔

میں اسے یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ میرے حالات یہ ہیں کہ میرے مالک مکان کو اگر میں اس بار بھی کرایہ وقت پر نہ دے سکا تو وہ میرا سامان اٹھا کے سڑک پہ پھینک دے گا۔

‎ ادھر کہانی کوئی صورت اختیار کرنے کو تیار نہیں تھی۔ بہت سے لفظ کاغذ تک اترتے مگر رات تک سب کوڑے والی ٹوکری کے پیٹ میں اتر جاتے۔

اگر کہانی وقت پہ تیار ہو جاتی تو شاید میری بہت سی مشکلیں آسانی میں بدل جاتیں۔

یکایک بادل چھٹ گئے۔ مغربی کنارا روشنیوں میں نہا گیا۔ نارنجی، بنقشی، اور نیم گلابی رنگوں مین گھرا زوال کا سورج الوداع کہنے لگا۔ ہمیشہ کی طرح میرا دل چاہا میں بھی سورج کے ساتھ ہی غروب ہو جاؤں مگر ہر بار کی طرح اس نے مجھے اکیلے چھوڑ دیا۔

سڑک پر سامان بکھرا پڑا تھا شاید تین ماہ تک یہ مکان مکمل ہو جائے ہر وہ چیز جو بنتی ہے پہلے کسی کے ارادے میں تعمیر ہو چکی ہوتی ہے ، جملے بنتے تھے پر جملوں سے کہانی نہیں بنتی تھی۔ کہانی میں کردار ڈالنے پڑتے ہیں، پہلے کردار چنے جاتے ہیں ، پھر ان میں جان ڈالنی پڑتی ہے اور کرداروں میں جان ان کی عادات ، مزاج اور اوصاف و خصائل کی مدد سے ڈالی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کرداروں کو کسی ماحول میں ہلایا جلایا جاتا ہے جیسے کٹھ پتلیاں نادیدہ تاروں سے بندھی ہوتی ہیں۔ ان کرداروں میں باہم ربط ڈالنا بھی ضروری ہے ، پھر واقعات کے تسلسل سے کہانی بنتی ہے۔

میرے پاس کچھ بھی تو نہیں تھا۔ ذہن منتشر، خیال بے حد تہی دامن اور مفلس میں نے پھر کاغذ کا گیند بنایا اور اسے زور سے دیوار کی جانب پھینکا، وہ کھلی کھڑکی سے باہر کی جانب نکل گیا۔ میری نظر نے اضطراری طور پہ کھڑکی سے نیچے جاتے کاغذ کے گیند کو دیکھا وہ سیدھا نتھلی والی کے سر پہ لگا ، اس نے مجھے دیکھا اور جھینپ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے بتاؤں کہ یہ حرکت غلطی سے سرزد ہوئی ہے ، ارادتاً شرارتاً نہیں کی۔ وضاحت نہیں کی وہ کب مانتی۔

اس رات ایک خوبصورت کہانی کاغذ پہ اتری مکمل میرے آدرش جیسی۔ کہانی خانہ بدوش لڑکی کے گرد گھومتی تھی۔ میں نے بار بار کہانی کو پڑھا ، جانے کہانی اپنا پیغام دینے میں کامیاب ہوئی یا نہیں۔ شہروں کا بے ہنگم وجود مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔اوپر سے تصنع ، بناوٹ اور ملاوٹ بھری طرز زندگی، ایسے تھی جیسے کسی اندھیری گلی میں زرد روشنی والا مریل سا بلب اور لوگ سہمے ہوئے سائے۔

ایک خانہ بدوش مجھے اس لیے بھائی کہ وہ آزادی اور زندگی سے بھرپور تھی جیسے انسان کو فطرت نے آزاد پیدا کیا لیکن وہ یہاں پنجے گاڑ کے بیٹھ گیا ہے۔ میرا ماننا تھا کہ لوگوں کو سادہ اور فطری رہائش اختیار کرنی چاہیے اور ہمدردی اور سکون سے رہنا چاہیے۔ احسان کے ساتھ۔ بنجارے کی طرح۔ سرائے کے مسافر کی طرح۔ سوچ ایک بیج کی مانند ہوتی ہے جو ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک منتقل ہوتی ہے کبھی یہ بیج بار آور ہوتا ہے کبھی ضائع۔

تھوڑے دنوں بعد رسالے کے ایڈیٹر نے مجھے فون کیا اور بولا آپ کی کہانی کو انعام ملا ہے ، مجھے حیرت ہوئئی بھلا میں نے کب انعامی مقابلے میں حصہ لیا تھا ، اس نے بولا وقت کم تھا۔ میں نے آپ کی کہانی کو مقابلے میں پیش کیا تھا۔

انعام!
کتنا انعام؟

ایک انجانی سی خوشی میرے رگ وپے میں دوڑی واپسی پر میں بہت خوش تھا ، مطلب اتنے پیسے تھے کہ کرایہ نکل کر بھی رقم بچ رہی تھی۔

نتھلی والی کی گیلی جھونپڑی کا ترپال آ جائے گا ، میں خوشی سے چیخا۔ مالک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا خلاف معمول وہ اچھے موڈ میں تھا۔ کہنے لگا آپ خود نہیں آئے آپ نے کرایہ اس خانہ بدوش لڑکی کے ہاتھ کیوں بھیجا۔ میں ہکلا گیا جانے وہ کیا بول رہا تھا۔ کہنے لگا کیا آپ نے اس عورت کو ملازم رکھا ہے؟ ایسی عورتوں کو ملازم نہ رکھیں ، کچھ بھی چرا کے بھاگ جائے گی ، یہ بڑی بڑی نتھلیوں والی بہت خطرناک عورتیں ہوتی ہیں ،

بات کچھ کچھ میری سمجھ میں آئی۔ نتھلی والی بکریاں چراتی بے فکری سے پاس سے گزری تو میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا ”کیا بتا سکتی ہو تم نے میرے مالک مکان کو پیسے کیوں دیے؟ کہنے لگی،“ صاحب آج صبح اس کھڑکی سے اس نے تیرا سامان باہر پھینکنا شروع کیا ، میرے پاس رقم موجود تھی ، اسے دے دی کہ تو نے بھجوائی ہے” تمہارے پاس رقم کہاں سے آئی۔ ؟ صاحب! میں نے اپنی ترپال خریدنے کے لیے اپنی نتھلی بیچی تھی ناں۔

اس کا ناک خالی تھا۔ مگر آج ہی مجھے بھی پیسے مل گئے۔ مین نے اسے بولا تم یہ پیسے رکھو اور اپنے لیے ترپال بھی خریدو اور نتھلی بھی۔ شرارت سے بولی صاحب! انہیں تم رکھو ، تم بھی ایک خیمہ خرید لو کیوں روز روز اس کھڑوس سے بے عزتی کرواتے ہو۔ وہ گھاگرا گھماتی اپنی بکریوں کو ہانکتی دور نکل گئی۔ وہ اپسرا عجب اٹھلاتے ہوئے چلتی تھی۔

Latest posts by دعا عظیمی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *