عمران خان: اسلام آباد میں وزیر اعظم کے ’بغیر پروٹوکول‘ دورے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم بننے سے قبل عمران خان نے وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پھر ان کی ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آتی رہیں جن میں ان کے ساتھ افسران کی نفری تو کبھی پروٹوکول کا قافلہ نظر آتا۔

مگر اب عمران خان اور ان کی ٹیم کی جانب سے گذشتہ روز سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو لگائی گئی جس کا عنوان تھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان بغیر سکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ‘ خود کار چلا کر اسلام آباد کے عوامی مقامات کی طرف گئے ہیں۔

انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس ویڈیو پر کافی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس پر حکمراں جماعت کو سراہا جا رہا ہے اور ان کے مطابق وی آئی پی کلچر کے خاتمے سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔

جبکہ کچھ لوگوں نے اس پر تنقید کی ہے کہ یہ ’پبلیسٹی سٹنٹ‘ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ماہِ رمضان کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت بڑھتی مہنگائی کو قابو نہیں کر سکی ہے۔

ہم سمجھے کوئی سموسے، پکوڑے لینے آیا ہے

سرکاری سطح پر جاری کی گئی اس ویڈیو کی ابتدا میں عمران خان بظاہر خود گاڑی چلا کر جی الیون مرکز پہنچتے ہیں اور یہاں دکانداروں اور ٹھیلے والوں سے کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عملدرآمد کی گزارش کرتے ہیں۔

اور ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں ایک گانے کے بول ’کیسی یہ ہواؤں چلیں، امیدیں تجھ سے جڑیں‘ سنے جاسکتے ہیں۔ ساتھ کسی کی بھاری آواز میں کمنٹری بھی جاری رہتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے ’یہ جی الیون مرکز۔۔۔ پرائم منسٹر صاحب یہاں پہنچے ہیں۔۔۔ جائزہ لینے کے لیے۔۔۔ ہر ایک کے پاس جا رہے ہیں۔۔۔‘

وزیر اعظم کی ٹیم کافی فخر سے اس ویڈیو کو شیئر کر رہی ہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے لکھا کہ ’وزیراعظم عمران خان آج دوران ڈرائیونگ ہر بند سگنل پر رکے۔ سگنل کھلنے کا انتظار کیا۔‘

اس کے بعد عمران خان آئی نائن کے سیویج پلانٹ اور کورنگ کرکٹ گراؤنڈ بھی گئے۔

احساس پروگرام سے معاونت حاصل کرنے والے ان ریڑھی بانوں سے عمران خان کی گفتگو بھی ہوئی۔ بعد ازاں ان افراد کے انٹرویو بھی کیے گئے جن سے عمران خان کی بات ہوئی تھی۔

جب اس سموسے والے کا انٹرویو کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے ہمارا حال پوچھا۔۔۔ ہمیں خوشی ہے کہ وہ خود ہمارے پاس آئے ہیں۔ آج تک ہمارے پاس کوئی وزیر اعظم نہیں آیا۔ ہم یہ دیکھ کر ہی حیران ہوگئے۔‘

یہاں ایک بچہ بھی موجود تھا جس سے عمران خان نے بات کی تھی۔ اس نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’میں ان کی فوٹو کھینچنا چاہتا تھا مگر انھوں نے منع کردیا۔۔۔ میں پیغام دینا چاہوں گا کہ دوبارہ آئیں اور فوٹو کھینچنے دیں۔‘

ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ ’عمران خان سادگی سے بغیر پروٹوکول کے آئے تھے۔ ہم سمجھے کوئی سموسے پکوڑے لینے آیا ہے۔۔۔ خان صاحب (بے شک) سارے تھال اٹھا کر لے جاتے، ان کے لیے جان بھی حاضر ہے۔‘

سوشل میڈیا ردعمل: ’صبح کے وقت کون سموسے لگاتا ہے‘

جہاں ایک طرف عمران خان کو اس ویڈیو پر کافی سراہا جا رہا ہے تو وہیں دوسری طرف اس ویڈیو کو کافی شک کی نگاہ سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں دوپہر کا ماحول دیکھ کر بعض صارفین کا خیال ہے کہ ان اوقات میں تو کوئی بازاروں میں سموسے نہیں خریدتا۔

اویس اقبال نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’عمران خان کے دورے کے دوران اس ریڑھی والے کو پکڑا جائے جس کی ریڑھی پر رمضان میں صبح گیارہ بجے ہی سموسے تھے۔‘

آمنہ رضوی کو یہ سب ایک ڈرامہ لگا جس میں ’اسلام آباد کی وہی خالی جگہیں‘ دکھائی گئی ہیں۔

لیکن اس دوران عمران خان کے نامعلوم کیمرا مین بھی زیر بحث رہے جو پوری ویڈیو میں خود نمودار نہیں ہوتے۔

فاخر حسین بٹ لکھتے ہیں کہ ’کیمرا مین اور خان صاحب کو بغیر پروٹوکول کے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔‘

اسی طرح حمزہ نے تبصرہ کیا کہ ’ملک کا وزیراعظم خود گاڑی چلا کر اکیلا دورے کو نکل پڑا مگر مجال ہے کہ کیمرا مین کے بغیر باہر نکلے۔‘

عرصم طفیل بٹ کے مطابق ’حکومت میں کام کرنے والا واحد شخص عمران خان کا کیمرا مین ہے۔‘

مگر کئی افراد کو عمران خان کا یہ انداز کافی پسند بھی آیا ہے۔ جیسے فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ انھیں ’بھرپور انرجی میں دیکھ کر میرے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔‘

مریم کے مطابق ایسی ویڈیوز کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ’اصلاحات اور اقدامات کے علاوہ اس سے فی الحال ڈیمیج کنٹرول ہوسکتا ہے۔‘

مسز رضا نے لکھا کہ لوگ اسے پبلیسٹی سٹنٹ کہہ رہے ہیں ’مگر عمران خان جب سے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے کافی اصلاحات کی ہیں جو غیر مقبول رہیں۔‘

اس دوران اتوار کو وائرل ہونے والی ایک دوسری ویڈیو کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا جس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان باقاعدہ ڈانٹنے کے انداز میں سونیا صدف کو کہتی ہیں کہ ’آپ کی حرکتیں ہی نہیں ہیں اے سی (اسسٹنٹ کمشنر) والی۔‘

فرید احمد نامی صارف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’وزير اعظم نے آج عوامی توجہ اور ہمدردی کے ليے محنت کی مگر ميڈيا کا ميلہ فردوس نے لوٹ ليا۔‘

بہت سے صارفین نے یہ اظہار خیال بھی کیا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی وزیر اعظم یا اہم سیاسی شخصیت نے بغیر پروٹوکول کسی عوامی جگہ کا دورہ کیا ہوا۔

دانین فریرو لکھتی ہیں کہ ’مجھے مراد علی شاہ کی ایک ویڈیو یاد ہے جس میں وہ لوگوں کے ساتھ دہی بھلے کھا رہے تھے۔ لیکن شاید (سابق وزیر اعظم) شوکت عزیز کا دورہ زیادہ دلچسپ ہے۔‘

انھیں لگتا ہے کہ شاید ’عمران خان کے میڈیا پروموٹر نے شوکت عزیز کے ساتھ بھی کام کیا ہوا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp