کوئٹہ کی عائشہ طویل ڈپریشن سے نکل کر امن کی سفیر بن گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عائشہ کا تعلق بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے ہے۔ پست قامت ہیں، کائفوٹک مرض لاحق ہے۔ معاشرتی رویوں سے تنگ آ کر عائشہ نے اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا۔ بارہ سالہ خودساختہ قید کے بعد جب گھر سے باہر نکلیں تو امن کی سفر بن گئیں۔

والد صاحب قومی سلامتی کے ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ خاندان آٹھ بھائی، بہنوں پر مشتمل ہے۔ عائشہ کے علاوہ سب شادی شدہ ہیں۔ بڑے بھائی پیپسی میں ملازم ہیں، دوسرے نمبر کے بھائی کا دبئی میں بزنس ہے، تیسرے نمبر کے بھائی پراپرٹی ایڈوائزر ہیں جبکہ چوتھے بھائی ایم اینڈ پی سے وابستہ ہیں۔

عائشہ پیدائشی طور پر نارمل نظر آتی تھیں۔ بیماری کے اثرات آٹھ سے دس سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ والدین نے علاج کے لئے بہت بھاگ دوڑ کی۔ کوئٹہ، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے سارے نامی گرامی ڈاکٹرز سے رائے لی۔ مختلف ممالک کے ڈاکٹرز کو رپورٹس بھیج کر رائے لی گئی لیکن کہیں سے کوئی مناسب طریقہ علاج نہ مل سکا۔

عائشہ کا بچپن بہترین گزرا۔ والدین، بھائی بہنوں اور کزنز سے ہمیشہ بہت پیار ملا۔ کبھی احساس تک نہ ہوا کہ عائشہ ان سے مختلف ہیں۔

سکول جانے کی عمر کو پہنچیں تو والدین نے گھر سے نزدیک ترین سکول میں داخلہ کروا دیا۔ سکول کا دور بہترین گزرا۔ نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے مرض طول پکڑ گیا۔ لگاتار کرسی پر بیٹھے رہنا مشکل ہو گیا۔ سکول انتظامیہ سے خصوصی کرسی لانے کی اجازت مانگی گئی جسے قبول کر لیا گیا۔

اس طرح عائشہ اچھے نمبروں سے میٹرک کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مزید تعلیم کے حصول کے لئے کالج میں داخلہ لیا۔ عائشہ سمجھ رہیں تھیں کہ سکول کی طرح کالج میں بھی انہیں طالبات اور اساتذہ کرام کا پیار ملے گا جس کے سہارے یہ باآسانی کالج کی تعلیم مکمل کر پائیں گئیں۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ کالج میں لڑکیوں کے تضحیک آمیز رویے اور چھیڑ چھاڑ نے انہیں اتنا تنگ کیا کہ عائشہ تعلیم چھوڑ کر گھر میں قید ہو گئیں۔

میٹرک کے بعد عائشہ نے پڑھنے اور کچھ کرنے کے جذبے سے کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن کالج میں ان کی پست قامت اور کمر کے کوب(کبڑے پن) پر جملے کسے جانے لگے۔ کالج کی لڑکیوں کے سطحی القابات عائشہ کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ ہر وقت کی چھیڑچھاڑ اور بدتمیزی سے جلد ہی عائشہ تنگ ہونا شروع ہو گئیں۔

والدین کا رویہ عائشہ کے ساتھ ہمیشہ سے دوستوں والا رہا ہے۔ اس لیے ہر مسئلے پر والدین سے رائے لے لیتی ہیں۔ والدین نے یہ سوچ کر کالج تبدیل کروایا کہ شاید دوسرے کالج میں ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن دوسرے کالج میں ہونے والا سلوک توقعات کے برعکس تھا یہاں لڑکیاں مذاق کرنے کے ساتھ ساتھ عائشہ کو چھونے سے بھی گریز نہ کرتیں۔ بات کالج کی پرنسپل تک پہنچی۔ جنھوں نے حوصلہ افزائی کے بجائے عائشہ کو کالج چھوڑنے کا مشورہ دے ڈالا۔

عائشہ نے دلبرداشتہ ہو کر کالج چھوڑ دیا۔ والدین نے حوصلہ افزائی کرنے کی بہت کوشش کی لیکن عائشہ نے کسی کی نہ سنی۔ گھر سے باہر نکلنا، شاپنگ کرنا، حتیٰ کے شادی بیاہ تک میں جانا چھوڑ دیا۔ لوگوں کے تلخ جملے خوابوں میں بھی عائشہ کا تعاقب کرتے۔ عائشہ سوتے سوتے اٹھ جایا کرتیں اور پھر خوب رویا کرتیں۔ عائشہ کے دل میں ایک بات سما چکی تھی کہ شاید یہ بہت بڑی گناہ گار ہیں اس لیے خدا ان کی دعا قبول نہیں کرتا۔

کچھ عرصہ قبل عائشہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ عمرہ کرنے گئیں۔ سب چاہتے تھے کہ عائشہ ویل چیئر پر عمرہ کریں تاکہ انھیں صحت کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خدا کا گھر دیکھتے ہی عائشہ نے اپنے اندر ایک عجیب سی طاقت محسوس کرنے لگیں اور بغیر ویل چیئر کے چار عمرے ادا کیے۔ عمرے کی ادائیگی کے دوران عائشہ ریاض الجنۃ سے جنت البقیع جانے کی تیاری کر رہی تھیں اچانک ایک پاکستانی خاندان نمودار ہوا۔ عائشہ کو دیکھتے ہی انھوں نے جملے کسنا شروع کیے اور ان کی کمر کے ابھار کو چھوتے ہوئے گزر گئے۔

اس حرکت نے عائشہ کو گہری سوچ میں مبتلا کر دیا۔ عائشہ سوچنے لگیں کہ اگر خدا کے گھر میں بھی کمزور لوگ طاقتوروں کے ہاتھ اور زبان سے محفوظ نہیں ہیں تو کہیں بھی نہیں ہیں۔ اس واقعے کے بعد عائشہ نے ہمت کرنا شروع کی گھر سے باہر نکلنا شروع کیا لیکن معاشرتی رویوں نے اتنا تنگ کیا کہ عائشہ دوبارہ سے خود ساختہ قید میں چلی گئیں۔

عائشہ کی سوشل میڈیا پر ساونت کمار نامی ایک ہندو سے دوستی ہو گئی۔ ساونت نے عائشہ سے کہا کہ آپ نے کیوں اپنے آپ کو قید کر رکھا ہے۔ جس پر عائشہ بولیں کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ ساونت نے عائشہ کو ایک ڈاکومینٹری بھیجی جس میں یہ بتایا گیا کہ انسان جیسا سوچتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکومینٹریز نے عائشہ کو دوبارہ سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ عائشہ نے اپنا ڈس ایبلٹی سرٹیفکیٹ بنوایا اور گھر سے باہر نکلنا شروع کر دیا۔

پھر ایک دن عائشہ کی بڑی بہن کی ملاقات بلوچستان کی مشہور ایکٹوسٹ زرغونہ ودود سے ہوئی۔ زرغونہ نے عائشہ کے بارے میں سنتے ہی انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اپنی این جی او انسیپشن کا حصہ بنا لیا انہیں بھرپور رہنمائی فراہم کی۔ پھر عائشہ کی ملاقات کوئٹہ آن لائن کے ضیاء اور این وائی سی پی کے حسین حیدر سے ہوئی جنھوں نے عائشہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

یوں ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس وقت عائشہ انسیپشن، این وائی سی پی اور کوئٹہ آن لائن کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ عائشہ خواتین معذوری اور امن کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ مختصر سے عرصے میں عائشہ امن کے سفیر کے طور پر پہچانی جانے لگیں ہیں۔

مستقبل میں عائشہ تعلیمی سفر کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ موٹی ویشنل سپیچز کے ذریعے گھروں میں بیٹھی خصوصی خواتین کو رہنمائی فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ بلوچستان میں خصوصی خواتین کے کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہیں اور اپنے صوبے کو امن کا گہوواہ بنانے کی خواہش رکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *