ان سے ملیے بڑے سلیقے کے لوگ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزمیؔ صاحب سے ہمارے تعلق کو برسوں بیت گئے لیکن آج تک بزمیؔ صاحب ہماری سمجھ میں آئے ہیں اور نہ ان کے ساتھ ہمارے تعلق کی وجہ۔ کوئی شوق، کوئی دلچسپی، کوئی پسند مشترک نہیں، پھر بھی روزانہ گھنٹوں ملاقات رہتی ہے۔ دفتر میں اور بھی ’۔ کولیگز‘ ہیں لیکن ہمارے ساتھ ان کا التفات زیادہ ہے۔ صبح صبح ہی دفتری امور نمٹانے کے بعد وہ ہمارے پاس تشریف لے آتے ہیں۔ معمول یہ ہے کہ ہمارے کمرے میں آتے ہی وہ پہلے سیدھے واش روم جاتے ہیں۔

اور واپسی پر اپنے گیلے نچڑتے ہاتھوں سے ہمارے ساتھ بڑا پر تپاک مصافحہ کرتے ہیں۔ ہم اس بھیگے ہاتھوں مصافحے سے لاکھ بھاگتے ہیں لیکن پکڑے جاتے ہیں اور یہ کوئی عام سا مصافحہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل اور گمبھیر مصافحہ ہوتا ہے جس میں ہمارے ہاتھوں سے تولیے کا کام لیا جاتا ہے۔ بخدا ہمیں مصافحے پہ ہرگز اعتراض نہیں! ہماری خواہش تو فقط اتنی ہے کہ مصافحے کا عمل اگر ہاتھ گیلے کرنے سے پہلے ہو جائے تو کیا اچھا ہو۔

اور اس جبری مصافحے پر ہی کیا موقوف ہے! بزمیؔ صاحب کا ہر عمل اسی ”محبت“ سے لبریز ہوتا ہے۔ گفتگو فرماتے وقت وہ مخاطب کے بالکل قریب ہو جاتے ہیں۔ اس پہ مستزاد یہ ہے کہ کسی مردم بیزار حکیم صاحب نے انہیں صبح نہار منہ کچے لہسن کی چند ”تریاں“ کھانے کا مشورہ دے رکھا ہے۔ انہوں نے اس مشورہ پر یوں عمل کیا ہے کہ ”چند“ کو ہٹا دیا ہے۔ ہمارے خیال میں وہ روزانہ صبح کوئی چھٹانک بھر لہسن نوش جاں کر کے دفتر تشریف لاتے ہیں۔

اور پھر دفتر میں ”جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے“ کے مصداق پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر فرماتے ہیں کہ وہ دفتر والوں کو منہ نہیں لگاتے۔ ادھر دفتر والے بھی ان کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔ اب اللہ جانے کس کا دعویٰ سچا ہے۔ ہمارے پاس تشریف لاتے ہیں تو ان کی آمد کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ کہ ” ’خوشبو‘ بتاتی ہے کہ وہ سفر میں ہے“ ۔ اپنے حکیم صاحب کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ لہسن کھانے سے خون کی گردش بہتر ہو جاتی ہے!

ہوتی ہو گی! لیکن بھئی! انہیں دیکھ کر اپنی گردش تو رکنے لگتی ہے۔ اور جہاں تک ان کے حکیم صاحب کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ ایک مرتبہ ایک معروف گلوکارہ پشاور میں سٹیج پر گا رہی تھی کہ اسی دوران ایک خاں صاحب نے اپنی کلاشنکوف کا ’بولٹ‘ چڑھایا اور سٹیج پر آ گئے۔ گلوکارہ گھبرا گئی تو اس پر خاں صاحب کہنے لگے، ”بہن! تم گاتا رہو، تم ہمارا میمان ہے، ہم تو اسے ڈھونڈتا ہے جو تمہیں یہاں لے کر آیا ہے۔“ بزمیؔ صاحب کے لہسن کھانے پر ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں! ہم تو بس اس حکیم کو ڈھونڈتے ہیں جس نے انہیں اس کا مشورہ دیا ہے۔

بزمیؔ۔ ؔصاحب کو غیبت سے نفرت ہے۔ اس کا نام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ ان کی باتوں میں غیبت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ البتہ لوگوں میں جو برائیاں موجود ہیں ان کا تذکرہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ کسی کی انتہائی برائی مقصود ہو تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے آنکھیں پھاڑ کر سر گو شی کے انداز میں بات کرتے ہیں۔ ایک دن عرض کیا، ”حضور! یہی تو غیبت ہے“ ۔ اس پر باقاعدہ الجھ پڑے۔ فرمانے لگے۔ ”میں محض لوگوں کے احترام و اکرام میں ان کی ناپسندیدہ باتیں ان کی عدم موجودگی میں کرتا ہوں! مقصد ان کی دل آزاری سے بچتے ہوئے ان کی اصلاح کرنا ہے۔ بھئی ملک صاحب! آپ کو اتنا عرصہ گزر گیا میرے ساتھ رہتے ہوئے، آپ کو اتنا سا فہم بھی نہیں ہے“ ۔ اب کیا عرض کرتے کہ جناب! ہماری کم فہمی کی وجہ بھی تو آپ کا طویل ساتھ ہی ہے۔

یوں تو بزمیؔ صاحب کا کوئی قول و فعل کبھی بھی باعث سکون نہیں رہا لیکن ان کے ساتھ کھانا پینا تو حد درجہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ وہ کسی انجانے خوف کے پیش نظر بہت تیزی سے کھاتے ہیں۔ منہ ابھی بھرا ہوتا ہے کہ اس میں ایک اور نوالہ ٹھونس لیتے ہیں۔ اس پر مستزاد تیز گفتگو حسب عادت جاری رہتی ہے بلکہ اس میں اور بھی تیزی آ جاتی ہے۔ خوراک کے اجزاء نیچے گرتے پڑ رہے ہوتے ہیں اور ”تبرکاً“ ساتھ والوں کے کھانے کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔

ایسے میں جب کبھی وہ قہقہہ لگاتے ہیں تو گویا کھانے کی میز پر ”خودکش دھماکہ“ ہو جاتا ہے۔ قہقہے کے ”اثرات“ سے بچنے کے لئے ہماری حتیٰ الوسع کوشش ہوتی ہے کہ کم از کم کھانے کے دوران کوئی ہنسی کی بات نہ ہو۔ لیکن ستم یہ ہے کہ بزمیؔ صاحب کا قہقہہ کسی مزاحیہ بات کا محتاج نہیں، وہ اپنی ہی کسی ایسی بات پر زوردار قہقہہ لگائیں گے جس پہ، اصولی طور پر، رونا چاہیے۔ بخدا! بزمیؔ صاحب کے متعلق ہماری رائے بھی باقی دفتر والوں سے چنداں مختلف نہیں اور کئی دفعہ سوچا بھی کہ اس کا اظہار کر دیں، لیکن یہ کم بخت مروت ہمیشہ آڑے آ جاتی ہے۔

ایک دن فرمانے لگے، ”آج دفتر کے بعد تیار رہیے گا، ذرا بازار تک چلیں گے“ گھر پہنچے تو تھوڑی دیر میں وہ حسب معمول اپنی بائیک پر تشریف لے آئے۔ میں نے اپنی گاڑی نکالی اور بازار روانہ ہو گئے۔ بزمیؔ صاحب کے ساتھ سفر گویا ”suffer ’کرنا ہوتا ہے۔ وہ فرنٹ سیٹ پر آپ کی طرف رخ کرتے ہوئے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں گے اور آپ کا بایاں کندھا پکڑ کر باتیں شروع کر دیں گے۔ بہرحال! اس روز رات گئے تک انہوں نے“ ونڈو شاپنگ ”کی اور پھر ایک ریسٹورنٹ پہ رکتے ہوئے فرمانے لگے کہ بھوک لگی ہے۔

اندر گئے تو انہوں نے حسب عادت آرڈر دے دیا۔ یاد رہے کہ بزمیؔ صاحب ہمیشہ صرف آرڈر دیتے ہیں، سالوں گزر گئے بل وغیرہ دینے کا تکلف کرتے کم از کم میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ ریسٹورنٹ کا ’ہیڈ ویٹر‘ اتفاق سے میرا ”گرائیں ’نکلا۔ کھانے کے دوران مجھے ایک شرارت سوجھی۔ موقع پا کر میں نے اپنے گرائیں سے کہا کہ بل‘ صاحب ’سے وصول کر لیجیے گا۔ کھا نے کے بعد میں کسی بہانے باہر نکل گیا اور موبائل بند کر لیا۔ باہر اندھیرا تھا اور اندر کا منظر نظر آ رہا تھا۔

کافی انتظار کے بعد جب جناب اٹھنے لگے تو ویٹر بل لے کر آن دھمکا۔ آپ نے ویٹر کو بڑا سمجھایا کہ بل تو ساتھ والے نے دینا ہے، انہیں تو یہ ’کام‘ آتا ہی نہیں۔ اس دوران انہوں نے فون بھی کیے، مجھے دیکھنے باہر بھی آئے۔ میں نے گویا ”سلیمانی ٹوپی“ پہن لی تھی۔ خیر! انتہائی پریشانی کے عالم میں انہوں نے بل ادا کیا۔ ان کی کیفیت بالکل ایسی تھی جیسے کسی کی ”ہارٹ اٹیک ’یا‘ برین ہیمرج ’ہونے سے پہلے ہوتی ہے۔ واپسی پر اس گستاخی کے لئے میں نے کئی بہانے کیے لیکن وہ نہ مانے۔

اگلے دن دفتر میں وہ میرے پاس تشریف نہیں لائے۔ بڑا ”پر اضطراب سکون“ محسوس ہو رہا تھا۔ ڈر تھا کہیں آ نہ جائیں۔ کسی کام سے باہر نکلا تو ایک دوسرے دفتر میں میری نظر پڑی، وہ ایک صاحب کے ساتھ بیٹھے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ روئے سخن کس کی جانب تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *